ایک تصویر ہوجائے پھر ؟ ابے کیمرہ نکال ویڈیو تو بنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری ہتھیلی پر ایک دنیا دھری ہے جب چاہا اس دنیا کو انگوٹھے کی مدد سے چلایا اور کسی بھی جگہ پہنچ گئے۔ اس دنیا کو موبائل

کہتے ہیں۔ اس کو سیل فون بھی کہتے تھے۔ مگر اب اس کو اسمارٹ فون مانا اور کہا جاتا ہے۔ عجب دور ہے اور اتنا عجب ہے کہ فون اسمارٹ ہے اور لوگ غیر اسمارٹ، خیر!

اسمارٹ فون انسانی وقت کو دیمک کی طرح کھاتا ہے اور انسان کو خبر بھی نہیں، روزانہ کئی کئی گھنٹے موبائل پر استعمال ہو جاتے ہیں مگر خبر بھی نہیں ہوتی ہے۔ اسمارٹ فون میں کیمرا بھی موجود ہے اور بد قسمتی یہ ہے کہ اس کیمرے میں ریل نہیں ڈلتی۔ عکاسی کرتے جاؤ جتنی چاہو، کوئی خرچہ ہی نہیں۔

یہ موبائل فون ویسے تو بہت کام کی چیز ہے، یعنی اسمارٹ فون آپ کو اسمارٹ بھی بنا سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا استعمال کام کے لئے ہو اور اس سے صرف وقت کی بربادی ہو تو کیا فائدہ ایسی اسمارٹنس کا ۔ ہر چیز کا استعمال اعتدال میں ہو تو اچھا رہتا ہے اور اگر اعتدال کا دامن چھوڑ کر زیادتی ہو جائے تو پھر گڑبڑ ہوجاتی ہے۔ یہ حال پاکستانیوں کا ہوا جنھوں نے اسمارٹ فون کے کیمرے کا بے دریغ استعمال کیا اور ایسے ایسے موقع پر استعمال کیا کہ حیرت کو بھی حیرت ہونے لگی۔

اسمارٹ فون انسان کی سہولت کے لئے بہت کار آمد چیز ہے لیکن اگر کوئی بھی چیز اخلاق کی بارڈر لائن کو پار کریں گی تو وہ سہولت بری محسوس ہوگی۔ ذاتی مشاہدے میں چند ایسے لوگوں کو دیکھا ہے کہ جب افسوس اور غصہ ساتھ ساتھ آیا۔ کچھ عرصے پہلے ایک جنازے میں ایک ادھیڑ عمر شخص کو دیکھا جو موبائل فون سے ویڈیو بنا رہا تھا۔ وہ شخص مرنے والے باپ کے بیٹے کی ویڈیو بنا رہا تھا کہ جب لوگ اسے تعزیت دے رہے تھے اور بیٹا بلک بلک کے رو رہا تھا۔ وہ بیٹا مشہور سماجی شخصیت ضرور تھا مگر انسانیت کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں اور ایسے موقع کا احترام الگ ہوتا ہے۔

یہ کچھ گزشتہ دنوں ہوا کہ جب ایک مشہور شخصیت کی تصویر دیکھی جو بہت زیادہ لاغر اور بیمار تھا۔ وہ مشہور شخص ضرور تھا مگراس کا قطعی یہ مطلب نہیں تھا آپ نے اپنی شوشہ کے لئے اس مریض کی تکلیف بھری تصویر موقع غنیمت جان کر اتار لی اور پھر وہ وائرل کردی۔ یہ حرکت قریبی رفقاء کو بھی بری لگتی ہے مگر وہ بدمزگی کی وجہ سے ٹوکتے نہیں ہے۔ کم سے کم خود احساس کر لیا کیجئے۔ تکلیف بھری وہ تصویر اب ہمیشہ موجود ہیں گی اور اس مرحوم کے پیاروں کو تکلیف دیتی رہے گی۔

یہ ہی ستم نہیں اسپتال میں بستر مرگ پر پڑے شخص کے ساتھ ہنس ہنس کر سیلفی اتاری جاتی ہے مگر کوئی شرم نہیں آتی۔ جنازوں کی باقاعدہ مختلف طریقوں سے تصویر اتاری جاتی ہے۔ بلکہ ایسے ایسے عجیب لوگ دیکھنے میں آئیں ہیں جو قبر میں اتارے گئے مردوں کی تصویریں بھی مختلف زاویوں سے لیتے ہیں۔

تصویریں اب مسجدوں سے بھی آتی ہے اور وہ بھی نماز سے پہلے اور نماز کے بعد ۔ اور تو اور کچھ اس قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو ایکسیڈنٹ کے بعد کے مناظر کو باقاعدہ کومینڑی کے ساتھ فلماتے ہیں جس میں آخری سانسیں لیتے ہوئے لوگ بھی نظر آتے ہیں اور جسم کے کٹے ہوئے اعضاء بھی۔ لیکن اس ویڈیو بنانے والی مخلوق کے اندر گر اخلاقیات ہو تو سمجھ میں آئے کہ ہم جو کام کر رہے ہیں یہ انتہائی نامناسب ہے اور غیر اخلاقی ہے۔

یہ بار بار تصویریں اتارنا اور بالخصوص ہر موقع کی تصویریں اتارنا ایک ذہنی بیماری بن چکی ہے جو اب کافی بڑی تعداد میں لوگوں میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ بیماری ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے جو معاشرے میں بے حسی کی فضا کو پروان چڑھا رہی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments