ہم موت کی اذیت کو گلوریفائی کیوں کرتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بچہ جب بچپن سے لڑکپن کے سفر میں ہوتا ہے تو استاد، والدین اور اس دور کے ڈراموں کے کردار یا وہ کردار ادا کرنے والے فنکار اس کے شعور پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ ساری زندگی بات چیت، معاملہ فہمی، فیصلہ سازی، کیریئر کے چناؤ حتی کہ کسی حد تک نصیب میں بھی بہت حد ان کرداروں کا اثر رہتا ہے۔

ایک اوسط ذہانت یا قابلیت کے مرد کی زندگی کے پہلے بیس سال تو شاید ماں باپ کے زیر سایہ جیسے تیسے گزر ہی جاتے ہیں لیکن اگلے بیس کیسے پر لگا کر اڑتے ہیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا۔ چالیس کے لگ بھگ کہیں جا کر زندگی کی کوئی سمت متعین ہوتی ہے اور آسودگی کا وقت شروع ہوتا ہے لیکن پھر یہی وہ عرصہ ہوتا ہے جب وہ اپنی زندگی پر سب سے زیادہ اثرانداز ہونے والے ان کرداروں کو آہستہ آہستہ کھونا شروع کرتا ہے۔

کسی دفتر، مال، بازار، راستے میں یا فیسبک پر اچانک کوئی سکول یا کالج کا کوئی دوست ملتا ہے پرانی یادیں تازہ ہوتی ہیں اور پھر باتوں باتوں میں وہ کسی ٹیچر کے موت کی خبر دیتا ہے اور ذہن میں اس دور کی اچھی بری باتیں کسی فلم کی طرح چلنے لگ جاتی ہیں۔ سکول یا کالج کے دور میں ظاہر ہے ٹیچر ایک بڑا پاور فل کریکٹر ہوتا ہے اور اس بات کو ہضم کرنا کہ کیسے وہ بیمار ہو گیا یا مر گیا بڑا مشکل ہے۔

انسان کے لیے سب سے زیادہ اذیت کا وقت اپنی ماں یا باپ کو مرتے دیکھنا ہے اور اس سے بھی زیادہ اذیت ناک وہ وقت جب کسی بڑے آرگن کے فیل ہونے پر آنکھوں کے سامنے دھیرے دھیرے موت کے منہ میں جاتے ہوئے بے بسی سے دیکھنا۔ اس صدمے کی وجہ ہوتی ہے کہ ایک ٹین ایجر کے لیے ماں ایک دیوی اور باپ ایک دیوتا جسے ہوتے ہیں جو ایک سائے کی طرح ہر تکلیف اور پریشانی سے اسے محفوظ رکھنے ہیں۔ اور وہ دور جب اولاد خود ویسا ہی کردار نباہ رہی ہو اس کے لیے اپنے والدین کو اس بے بسی میں دیکھنا بڑی اذیت کی بات ہے۔

وہ خوبصورت اداکار، گلوکار، میزبان اور لکھاری جنہوں نے نوے کی دہائی میں ہمیں انٹرٹین کیا۔ ہم مانیں نہ مانیں ہماری شخصیت اور مزاج پر کسی نہ کسی طرح اثرانداز ہوئے۔ جیسے دنیا کا چلن ہے وہ اب آہستہ آہستہ مر رہے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے کسی بھی دوسرے پیشے سے منسلک لوگ اس قدرتی عمل کے تحت بیماریوں، تکلیفوں سے گزرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پچھلے کچھ عرصہ سے یہ چلن بہت عام ہو گیا ہے کہ کوئی بھی یوٹیوبر کسی بیمار اداکار کی عیادت کے لیے جاتا ہے۔ اپنا کیمرا ان کرتا ہے کچھ دکھی باتیں ان کے منہ سے نکلواتا ہے اور ایک اداس سے بیک گراؤنڈ میوزک کے ساتھ سوشل میڈیا پر چڑھا دیتا ہے۔ اب وہ عوام جو اس فنکار کے لیے دلی ہمدردی رکھتی ہے اس طرح کی وڈیوز کو شیئر کرنا شروع کر دیتی ہے اور پورا ملک ایک عجیب سوگواری کی کیفیت میں چلا جاتا ہے۔

عمر شریف فیملی کی یہ بات مجھے بڑی اچھی لگی کہ انہوں اپنی فیملی وڈیوز کے وائرل ہونے پر بڑی برہمی کا اظہار کیا تھا کہ فیملی کے لیے بنائی گئی ویڈیو کسی نے سوشل میڈیا پر لگا دیں۔ زرد چہرے، ہسپتال کے کپڑے، جسم پر لگی نالیاں اور چہرے پر کرب دیکھنے والوں کو بڑا دکھی کرتا ہے اس رواج کو ختم ہونا چاہیے۔ نائلہ جعفری، مستانہ، عابد خان، ببو برال اور ایسے کئی اور لوگوں کے ساتھ یہ کیا گیا۔ معاشرہ جو اس معاملے میں کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے اسے اس موت کے قرب سے گزرتے فنکاروں کی اذیت میں شامل کرنا بڑی زیادتی ہے۔ پتہ نہیں ہم اس اذیت کو اتنا کیوں گلوریفائی کرتے ہیں؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments