خلل ہے دماغ کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا ہمیشہ اپنے والدین اور اساتذہ کے منہ سے ”عظیم انسانوں“ کی کہانیاں، حالات زندگی اور افکار کا ذکر ہی سنا۔ کیسے نیل آرم سٹرانگ خلاباز بنے، لنکن کے بچپن کی اضوبتیں اور جانے کیا کیا، مگر جب حقیقی زندگی میں قدم رکھا تو جا بجا بد حواسی اور ناکامیوں سے ہی سامنا ہوا۔ ہم نے جانا کہ احساسات کی دنیا تو حقیقت سے میل نہیں کھاتی۔ خیر کمر پر بستہ لٹکائے بستی بستی پھرا مسافر۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سال ہا سال کی تعلیم کے بعد نہ کوئی عادت بدلی نہ انداز فقر۔ لیکن ایک راہ فرار ہم نے ضرور ڈھونڈ لی جہاں ہم وقتاً فوقتاً غم غلط کرنے آ جاتے اور من کا بھید تلاش کرنے کی سعی کرتے۔ عظیم انسان کی تلاش میں ہم نے اپنی جان کو رنگ برنگے روگ لگائے۔ کبھی کتب کا جنون پالا، کبھی انسانوں کو کرید کرید کر دیکھا، زلف جاناں سنوار کر دیکھی، یزداں کو نہار کر دیکھا

کیا ملا اس کا تعاقب کر کے
گرد آنکھوں میں پڑی ہے ساری

مگر نتیجہ نکلا کے انسان ایسے ہی ہوتے، ٹھوکریں کھاتے، ہارتے، روتے ہچکولے کھاتے۔ انسانی زندگی کا گراف بھی منحنی/ Sinusoidal واقع ہوا ہے، ایک لمحہ زندگی سے بھرپور تو دوسرے لمحے اشک بار اس مشت خاک کے خمیر میں ہی کچھ ایسا ہے۔

تو آپ بھی زندگی سے بیزار مت ہوئیے۔ بڑے بڑے سائنسدان گمنامی کی زندگی بسر کرتے ہیں مگر ہماری دنیا میں چراغاں انہی کے دم سے ہے۔ کبھی طبیعیات، ریاضی اور طب کے عمیق کنویں میں اتر کر دیکھیں کہ آج کی روشن صبح کے پیچھے کتنے اندھیرے پوشیدہ ہیں۔ دنیا کو آج بھی ایک محنتی، اچھے اور ہنس مکھ انسان کی ضرورت ہے۔ آج کے انسان کا المیہ ہے کہ وہ محرک کی بجائے موٹیویشن کے پیچھے جان گنواتا ہے۔ زندگی میں ایک جاندار محرک ڈھونڈیں جو آپ کی زندگی میں نئی روح پھونک دے۔

موجودہ دور کا انسان طرح طرح کے منشیات کا شکار ہے۔ آج سائنس اس بات سے آگاہ ہے کہ ہر وہ چیز جو آپ کو وقتی یا دیر پا خوشی دیتی ہے اس سے ہمارے دماغ میں ڈوپامین/Dopamine نامی رطوبت خارج ہوتی ہے جو نشا آور اشیاء کے استعمال سے بھی خارج ہوتی ہے۔ یعنی زندگی کہ مقصد محض خوشی کا حصول نہیں۔ درد واحد احساس ہے جس سے انسانی جسم عادی نہیں ہوتا اور اپنی شدت برقرار رکھتا ہے۔ سائنس کے مطابق انسانی نشوونما کے لیے درد نہایت کار آمد ہے، جو ہمیں خطرے سے باز بھی رکھتا ہے اور سبق بھی دیتا ہے۔ جب بھی میری اماں جان گھر میں افراتفری اور بد حواسی کا سماں دیکھتی وہ کہتی ”خلل ہے دماغ کا“ اور آج سمجھ آیا کہ انسانی ترقی ہو یا تنزلی کہیں نہ کہیں ضد اور انا ہی تو کار فرما تھی اور یہ خلل ہی تو ہے جو اتنے بڑے گولے پر بسنے والوں کو سو مصائب کے باوجود چلا رہا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عثمان ارشد کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments