مڈل کلاس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مڈل کلاس معاشرہ کا وہ طبقہ ہے جو ہمیشہ دو کشتیوں پر سوار ہوتا ہے، اس کی ایک ٹانگ روایات، مذہب اور اقدار پر ہوتی ہے اور دوسری ٹانگ ترقی پسند سوچ پر۔ وہ زندگی میں آگے بھی بڑھنا چاہتے ہیں لیکن ماضی کی چادر اوڑھ کر۔ اس دوہرے عذاب کا بوجھ لادے آخرکار اپنے ہی طبقے کے دریا میں زندگی گزار کر اس دنیا سے چل بستے ہیں۔ اس طبقے کا بنیادی اصول قدامت پسندی ہے لیکن یہ اصول اکثر ترقی پسند سوچ کے مخالف ہوتا ہے تو اس طرح ان کی کشتیاں وہ بھی دو جن کی سمت بھی ایک دوسرے کے مخالف ہو آپ خود سوچئے اس سوار کا کیا بنے گا جو ان پر سوار ہو گا۔ یہ طبقہ چاہتا ہے کہ ان کو مالی آسودگی تو حاصل ہو مگر روایات قائم رہیں حالانکہ مالی آسودگی نئی سوچ، مختلف ثقافت اور زندگی کا رہن سہن ساتھ لاتی ہے مگر نہیں ان کے وہی ڈھاک کے تین پات۔

بچپن میں مڈل کلاس اپنے بچے کے ساتھ بڑا ناروا سلوک روا رکھتی ہے۔ سب کھیلوں پر پابندی لگا کر صرف پڑھائی، پڑھائی اور پڑھائی کے مقولہ پر عمل کرایا جاتا ہے تاکہ بچے کا مستقبل روشن ہو مگر ہم کو یہ سمجھ نہیں آتی جس کا حال بے حال ہے اس کا مستقبل کیسے روشن ہو گا۔ بچوں کو ہمیشہ یہ نادر شعر سنایا جاتا ہے

پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب
کھیلو گے کودو گے ہو گے خراب

اس طرح بچپن بچوں کا ہدایات کی گٹھڑی سنبھالے گزر جاتا ہے اور اس کا تخیل ماند پڑ جاتا ہے اس لیے بچے بڑے ہو کر کبھی بھی نواب نہیں بنتے مگر کلرک بھرتی ہو جاتے ہیں۔

مڈل کلاس اپنے بچوں کی شادی اچھے خاندان میں کرنا چاہتی ہے اچھے خاندان کی تعریف یہ ہے کہ پیسے کثیر ہوں لیکن ذہنی غریب ہوں مطلب روایاتی لوگ ہوں جو حسب نسب کا خیال رکھتے ہوں۔ لڑکی کھانا بنانے میں طاق ہو مگر کپڑے برانڈڈ پہنتی ہوں۔ لڑکی شرم و حیا کی پابند ہو لیکن جدید فیشن کا علم ہو تاکہ خاندان کی ناک کٹ نہ جائے۔ جام فرماتے ہیں کہ مڈل کلاس میں بہو کو چننا سب سے مشکل کام ہے۔ نجانے کتنے مراحل کے بعد بہو منتخب ہوتی ہے لیکن شادی کے بعد اسی بہو کو گالیاں دی جاتی ہے۔ آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ غلطی لڑکی میں تھی یا منتخب کرنے والے میں؟

مڈل کلاس کے چھوٹے چھوٹے ارمان ہوتے ہیں مثلاً میرا بنگلہ چار کنال پر ہو، جدید ترین کار ہو اور بچے شہر کے مہنگے ترین سکول میں پڑھیں وغیرہ وغیرہ۔ ان چھوٹے چھوٹے ارمانوں کے لیے پیسے کہاں سے لائیں لیکن خواب دیکھنے پر پابندی نہیں۔ مڈل کلاس اپنے ارمان مہران گاڑی لے کر، پانچ مرلے کا مکان بنا کر، گلی کی نکڑ پر انگریزی سکول میں بچے داخل کروا کر اور بھائی کی بیٹی کو اپنی بہو بنا کر پورے کرتے ہیں۔

مڈل کلاس میں مزید خوبیاں بھی ہیں کہ اپنا نیا گھر پرانے محلے میں بناتے ہیں جہاں بچپن گزارا ہوتا ہے جس کی گلیوں میں ان کی پرانی مہران بھی دلہن بن کر پھرتی ہے اور محلے کے سارے بچے پیچھا کرتے ہیں اور کتے چوہدری صاحب کی کار پر بھونکتے ہیں۔ گھر کے باہر جلی حروف میں چوہدری ولاز کی تختی لگائی جاتی ہے۔ ہم نے مڈل کلاس کی چند ایک خوبیاں گنوائیں ہیں ہم کو قوی یقین ہے ان میں سے ایک پر بھی آپ یقین نہیں کریں گے۔

 

Latest posts by ڈاکٹر محمد کلیم (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments