افسانہ نامرد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی کے نوجوان ایم ڈی، عدنان ملک نے چار بجے سہ پہر دفتر میں اپنا سارا کام نمٹا دیا۔ ڈرائیور گاڑی لئے دروازے پر انتظار کر رہا تھا۔ وہ عدنان ملک کو لے کر ہسپتال کی طرف روانہ ہو گیا۔ عدنان بہت خوش تھا کیونکہ وہ آج بیوی اور نومولود بچے کو گھر لے جانے والا تھا۔ وہاں اس نے بیوی اور بچے کے استقبال کے لئے بہت ہائی فائی انتظام کر رکھا تھا کہ یہ اس کا پہلا بچہ اور اس امیر کبیر خاندان کا وارث تھا۔

ہسپتال پہنچ کر وہ سیدھا بیوی کے کمرے میں داخل ہوا تو اسے حیرت اور پریشانی کا ایک زوردار جھٹکا لگا۔ اس کی بیوی کمرے میں موجود نہیں تھی اور بچے کا بھی کچھ نشان نہ تھا۔ ہسپتال کے عملہ سے رجوع کیا تو خبر ملی کہ اس کی بیوی کے کہنے پر اسے دوپہر کو ہی ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ مزید استفسار پر معلوم ہوا کہ وہ اپنے والد صاحب کے ساتھ گئی ہے۔ اس نے فوراً بیوی کے موبائل پر کال ملائی مگر اس کا فون بند جا رہا تھا۔

گھر فون کیا تو ماں نے بتایا کہ نہ تو وہ گھر پہنچی ہے اور نہ ہی اسے کچھ اور معلومات ہیں، پھر اسے سسرال رابطہ کرنے کے لئے بھی کہا۔ عدنان نے سسر کا نمبر دبایا جو خوش قسمتی سے دوسری بیل پر ہی اٹینڈ کر لیا گیا۔ اسے یہ جان کر کچھ حوصلہ ہوا کہ بیوی بیٹے کو لے کر پہلے میکے چلی گئی ہے۔ وہ ہسپتال سے سیدھا اپنے سسرال پہنچا، جو اسی شہر میں مگر دوسری جانب اور آخری حصہ میں واقع تھا۔ سسرال والوں نے تو اسے عزت سے ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور خاطر مدارت بھی کی مگر بیوی نے اس کے ساتھ چلنا تو کجا اسے ملنے سے بھی انکار کر دیا۔ اس نے کافی منت سماجت بھی کی مگر اس کی بیوی ٹس سے مس نہ ہوئی۔ خلاف توقع سسر بھی اپنی بیٹی کا ہمنوا بنا ہوا تھا جبکہ ساس کسی حد تک رضامند تھی۔ اصل مسئلہ کیا تھا؟ اس کی بیوی کے رویے میں اچانک یہ اتنی بڑی تبدیلی کیوں آئی؟ یہ سب جاننے کے لئے پہلے ذرا عدنان کے ماضی میں جانا پڑے گا۔

یہ تھوڑی پرانی بات ہے۔ ۔

دو سال تک لگاتار فیل ہونے کے بعد عدنان ملک آخرکار او لیول پاس کر نے میں کامیاب ہوا لیکن اب اے لیول میں پھنسا ہوا تھا۔ رضوان ملک کی ضد تھی کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ایک بار کالج تک ضرور پہنچانا ہے۔ لیکن پھر عدنان کی خوش قسمتی سے رضوان ملک کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ پہلے ہی حملے میں اگلے جہان سدھار گیا۔ یوں عدنان کی تعلیم سے جان چھوٹ گئی۔

باپ مرنے سے پہلے نہ صرف یہ کہ بے شمار دولت، جائیداد چھوڑ گیا تھا بلکہ اس میں مزید اضافے کا ہر حربہ بھی اس نے بیٹے کو سکھا دیا تھا۔ دو بڑی بہنیں عارفہ اور شافعہ تھیں جو انہی جیسے اونچے طبقے اور اسی شہر میں بیاہی ہوئیں، بال بچوں والی اور اپنے گھروں میں خوش باش تھیں۔ ماں (رابعہ بیگم) جو پڑھی لکھی ہونے کے باوجود، خاوند کی زندگی میں بھی گھر اور اولاد کے کاموں میں ہی مصروف رہتی تھیں، اب اور بھی محدود ہو کر رہ گئیں۔

رضوان ملک جب تک زندہ رہا، ہر قسم کی عیاشی سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ اپنی ایسی پرائیویسی کے لئے وہ ”آشیانہ“ نام کا ایک علیحدہ گھر استعمال کرتا تھا۔ آشیانہ کے بارے میں رابعہ بیگم کو کچھ اندازہ تو تھا مگر نجانے کیا سوچ کر انہوں نے ادھر سے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ رضوان ملک بھی رات کو چاہے کتنی بھی دیر سے آئے، مگر سونے کے لئے رابعہ بیگم کے پاس ”ملک ولا“ میں ہی آتا تھا۔ بیٹے کی اپنی دنیا تھی لیکن وہ بھی اور کسی طور بھی باپ سے پیچھے نہیں تھا۔ بیوہ ہونے کے بعد رابعہ بیگم نے کافی کوشش کی لیکن بیٹا تو اب اور بھی آزاد ہو گیا تھا ان کے قابو کیسے آتا؟

وہ دوپہر بارہ بجے کے قریب سو کر اٹھتا، تیار ہو کر باپ کے دفتر جاتا اور تین چار گھنٹوں میں وہاں کے کام نمٹا لیتا۔ پھر وہ ہوتا اور اس کے دوست۔ عورتیں، شراب، پارٹیاں اور اسی نوعیت کے دیگر ہنگامے۔ خوبصورت اور جوان تو وہ تھا ہی، اب بے شمار دولت ہاتھ آئی تو وہ اس طرح کی سوسائٹی کی جان بن گیا۔ خوبصورت جوانیاں اس پر گر گر پڑتی تھیں۔ ایسا لگتا تھا کہ اس کے اشارہ کرنے پر ہر لڑکی اس کی طرف کھنچی چلی آئے گی۔ اس کی پیش قدمی پر دوسری طرف سے ٹھکرائے جانے کی تو جیسے گنجائش ہی نہیں تھی۔

مگر اس نے ابھی تک کسی کو اپنے ساتھ نتھی ہونے کا موقع نہیں دیا تھا۔ کیونکہ اسی سوسائٹی میں اسے دوستوں کے روپ میں کئی معزز دلال بھی مل گئے۔ مال کی سپلائی اتنی وافر تھی کہ وہ ہر رات ایک نئی لڑکی سے استفادہ کرتا۔ وہ بزعم خود اسے اپنی انفرادیت اور سٹیٹس سمبل سمجھنے لگا۔ چنانچہ کسی لڑکی کو باقاعدہ دوست بنانے یا اسے محبت کے قابل سمجھنے کو وہ اپنی شان کے خلاف گرداننے لگا۔ اب ”آشیانہ“ اس کے استعمال میں رہتا تھا۔ البتہ وہ بھی باپ کی طرح چاہے کتنی بھی دیر سے، مگر سونے کے لئے ماں کے پاس ”ملک ولا“ میں ہی آتا تھا۔

وہ کھلا پیسہ خرچ کرتا تھا اس لئے اس کے آس پاس خوشامدیوں کا جمگھٹا لگا رہتا، جو اسے خوش کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے تھے۔ وہ سب کی ضرورتوں کا خیال رکھتا مگر تھا ایک منجھے ہوئے بزنس مین کا بیٹا۔ اچھی طرح جانتا تھا کسے کتنا قریب آنے دینا ہے اور کسے کس مقام تک محدود رکھنا ہے۔ کاروبار سے متعلق کوئی بھی بات ہر قسم کے لحاظ سے مبرا تھی۔ شہر کے دوسرے بڑے تاجر اس کی اس صفت کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ رابعہ بیگم اس سے کوئی اور توقع تو رکھتی ہی نہیں تھیں، بس ان کی خواہش تھی کہ وہ شادی کر لے۔ انہیں بہو کی شکل میں گھر ہی میں ایک اپنی ساتھی مل جائے اور اگر کوئی پوتا پوتی ہو جائے تو کیا ہی بات ہے!

ماں کی منت سماجت کے باوجود عدنان ملک شادی کے لئے راضی ہی نہیں تھا، اس لئے ہر بار یہی جواب دیتا کہ ابھی نہیں۔ اس کے دماغ میں وہی پرانا محاورہ پھنسا ہوا تھا کہ اگر دودھ بازار میں آسانی سے دستیاب ہے تو بھینس کیوں پالی جائے؟ بے شک وہ جانتا تھا کہ اپنا وارث حاصل کرنے کے لئے کبھی نہ کبھی تو ایسا کرنا ہی پڑے گا لیکن وہ پہلے جی بھر کر اپنی آزادی سے لطف اندوز ہونا چاہتا تھا۔ رابعہ بیگم کو اپنی تنہائی کے ساتھی کی بھی ضرورت تھی اور انہیں یہ بھی گمان تھا کہ شاید بیٹا شادی کے بعد کچھ سدھر جائے۔ سو وہ مسلسل بہو کی تلاش میں تھیں۔ آخرکار انہیں ایک ایسی لڑکی مل گئی۔

کرن خان ایک سرکاری سکول کے ہیڈماسٹر علیم خان کی سب سے بڑی بیٹی تھی۔ اس سے چھوٹی دو بہنیں بھی جوان تھیں اور تینوں خوبصورت بھی۔ کرن نے انگریزی ادب میں ایم اے کیا تھا اور دوسری دونوں نے سافٹ وئیر میں ماسٹرز۔ علیم خان نے جیسے کیسے تینوں بیٹیوں کو اچھی تعلیم تو دلائی مگر اب ان کی شادیوں اور جہیز کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ جبکہ جو بھی لڑکے والے رشتے کے لئے آتے، لمبی چوڑی ڈیمانڈ لے کر ہی آتے تھے یا وہ بالکل ہی غیر مناسب ہوتے۔

اسی لئے تینوں بیٹیاں نوکری کی تلاش میں تھیں۔ وہ ملازمتیں کر کے ماں باپ کا ہاتھ بٹانا چاہتی تھیں۔ رابعہ بیگم یہ سب کچھ جاننے کے بعد ہی ماسٹر صاحب کے پاس آئی تھیں۔ انہوں نے علیم خان اور ان کی بیگم سے اپنے گھر کی ہر بات کھل کر بیان کر دی۔ اپنی خواہش سے انہیں آگاہ کیا اور آفر دی کہ اگر وہ اس رشتے کے لئے مان جائیں تو وہ ان کی اتنی مالی امداد ضرور کر دیں گی کہ وہ باقی دونوں بیٹیوں کی بھی باعزت طریقے سے شادیاں کر سکیں۔

یہ تسلی بھی دی کہ ممکنہ حد تک کرن کی خوشی کا خیال رکھیں گی۔ انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ راضی ہوں گے تو یہ مالی امداد انتہائی رازدارانہ طریقے سے دی جائے گی۔ ماسٹر صاحب نے تو فوراً انکار کر دیا تھا لیکن رابعہ بیگم نے پھر بھی انہیں سوچ کر جواب دینے کے لئے کہا اور کچھ دن بعد پھر رابطہ کرنے کا کہہ کر چلی گئیں۔

کرن نے رابعہ بیگم کی ساری بات سن لی تھی۔ اس نے ماں باپ سے کہا کہ وہ رابعہ بیگم سے ملنا چاہتی ہے مگر اگلی بات وہ ان کے ساتھ خود کرے گی۔ ماں باپ، حتیٰ کہ بہنوں نے بھی سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی بات پر اڑی رہی۔ اس کا استدلال تھا کہ گارنٹی تو کہیں بھی نہیں ہوتی، تو پھر کیوں نہ اس سودے بازی کا رسک لیا جائے؟ بہت بحث مباحثہ کے بعد اس کی منطق ماں باپ اور بہنوں کے دلائل پر بھاری پڑ گئی۔ رابعہ بیگم سے رابطہ کیا گیا اور یوں رابعہ بیگم اور کرن کے درمیان ایک علیحدہ سے ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کی تفصیل تو کسی کو معلوم نہ ہو سکی البتہ اس میں طے پا گیا کہ کرن ان کے بیٹے سے شادی کرے گی۔

رابعہ بیگم کے لئے ابھی سب سے بڑا مسئلہ باقی تھا اور وہ تھا عدنان ملک کو راضی کرنا۔ اور اس سے بھی پہلے عارفہ اور شافعہ کو اپنا ہمنوا بنانا۔ دونوں بہنیں کسی صورت راضی ہی نہیں تھیں کہ ایک غریب گھرانے کی بیٹی کو ان کی بھابی بنایا جائے۔ اس طرح ان کے سسرال میں سبکی کا خطرہ تھا۔ مگر رابعہ بیگم نے دلائل کے انبار لگا دیے تو آخر کار انہیں بھی مانتے ہی بنی۔ پھر تینوں کی کئی ہفتے کی کوشش کے بعد ، بصد دشوار، مگر عدنان نے بھی دو شرائط پر شادی کی ہامی بھر لی۔ ایک تو یہ کہ اس کے معمولات میں رخنہ ڈالنے کی کوشش نہیں کی جائے گی اور دوسرے یہ شادی خاموشی سے انجام پائے گی۔ دراصل اس کے نزدیک یہ اس کے سٹیٹس کے خلاف تھا کہ ایک سکول ماسٹر کی بیٹی اس کی بیوی کے رتبے پر فائز ہو جائے۔

سو، شادی انتہائی سادگی سے انجام پائی اور کرن، مسز عدنان ملک بن کر ”ملک ولا“ میں آ گئی۔ رابعہ بیگم اور کرن کے درمیان طے پا چکے معاہدہ کی ابھی تک کسی کو بھنک تک نہ پڑ سکی تھی۔ عدنان ملک کے لئے بہرحال یہ سب کچھ ایک ایسا ڈرامہ تھا جس میں اس نے صرف ماں اور بہنوں کو خوش کرنے کے لئے حصہ لیا تھا۔ اسی لئے اس نے سہاگ رات کا تمام وقت بھی اپنے دوستوں کے ساتھ اور گھر سے باہر ہی گزارا۔ کرن چونکہ پہلے سے ہی سب کچھ جانتی تھی اس لئے اس نے بھی زیادہ پرواہ نہیں کی۔

بے شک وہ تمام رات عدنان کا انتظار بھی کرتی رہی تھی۔ لیکن وہ رات کے کہیں آخری پہر واپس بھی آیا تو کسی اور کمرے میں جا سویا۔ دوسرے، تیسرے اور چوتھے دن بھی دونوں کی سرسری سی ہیلو ہائے ہوئی اور رات کو عدنان کا وہی پرانا معمول جاری رہا۔ مگر جیسا کہ رابعہ بیگم نے اسے سمجھایا تھا، کرن ہر رات باقاعدہ تیاری کے ساتھ عدنان کی آس لگائے رہی۔

پانچویں رات اتفاق سے دوستوں کی محفل میں تھوڑی بدمزگی ہو جانے کی وجہ سے عدنان جلدی گھر آ گیا تو یہ جان کر کہ کرن اس

کا انتظار کر رہی ہے، اس کے کمرے میں چلا گیا۔ جو دراصل اس کا اپنا ہی کمرہ تھا۔ ہیلو ہائے ہوئی تو عدنان نے سوچا کہ کرن بھی تو اس کے لئے نئی ہی ہے تو چلو آج کی رات یہی سہی۔ کرن بھی سب کچھ جاننے اور برداشت کرنے کے باوجود خوش تھی۔ شاید اس کے دل میں امید کی ہلکی سی روشنی بھی جھلملا رہی تھی۔ یوں تو عدنان کے لئے یہ رات بھی اس کی بہت سی دوسری راتوں کی طرح ہی تھی مگر صبح ہوئی تو اس کی جیسے دنیا ہی بدل گئی۔ وہ اب تک بے شمار خوبصورت، نوجوان اور جنسیات کی ماہر لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزار چکا تھا مگر کسی باکرہ دوشیزہ کے ساتھ یہ اس کی پہلی رات تھی۔

اس ایک رات نے ہی اس کی جنسی طلب کے تنوع کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ اگلے دو دن اتفاق سے دفتر میں بھی چھٹی تھی اور شامیں بھی اس نے دوستوں کو نہیں دیں۔ گھر میں ضروری مصروفیت کا بہانہ بنا لیا۔ کرن اور رابعہ بیگم دونوں کو اس تبدیلی پر بہت خوشی تھی بے شک دونوں کو یقین تھا کہ یہ تبدیلی عارضی ہے۔ اور ہوا بھی ایسا ہی۔

عدنان کی زندگی پھر پرانی ڈگر پر چل نکلی۔ البتہ اب اس کے سپلائرز کے لئے ایک بڑی مشکل کھڑی ہو گئی تھی کیونکہ اب وہ باکرہ دوشیزائیں طلب کر رہا تھا۔ ان لوگوں کو اس کی مذکورہ تبدیلی پر حیرت بھی تھی اور ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے مشکل بھی، مگر ساتھ ہی ان کے کمیشن بھی بہت بڑے ہو گئے تھے۔ عدنان کو مطلوبہ مال تو کبھی کبھی ہی میسر آتا تھا اس لئے باقی راتوں میں پرانا طریقہ اپنانا پڑتا۔ لیکن اب وہ گاہے گاہے بیوی کے ساتھ بھی رات گزار لیا کرتا تھا۔

رفتہ رفتہ اس نے دفتر جانے سے پہلے تھوڑا سا وقت ماں اور بیوی کو بھی دینا شروع کر دیا مگر اس میں اپنائیت نام کا کوئی جذبہ ابھی تک موجود نہیں تھا۔ ایسے ہی مواقع پر وہ جب جب انگلش میں بات کرنے کی کوشش کرتا تو اسے اکثر شرمندگی اٹھانا پڑتی۔ اس کے مقابلے میں کرن کا لہجہ تو اتنا اچھا نہیں تھا مگر وہ جو اباً انگریزی کے ایسے ایسے الفاظ استعمال کرتی کہ عدنان ملک دنگ رہ جاتا۔ اس کی گفتگو میں عالمی ادیبوں کے حوالے آتے تو وہ دل ہی دل میں متاثر ہونے کے باوجود کوئی بہانہ کر کے وہاں سے اٹھ جاتا۔

رابعہ بیگم سے تو کرن کی اچھی خاصی دوستی بلکہ محبت سی ہو گئی اور انہوں نے بھی اسے ایک طرح سے گھر کی مالکہ ہی بنا دیا۔ اسی لئے کرن کا احساس کمتری بھی جاتا رہا۔ عدنان کے رویے میں تبدیلی تو بال برابر سے زیادہ نہیں تھی مگر پھر بھی تیسرے مہینے کرن امید سے ہو گئی۔ رابعہ بیگم اپنے پوتے کے خواب دیکھنے لگی۔ خبر تو عدنان کو بھی مل گئی تھی مگر وہ اس سارے معاملے سے قطعی لاتعلق تھا۔ چیک اپ وغیرہ کے لئے کرن کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا کام خود رابعہ بیگم ہی کرتی تھیں۔ وہ اس معاملے میں کرن کو اپنے میکے سے بھی مدد لینے کی اجازت نہیں دیتی تھیں۔

ادھر اس کے میکے والے بھی خوش تھے۔ اتفاق سے کرن کی شادی کے جلد ہی بعد اس کی دونوں بہنوں کو اچھی کمپنیوں میں اور دلکش تنخواہوں پر ملازمتیں مل چکی تھیں۔ دونوں کے رشتے بھی طے ہو چکے تھے۔ اور ان کے گھر کی حالت بھی اب بہت بہتر تھی۔

عدنان ملک کا یہ حال تھا کہ وہ اب بے شک بھولے بسرے کرن کے ساتھ بھی رات گزار لیتا تھا لیکن بچے کے معاملے میں اس نے کبھی کوئی دلچسپی نہیں لی تھی سوائے ایک بار متوقع ڈلیوری ڈیٹ پوچھنے کے۔

امید تو خیر کرن کو آغاز سے ہی نہیں تھی، لیکن اب ساس کی دوستی، گھر والوں کی با سہولت زندگی اور ہونے والے بچے کی

خوشی نے کرن کو عدنان کی لاپرواہی سے بے نیاز کر دیا تھا۔ البتہ انسان پھر انسان ہے، اس کے دل میں بھی کبھی کبھی عدنان کی توجہ کی خواہش انگڑائیاں لینے لگتی۔ جسے سلانے کے لئے وہ پوری پوری رات آنسو بھری لوریاں سناتی۔ اور انہی لوریوں کی لے تال میں آخر کار وہ خود بھی سو جاتی۔

وقت اپنی چال سے گزر رہا تھا۔ عدنان کے روزمرہ میں کوئی تبدیلی نہیں تھی۔ رابعہ بیگم بہت باقاعدگی سے کرن کو لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے جا رہی تھیں۔ اب تک کی رپورٹس کے مطابق سب کچھ نارمل تھا۔ الٹراساؤنڈ سے یہ بھی نوید مل چکی تھی کہ آنے والا بچہ ایک لڑکا ہے۔ اس لئے رابعہ بیگم کچھ زیادہ ہی پرجوش تھیں۔ عدنان اس معاملے میں کسی سے کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ بے شک وہ کبھی کبھی یہ سوچ کر خوش ضرور ہو جاتا کہ وہ جلد ہی ایک بیٹے کا باپ بننے والا ہے، مگر اپنی خوشی کو کسی پر ظاہر نہیں کرتا تھا۔ ڈلیوری ڈیٹ اس نے ضرور اپنی ڈائری میں لکھ رکھی تھی۔

اسی تاریخ سے تقریباً دس دن پہلے اسے عابدہ نام کی ایک سولہ سالہ کنواری دوشیزہ دکھائی گئی۔ وہ بلا کی حسین تھی اور جسم کے زاویے ایسے، جیسے للکار رہے ہوں ”کون ہے جو مجھے فتح کر سکتا ہے؟“ ۔ عدنان تو اس پر بری طرح فریفتہ ہو گیا۔ دلال نے بھی تاڑ لیا۔ وہ زیادہ سے زیادہ کمائی کے چکر میں تھا اور عدنان ایک خرانٹ بزنس مین۔ اسی لئے سودا ہوتے ہوتے بھی کئی دن لگ گئے۔ مگر انجام کار سب طے پا گیا اور عابدہ کو پوری تیاری کے ساتھ ”آشیانہ“ پہنچا دیا گیا۔ عدنان ابھی دفتر میں تھا اور اپنے آشیانہ والے ملازمین کو اگلی ہدایات دے رہا تھا کہ رابعہ بیگم کا فون آ گیا۔ وہ اس وقت ماں کی کال سننا نہیں چاہتا تھا۔ بار بار اسے کاٹ رہا تھا مگر بیل پھر بج اٹھتی۔ آخرکار تنگ آ کر اور انتہائی غصے میں اس نے ماں کی کال اٹینڈ کی۔

رابعہ بیگم سخت پریشان تھیں۔ ہر ضروری احتیاط برتی جا رہی تھی۔ ہر متوقع ضرورت کا بندوبست ہو چکا تھا۔ مگر ڈاکٹروں کے سب اندازوں کے برخلاف، کرن کی دردیں چار دن پہلے ہی شروع ہو گئیں۔ ابھی کچھ سوچ بچار ہی ہو رہی تھی کہ اسے تھوڑا سا خون آ گیا۔ رابعہ بیگم نے فوراً گاڑی تیار کروائی اور احتیاطاً ہر ممکنہ مطلوبہ شے ساتھ رکھ لی۔ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی کرن کا خون بہنا شروع ہو گیا۔ ڈاکٹروں نے دیکھتے ہی آپریشن تھیٹر شفٹ کر دیا۔

معائنہ کے فوراً بعد رابعہ کو بتا دیا گیا کہ بچے کی پوزیشن اچانک تبدیل ہوئی ہے اس لئے بہت الجھاؤ ہو گیا ہے۔ خون کا بہنا بھی اسی عمل کا ایک حصہ ہے۔ صورت حال بہت پیچیدہ ہے۔ اور ڈلیوری تو کسی وقت بھی متوقع تھی لیکن نارمل ڈلیوری میں زچہ اور بچہ دونوں کی جان کو خطرہ ہے اور آپریشن بھی اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک خون دستیاب نہ ہو جائے۔ فوری فیصلہ کرنے کی ضرورت تھی کہ کیا کیا جائے؟ کرن کے گروپ کا خون اس وقت ہسپتال میں موجود نہیں تھا۔

اس کی ڈلیوری کے لئے جو خون کا بندوبست کیا گیا تھا وہ ابھی دو دن بعد آنا تھا۔ ڈاکٹروں نے بلڈ بینک والی سائیڈ پر لوگ دوڑائے کہ کسی طرح کرن کے گروپ کا خون حاصل کیا جائے۔ مگر کہیں سے بھی امید کی جھلک دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے پوری دنیا نے اس معصوم لڑکی کے خلاف سازش کر رکھی ہے۔ ایک باہمت خاتون کی شہرت رکھنے والی رابعہ بیگم، اس وقت انتہائی اعصابی دباؤ کا شکار تھیں۔ انہیں تو اس افراتفری میں یہ بھی یاد نہ رہا کہ کرن اور عدنان کا بلڈ گروپ ایک ہی ہے۔ ان کی پوری کوشش کے باوجود انہیں اپنی اضطرابی کیفیت چھپانے میں کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ اسی لئے وہ بار بار عدنان کو کال کر رہی تھیں۔ عدنان کو بھی ماں کی کالز سے تنگ آ کر پہلے ہسپتال کا رخ کرنا پڑا۔

ابھی وہ راستے میں ہی تھا کہ دلال نے اسے عابدہ سے ٹیلیفون کروا دیا۔ عابدہ نے نہایت محبت بھرے الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسے اپنے انتظار کی شدت سے آگاہ کیا اور اپنی بے چینی کا اظہار بھی۔ عدنان نے اسے تسلی دی کہ وہ کچھ دیر میں آ رہا ہے۔

ہسپتال پہنچ کر اس نے ماں کی بات بھی پوری طرح نہیں سنی اور ان پر برس پڑا ”آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے ان معاملات میں نہیں گھسیٹیں گی“ ۔ رابعہ بیگم نے اسے حالات کی سنگینی کا احساس دلانے کی کوشش کی مگر وہ کچھ سننے کے لئے تیار ہی نہیں تھا۔ اتنے میں لیڈی ڈاکٹر جو اس وقت کرن کا کیس ہینڈل کر رہی تھی وہاں آ گئی۔ وہ ایک نہایت تجربہ کار ڈاکٹر تھی۔ یہ جان کر کہ وہ کرن کا خاوند ہے اسے اندر کرن کے پاس لے گئی تاکہ اس کی موجودگی میں کرن کا حوصلہ بڑھے۔

پھر اس کے بلڈ گروپ کا نام پوچھا اور یہ جان کر بہت خوش ہوئی کہ عدنان اور کرن کے خون کا گروپ ایک ہی ہے۔ کرن کا اس وقت درد سے برا حال تھا لیکن وہ دونوں کی گفتگو بھی سن رہی تھی۔ لیڈی ڈاکٹر نے عدنان سے خون دینے کے لئے کہا تا کہ وہ کرن کا آپریشن کر سکے۔ ڈاکٹر نے اسے یہ بھی بتا دیا کہ اگر خون نہ مل سکا تو زچہ اور بچہ، دونوں کی جان کو سخت خطرہ ہے۔ مگر عدنان کا دھیان تو اس وقت عابدہ کی طرف لگا ہوا تھا۔

۔ عابدہ! ایک سولہ سالہ باکرہ دوشیزہ! جس پر وہ مر مٹا تھا۔ جس کا حسن کسی مست سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ وہ تو ماں کے مجبور کرنے پر ، عابدہ کو انتظار کرتا چھوڑ کر ، یہاں آ گیا تھا۔

۔ اس نے خون دینے سے انکار کر دیا۔

لیڈی ڈاکٹر نے چند لمحے حیرت سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر جیسے کچھ فیصلہ کرتے ہوئے بولی ”تو ٹھیک ہے آپ ہمیں آپریشن کی اجازت دے دیجئے، لیکن ہر طرح کے نتیجے کی ذمہ داری آپ پر ہو گی“ ۔ عدنان نے ایک منٹ کا توقف کیے بغیر جواب دیا ”آپ کر دیجئے آپریشن۔ میری طرف سے اجازت ہے“ اور باہر کی طرف مڑنے لگا۔ لیڈی ڈاکٹر نے اسے روکتے ہوئے کہا ”ذرا رکیے! پہلے ان کاغذات پر سائن کر دیجئے۔ پھر جائیے جہاں بھی جانا ہے آپ کو “ ۔ لیڈی ڈاکٹر نے قریبی میز پر پڑے ہوئے کچھ کاغذات اس کی طرف بڑھاتے ہوئے، ساتھ میں قلم بھی تھما دیا۔ اور انگلی کے اشارے سے یہ بھی بتا دیا کہ سائن کہاں کرنے ہیں۔ عدنان نے سائن کیے اور فوراً وہاں سے نکل گیا۔ لیڈی ڈاکٹر حیرت سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔

پھر نجانے کیا سوچ کے وہ کرن کی طرف پلٹی۔ وہ کرن کے قریب آئی جیسے جاننے کی کوشش کر رہی ہو کہ کرن نے یہ سب سنا ہے یا نہیں؟ اور اگر سنا ہے تو کہیں کچھ برا اثر تو نہیں لے لیا! کرن نے ڈاکٹر کے چہرے پر پھیلا ہوا تذبذب پڑھ لیا تھا لیکن وہ بے چاری تو اپنی تکلیف سے نڈھال ہو رہی تھی۔ ڈاکٹر نے بڑے پیار سے کرن کا ہاتھ پکڑا ”میری پیاری اور بہادر بیٹی! کیا تمہیں مجھ پر اعتماد ہے؟“ ۔ کرن نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ پھر بولی ”تم بس حوصلہ رکھنا! اور اپنے یقین کو کمزور نہ ہونے دینا۔ خدا نے چاہا تو میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گی“ ۔ (حوصلہ تو شاید ڈاکٹر اپنے آپ کو ہی دے رہی تھی) کرن نے تشکر آمیز نظروں سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا، مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی اس کی دردیں غیر متوقع طور پر ایک دم تیز ہو گئیں۔ ڈاکٹر نے اپنے عملے کو ہدایات دینا شروع کر دیں کیونکہ یہ بہت خطرناک علامت تھی۔ رابعہ بیگم باہر کہیں اس کے لئے خون تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ انہیں تو اندر کے حالات کی خبر بھی نہیں تھی۔

وہاں ڈاکٹر نے اپنے طور پر پوری تیاری کر لی تھی۔ اس کے چہرے کی سنجیدگی بتا رہی تھی کہ اسے آج اپنی زندگی کے تجربے کا نچوڑ استعمال کرنا پڑے گا۔ کرن کی دردوں میں مزید تیزی آ گئی اور خون بھی زیادہ سرعت سے بہنے لگا۔ یہ بہت ہی غیر معمولی کیس تھا، زندگی اور موت کی ہاتھا پائی۔ کرن کی تکلیف برداشت سے باہر ہو رہی تھی۔ اس کی چیخوں سے پتھر کی دیواریں بھی لرز رہی تھیں۔ ڈاکٹر پوری مستعدی سے اپنے کام میں مصروف تھی۔ کرن نے درد سے تڑپتے ہوئے اپنی ماں کو پکارا۔ ڈاکٹر نے فوراً اس کے قریب ہو کر کہا ”میری دلاری اور دلیر بیٹی! اس وقت میں ہی تمہاری ماں ہوں۔ تم مجھ پر بھروسا رکھو۔ میں اپنی بیٹی کو کچھ نہیں ہونے دوں گی“ ۔ کرن کو اس وقت ڈاکٹر کے چہرے پر کسی مہربان فرشتے کا گمان ہوا۔

اب مزید وقت ضائع کرنے کی بالکل گنجائش نہ تھی۔ ڈاکٹر نے فوراً کرن کی کمر میں مطلوبہ انجکشن لگایا اور اسے ایک بار پھر حوصلہ دیا۔ چند ہی منٹوں میں کرن انجکشن کے زیر اثر تھی۔ اسے اب درد کا احساس نہیں رہ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے دس منٹ کے اندر اندر آپریشن کر کے بچے کو باہر نکالا۔ بچہ کرن کو دکھایا اور نرس کے حوالے کر دیا۔ خود اسے ٹانکے لگانے میں مصروف ہو گئی۔

ابھی وہ ٹانکے لگا رہی تھی کہ کرن کی نبض ڈوبنے لگی۔ ڈاکٹر کی تشویش میں اضافہ ہوا مگر وہ اور کیا کرتی۔ کرن کی نبض مسلسل گر رہی تھی اور یہ سب اتنا خون بہہ جانے سے ہوا تھا۔ مقام شکر کہ تبھی بلڈ بینک سے ایک نرس خون کی بوتل اٹھائے بھاگتی ہوئی اندر آئی۔ رابعہ بیگم نے کسی طرح اپنے ذرائع سے خون کا انتظام کر لیا تھا۔ ڈاکٹر اب ٹانکے لگا چکی تھی، اس نے بوتل کا ٹائٹل پڑھ کر اپنی تسلی کی اور کرن کو خون کی نالی لگا دی۔

اس کے بعد وہ خود قریبی کرسی پر تقریباً ڈھے گئی۔ خوشی، تھکن اور اعصابی دباؤ نے اسے بے بس کر دیا تھا۔ مگر اب اس کے چہرے پر فتح اور اطمینان کی روشنی بھی چمک رہی تھی۔ اس کے دماغ میں کہیں ایک پرچم لہرا رہا تھا ”مسٹر عدنان ملک! ہم نے تمہارے خون کے بغیر بھی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ زچہ اور بچہ دونوں زندہ ہیں اور انشا اللہ اب زندہ رہیں گے“ ۔

تھوڑی دیر بعد رابعہ بیگم کو بھی اندر آنے کی اجازت مل گئی۔ وہ سب کچھ جان کر بے حد خوش ہوئیں۔ ذہنی دباؤ اور اعصابی تھکن سے ان کا بھی برا حال تھا لیکن پوتے کو دیکھ کر ہشاش بشاش ہو گئیں۔ پھر فوراً باہر نکلیں اور ادھر گئیں جہاں کچھ لوگ ان کی خیرات کے منتظر تھے۔ رابعہ بیگم نے سب میں پیسے تقسیم کیے اور دعائیں لیں۔ اس کے بعد عدنان کو فون کیا مگر اس کا فون بند جا رہا تھا۔ البتہ عارفہ، شافعہ اور کرن کی بہنیں اب ہسپتال پہنچ چکی تھیں کیونکہ رابعہ بیگم نے گھر سے نکلتے وقت ان سب کو ٹیلی فون کر دیے تھے۔

وہ سب رابعہ بیگم کو اور ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہی تھیں اور اس نومولود کے لئے بہت خوشی کا اظہار کر رہی تھیں۔ رابعہ بیگم کو بھی ان کی خوشی سے تقویت مل رہی تھی۔ چونکہ مشکل وقت اب ویسے بھی گزر چکا تھا، اسی لئے رابعہ بیگم نے کسی سے بھی خون نہ ملنے کے مسئلے اور عدنان کی بے اعتنائی کا ذکر نہیں کیا تھا۔

رابعہ بیگم نے کرن کے لئے ایک پرائیویٹ کمرے کا بندوبست کیا اور خود وہاں ساتھ ٹھہرنے کا پروگرام بنایا۔ نومولود کے لئے پہلے سے تیار کیا گیا سب سامان اب ہسپتال پہنچ چکا تھا۔ شام تک جب کرن کی حالت کافی سنبھل چکی تھی، اسے اس کے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا اور نومولود کو بھی۔ کرن کو تین بوتل خون مل چکی تھی اور ڈرپ ابھی بھی لگی ہوئی تھی لیکن اب وہ پوری طرح ہوش میں اور خوش باش تھی۔ ڈاکٹرز اور ہسپتال کا دوسرا عملہ پوری مستعدی سے اس کی نگہداشت کر رہا تھا۔

ان کے بہت سے ملنے والے مبارکباد دینے کے لئے آنا چاہتے تھے مگر ابھی سب کو روک دیا گیا تھا کیونکہ کرن ابھی بہت کمزور تھی اور اسے پورا آرام درکار تھا۔ البتہ کرن کے ماں باپ پھر بھی ایک بار بیٹی اور نواسے کو دیکھ گئے تھے۔ شام تک کرن کا کمرہ مبارکباد کے لئے آئے ہوئے پیغامات کے کارڈز، مٹھائیوں اور پھولوں سے لبالب بھر چکا تھا۔

دوسرے دن کرن کی بہنیں صبح سویرے ہی ہسپتال پہنچ گئیں۔ انہوں نے کافی کوشش کی کہ رابعہ بیگم گھر چلی جائیں اور کچھ گھنٹے آرام کر لیں مگر وہ نہیں مانیں۔ پوتے کی خوشی نے ان میں ایک عجیب توانائی بھر دی تھی۔ اسی خوشی میں ہی تو وہ کرن کے صدقے واری جا رہی تھیں۔ عارفہ اور شافعہ بھی دن میں ایک ایک چکر لگا گئیں تھیں۔

عدنان ملک جو کہیں رات گئے ملک ولا آیا اور آ کر سو گیا تھا، دوسرے دن جب جاگا تو ملازموں نے اسے حالات سے آگاہ کیا۔ اس کے باوجود وہ پہلے دفتر گیا اور وہاں سے کام نمٹا کر دوبارہ عابدہ کی طرف جانے سے قبل ہسپتال پہنچا۔ اسے اپنے ایک دن پہلے کے رویے پر شرمندگی تو کیا ہوتی، اس کا احساس تک نہیں تھا۔ البتہ بچے کو دیکھ کر خوش ضرور ہوا۔ رابعہ بیگم نے اسے مبارکباد دی او ر بتایا کہ بچے کی پھوپھیوں اور خالاؤں نے اس کے لئے ”فیضان“ نام تجویز کیا ہے۔

عدنان نے بھی اس کی منظوری دے دی۔ سو، نومولود کا نام ”فیضان“ ہی طے ہو گیا۔ عدنان کچھ دیر وہاں رک کر ”آشیانہ“ چلا گیا۔ عابدہ وہاں اس کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ جتنی دیر ہسپتال میں رہا کرن نے اس سے کوئی بات نہیں کی۔ عدنان کو کرن کی اس سرد مہری کا احساس ہی نہیں ہوا کیونکہ اس کی سوچ تو آج بھی عابدہ کے جسمانی زاویوں میں بھٹک رہی تھی۔ گزری ہوئی شام کے مناظر ابھی اس کے دماغ میں تازہ تھے۔ اس کی سانسوں میں ابھی تک عابدہ کے بدن کی کنواری خوشبو بسی ہوئی تھی۔

تیسرے دن تک کرن کی حالت بہت بہتر ہو گئی اور فیضان کو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ڈاکٹرز، کرن کی اس تیز رفتار ریکوری پر حیران بھی تھے اور خوش بھی۔ انہوں نے اسے دو دن بعد ڈسچارج کرنے کی امید ظاہر کر دی تھی۔ عدنان پچھلے دن کی طرح دفتر کے کام نمٹا کر آیا اور دیر تک فیضان کے ساتھ بھی مصروف رہا۔ شاید یہی لمحہ تھا جب اس نے اپنی پرانی ڈگر سے ہٹ کر سوچنے کی کوشش کی۔ جب رابعہ بیگم نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے دو دن بعد ڈسچارج کرنے کی امید دلائی ہے، تو رابعہ بیگم کے کہنے پر ہی دونوں ماں بیٹے نے مل کر ”ملک ولا“ میں ایک استقبالیہ دعوت کا پروگرام بنایا۔ یوں وہ تمام لوگ جو مبارکباد دینے کے لئے ہسپتال نہیں آ سکے تھے، وہاں آ سکتے تھے۔ عدنان اگلے دو دن بھی وہاں آتا اور بچے کے ساتھ وقت گزارتا رہا۔ کرن نے اگلے دو دن بھی اس سے بات نہیں کی۔ عدنان ماں سے بات چیت کر کے اور بچے کے ساتھ وقت گزار کے چلا جاتا رہا۔

جیسا کہ طے کیا گیا تھا، آخری دن کرن کے والد اس کے پاس ہسپتال پہنچ گئے اور رابعہ بیگم ”ملک ولا“ آ گئیں تاکہ شام والے استقبالیہ کی تیاری کروا سکیں۔ شام کو ، پروگرام کے مطابق کرن اور فیضان کو گھر لانے کی ذمہ داری، عدنان نے اپنے سر لی ہوئی تھی۔ خلاف توقع وہ فیضان کو لے کر بہت پر جوش ہو گیا تھا۔ باپ بننے کا احساس جیسے اسے دو دن بعد ہوا تھا اور اب لگتا تھا کہ اس تصور نے اس کی دنیا ہی بدل دی تھی۔

وہ پہلے دفتر گیا اور پھر خوشی خوشی ہسپتال پہنچا۔ مگر کرن تو اس کے آنے سے پہلے ہی ہسپتال چھوڑ کر جا چکی تھی۔ وہ بیٹے کو لے کر اپنے والد کے ساتھ چلی گئی تھی۔ عدنان کو جب علم ہوا کہ وہ بچے کو لے کر ملک ولا جانے کی بجائے، اپنے میکے چلی گئی ہے تو وہ وہاں پہنچا۔ وہاں اس کے لئے ایک اور مسئلہ سر اٹھائے کھڑا تھا۔ کرن نے اس کے ساتھ جانے، بلکہ اسے ملنے سے بھی انکار کر دیا۔ کافی کوشش کے بعد وہ مایوس ہو کر واپس ملک ولا پہنچا۔

”ملک ولا“ میں تو پارٹی کی تیاریاں پورے عروج پر تھیں۔ رابعہ بیگم یہ خبر سن کر بہت پریشان ہوئیں اور بھاگم بھاگ کرن کے پاس پہنچیں۔ وہاں حالات ایسے تھے کہ انہیں کرن سے علیحدگی میں ملاقات کرنا پڑی۔ کامیابی انہیں پھر بھی نہیں ملی، حتیٰ کہ وہ پوتے کو بھی ساتھ نہ لا سکیں۔

وہ واپس ملک ولا پہنچیں تو کافی مہمان آ چکے تھے، جن کے استفسار پر بتایا گیا کہ گھر پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد کرن کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی تھی۔ اتنی کہ ڈاکٹر کو بلانا پڑا۔ اب وہ میڈیسن کے زیر اثر سو رہی ہے۔ اس لئے یہاں نہیں آ سکے گی۔ پارٹی ختم ہونے کے بعد عدنان نے ماں سے پوچھا کہ اصل بات کیا ہے؟ تو رابعہ بیگم نے اسے بتایا کہ کرن اب تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ وہ طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے۔ عدنان ملک نے وجہ پوچھی تو جواب ملا کہ وہ تمہیں نامرد سمجھتی ہے اس لئے۔

عدنان کو جیسے بڑا جھٹکا لگا ”وہ میرے بچے کی ماں بننے کے بعد مجھے نامرد کہتی ہے؟ جب کہ میں تو ہر روز ایک۔“ ۔ وہ بات کہتے کہتے رک گیا تو رابعہ بیگم پھر گویا ہوئیں۔ ”اس کا بیان ہے کہ مرد تووہ ہوتا ہے جو دشمن کے بیوی بچوں کو بھی مصیبت میں دیکھے تو ان کی مدد کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن جس کی بیوی اور ہونے والا بچہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوں اور وہ خون کی ایک بوتل دینے سے ڈر جائے، اس کے نزدیک نامرد ہے“ ۔

”اچھا اس بات کو بہانہ بنایا ہے اس نے؟ ایک گھٹیا خاندان کی لڑکی، ہمارے گھر کے عیش آرام سے جی نہیں بھرا اس کا ؟ اب طلاق مانگ کر ہماری جائیداد میں حصہ دار بننا چاہتی ہے۔ اتنے آرام سے تو کچھ نہیں دوں گا۔ اسے کچہریوں، عدالتوں کے چکر لگانے پڑیں گے“ ۔

رابعہ بیگم نے آرام سے اس کی بات سنی اور انتہائی سکون سے جواب دیا
”لیکن وہ طلاق کے سوا کچھ نہیں مانگ رہی“ ۔

”تو ٹھیک ہے۔ میں کل ہی طلاق کے کاغذات بنوا کر بھیجتا ہوں اسے۔ سمجھتی کیا ہے اپنے آپ کو ؟ ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی میرے ساتھ شادی کرنے کو ترستی ہے۔ غلطی میری ہے، نہ میں آپ کی بات مانتا اور نہ ہی اس لالچی اور گھٹیا عورت سے واسطہ پڑتا“ ۔

”تم جو بھی سمجھو، لیکن میرے نزدیک نہ تو وہ گھٹیا ہے اور نہ ہی لالچی۔ اس نے تمہارے ساتھ شادی اس گھر کی بہو بننے کے لالچ میں نہیں کی تھی۔ وہ تو میں نے اس کی منت کی تھی کہ وہ ایسا کر کے میری تنہائی کی ساتھی بن جائے۔ یہ تو اس کی عظمت ہے کہ اس نے اس اکیلی بڑھیا کا ساتھ دینے کے لئے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی ”۔

”مجھے اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اسے طلاق چاہیے تو میں کل ہی کاغذات بنوا کر ، سائن کر کے اسے بھجوا دوں گا۔ اور خدا کا شکر بھی ادا کروں گا۔ خود ہی جان چھوٹ گئی“ ۔

عدنان نے اسے دوسرے دن طلاق بھجوا دی۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ کرن کے انکار کے باوجود رابعہ بیگم نے اپنے حصے کی تمام جائیداد فیضان کے نام کر دی۔ کرن کو اس کا گارڈین بنا دیا۔ ملک ولا بھی اسی جائیداد کا حصہ تھا۔ رابعہ بیگم کے کہنے کے باوجود کرن اس وقت تک ”ملک ولا“ میں واپس نہیں آئی، جب تک عدنان وہاں سے نکل نہیں گیا۔

کرن نے اس کے بعد انگریزی ادب میں ہی ڈاکٹریٹ کیا اور ایک مقامی کالج میں پڑھانے لگی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments