بیانیہ کی جنگ ابلاغ کے میدان میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلی دو دہائیوں میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں حیران کن انکشافات اور ایجادات نے زندگی کا معمول یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ پہلے جن چیزوں کی بابت انسانی تخیل رسائی سے بھی قاصر تھا آج وہ چیزیں انسانی زندگی کا نا گزیر حصہ بن چکی ہیں اس پر مستزاد کہ اس سرعت سے کرتی ترقی نے زندگی کے تقریباً تمام شعبہ ہائے جات کو بالواسطہ یا بلا واسطہ متاثر کیا ہے۔

انہیں میں سے ایک شعبہ ابلاغ کا بھی ہے جسے اس سرعت سے کرتی ترقی نے نا قابل یقین حد تک متاثر کیا ہے۔ ابلاغ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی اس کرہ ارض پر انسانی تاریخ مگر ابلاغ کے شعبے میں جتنی ترقی پچھلی دو سے تین دہائیوں میں ہوئی ہے اتنی تو بلا مبالغہ پچھلی کئی صدیوں میں نہیں ہوئی۔

تاریخ میں ابلاغ کے موضوع پر ورق گردانی سے ہم پر یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ طاقتور گروہوں نے ابلاغ کو ہمیشہ اپنی برتری، بالادستی برقرار اور اپنے ظلم و زیادتی کے گھناونے واقعات کو پس پردہ رکھ کر اپنا تسلط مستحکم رکھنے کے لیے استعمال کیا مگر آج کے زمانے میں جدید ذرائع ابلاغ کے توسط سے بنا ”Filtered“ خبروں تک عوام کی رسائی نے طاقتور گروہوں کے اپنے آپ کو پارسا ثابت کرنے کے پر فریب بیانیہ پر بری طرح گزند لگائی ہے۔

اس کی تازہ مثال عرصے سے جاری اسرائیلی افواج کی فلسطینیوں پر ریاستی دہشت گردی کی حالیہ لہر اور 9 / 11 کے بعد افغانستان میں امریکہ کی مہم جوئی کے دوران نظر آئی جہاں (چند ایک استثناء کے علاوہ) تمام عالمی میڈیا یک طرفہ بیانیہ کو فروغ دے کر پیشہ وارانہ بد دیانتی کا مرتکب ہوا۔ مگر جدید ذرائع ابلاغ خصوصاً سوشل میڈیا نے اس یک طرفہ اور جانبدارانہ صحافت کو طشت از بام کر کے طاقتور گروہوں کو باور کرایا کہ ابلاغ کو قابو کرنے کے لیے ان کے ہتھکنڈے اب کلی طور پر کارگر نہیں رہے۔

عامتہ الناس میں اپنے بیانیہ اور موقف کی پسپائی دیکھ کر طاقتور گروہوں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا کو بھی اپنی ”کنٹرولڈ میڈیا“ کی پالیسی میں لانے کے لیے منصوبہ بندی شروع کردی ہے جس کی ابتدائی جھلکی ہمیں ”فیس بک“ پر نظر آئی جہاں ان کا خودکار نظام مخصوص اشخاص، گروہوں اور عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازعات کا محض ذکر قبول کرنے سے انکاری ہے اور دو تین بار خلاف ورزی پر انتہائی اقدام (یعنی آئی ڈی بین) تک اٹھا لیتا ہے۔ اس سب کے باوجود سوشل

میڈیا کا جن قابو میں کرنا دوسرے ذرائع ابلاغ کی طرح تر نوالہ نہ ہو گا


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments