پرسنل اسپیس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ آپ کا اور فلاں کا کیسا تعلق ہے؟ آپ اس کو کیسے جانتے ہیں؟ سنا ہے آج کل بڑے لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہو، سب خیریت ہے نہ؟ آپ کیا کام کرتے ہو/ کس محکمہ میں ملازم ہو/کیا کاروبار ہے آپ کا ؟ وہ آپ کی نئی کمپنی کا کیا بنا؟ آپ مہینہ میں کتنا کما لیتے ہیں؟ ماہانہ خرچ کتنا ہے آپ کا ؟ کوئی بتا رہا تھا کہ آپ فلاں شہر گئے تھے، خیریت تھی؟ آپ ایم فل میں داخلہ لینے والے تھے مگر نہیں لیا، کیوں؟

سنا ہے آپ کی پی ایچ ڈی کی تھیسز ابھی تک مکمل نہیں ہوئی، کیوں؟ شادی کب کر رہے ہو/رشتہ کیوں نہیں ہو رہا آپ کا / ابھی تک شادی کیوں نہیں کی /شادی کا کہاں ارادہ ہے / تمہاری شادی کا کیا معاملہ ہے؟ تمہاری شادی کو دس سال ہو گئے ابھی تک بچے نہیں ہیں، کیوں؟ تمہاری پانچ بیٹیاں ہیں بیٹا کوئی نہیں، کیوں؟ دوسری شادی کیوں نہیں کرتے؟ سنا ہے تم دوسری شادی کر رہے ہو، کیوں؟ تم نے طلاق کیوں لی /دی؟ آپ کے بچے کیا کام کرتے ہیں /کام کیوں نہیں کرتے /ابھی سے بچوں کو کام پر لگا دیا /پڑھاتے کیوں نہیں /اتنا پڑھا کے کیا کرو گے /کوئی ہنر کیوں نہیں سکھاتے /کام پر کیوں نہیں لگاتے؟

آپ نے بیٹی /بیٹے /بہن /بھائی کا رشتہ فلاں خاندان/شہر/قبیلہ میں کیوں کیا؟ آپ کی بیٹی /بیٹے /بہن /بھائی کا رشتہ فلاں جگہ سے ٹوٹ گیا، کیوں؟ آپ نیا گھر بنوا رہے تھے مگر بیچ میں چھوڑ دیا، کیوں؟ آپ نے اپنا پرانا محلہ کیوں چھوڑا؟ آپ نے اتنے مہنگے علاقہ میں گھر کیسے خرید لیا /پیسے کہاں سے آئے؟ آپ فلاں رنگ/ڈیزائن کے کپڑے کیوں پہنتے /پہنتی ہو؟ یہ بالوں کا کیسا اسٹائل بنایا ہے؟ کتنی تیز خوشبو لگاتے /لگاتی ہو /تمہاری خوشبو اتنی ہلکی کیوں ہوتی ہے؟ یہ داڑھی کیسے بنوائی ہے آپ نے؟ آپ لمبے ناخن کیوں رکھتیں ہیں؟ آپ اتنا سخت پردہ کیوں کرتیں ہیں /آپ پردہ کیوں نہیں کرتیں؟

یہ ان بیشمار ذاتی سوالات میں سے صرف چند ہیں جو کچھ لوگ ایک لمحہ بھی سوچے بنا، اپنا (غلط) استحقاق سمجھتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کسی دوسرے کی ناک میں گھس کر پوچھتے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ انتہائی بے شرمی کے ساتھ، کسی قسم کا خلجان محسوس کیے بغیر یہ لوگ اسی قائم و دائم ڈھٹائی کی ساتھ اپنا من بھاتا جواب پانے کے لئے مزید کریدتے رہتے ہیں۔

میں سوال پوچھنے یا کسی کا احوال پوچھنے کی مذمت نہیں کر رہا بلکہ میں سوال پوچھنے، کسی کے قریب ہونے، کسی کا غم /خوشی شریک ہونے، مناسب احوال دریافت کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔ کیونکہ سوال پوچھنے سے انسانوں میں قربت بڑھتی ہے، انس میں اضافہ ہوتا ہے، احساس کو تقویت ملتی ہے، محسوس ہوتا ہے کہ کوئی کسی کا خیر خواہ ہے یا خیرخواہ ہونا ظاہر کر رہا ہے، اور یہ اظہر من الشمس ہے کہ خیرخواہی کا جذبہ بہت اعلیٰ جذبہ ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ خیر خواہی کرنا ہی عین انسانیت ہے تو چنداں غلط نہ ہو گا۔

عرض یہ ہے کہ سوال پوچھئے، احوال معلوم کیجئے اور خیرخواہی ضرور کریں مگر کسی کی ذاتیات پائمال کیے بنا، کسی کے اس دائرے میں جس میں وہ کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتا میں گھسے بغیر، کسی کے پرسنل اسپیس یا ذاتی فاصلہ پر چڑھائی کیے بنا، کسی کو جسمانی و سماجی طور پر ناگواری کا احساس دیے بغیر، کسی کو تکلیف پہنچائے بغیر کیونکہ کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے کی ناک کا بال کھینچے۔ ہر گز نہیں۔ دیکھئے ہر انسان کی ذاتیات کا اپنا ایک دائرہ ہوتا ہے اور اس دائرے کا احترام کرنا، اس دائرہ سے باہر رہنا اور باہر رہ کر خوشگوار تعلقات قائم رکھنا ہی انسانیت ہے، دانشمندی ہے، تعلقات کے دوام کی ضمانت ہے۔

پرسنل اسپیس یا ذاتی فاصلہ کو ذرا سا تفصیلا دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کی دو بنیادی / بڑی اقسام ہیں، پہلی جسمانی اور دوسری سماجی / سلوکی/حسی /رویہ جاتی قسم ہے۔ عام طور پر جب ذاتی فاصلہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے جسمانی پہلو کا تاثر لیا جاتا ہے اور عموماً اسی پہلو کو نمایاں کیا جاتا ہے چونکہ ذاتی فاصلہ کے اس رخ کو زیادہ نمایاں کیا گیا ہے اس پر بہت لکھا اور پڑھا جا چکا ہے اور اس ضمن میں عوامی فہم کافی زیادہ ہے اس لئے میں اس مضمون میں جسمانی پہلو کو مختصر رکھ کر دوسری یعنی سماجی / سلوکی/حسی /رویہ جاتی قسم کو نمایاں کرنے کی کوشش کروں گا، جیسا کہ اس مضمون کی ابتدا بھی اسی دوسری قسم کے سلسلے میں آنے والے سوالات سے کی گئی ہے۔

جسمانی طور پر ذاتی فاصلہ سے مراد یہ ہے کہ کوئی بھی فرد کسی بھی دوسرے فرد کو اس کی منشاء کے بغیر چھوئے یا اتنا قریب جائے کہ دوسرے کو ناگواری محسوس ہو یہ گھر میں، دفتر /کام کرنے کی جگہ پر ، عوامی مقامات پر (جیسے بنک یا ڈاک خانہ کی لائن میں، دکان میں خریداری کرتے ہوئے، بس/ٹرین وغیرہ میں سفر کرتے ہوئے، کسی تفریحی مقام پر ، ٹریفک جام/رش ولی جگہ پر ، کسی انتظار گاہ میں، تعلیمی /تربیتی ادارہ میں، جم میں، واک /تیراکی کے دوران) کسی بھی جگہ اور کبھی بھی ہو سکتا ہے۔

اس ضمن میں اخلاقی طور پر فرض عین یہ ہے کہ کوئی بھی فرد کسی بھی دوسرے فرد کو اس کی منشاء کے بغیر کبھی بھی، کسی بھی جگہ اور کسی بھی موقع پر نہ تو چھوئے، نہ مخصوص حد سے زیادہ قریب جائے، نہ گھورے، نہ جھانکے، نہ کان لگائے، نہ پیچھا کرے، نہ اس کی مرضی کے بغیر بات کرے /بات کرنے پر مجبور کرے۔ یہ اور اس جیسے دوسرے کام جو کسی دوسرے کی ذاتیات میں جسمانی/مادی طور پر دخل اندازی ہے اخلاقی طور پر انتہائی نیچ عمل اور سماجی طور پر جرم ہے اس سے مکمل طور پر گریز کرنا چاہیے۔

ذاتی فاصلہ کی دوسری یعنی سماجی / سلوکی/حسی /رویہ جاتی قسم یہ ہے کہ کوئی بھی فرد کسی بھی دوسرے فرد کے ذاتی معاملات میں اس کی منشاء کے بغیر دخل اندازی کرے۔ ذاتی معاملات میں دخیل ہونا/ہونے کی کوشش کرنا، ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھنا، کریدنا، ٹوہ میں لگنا، پیٹھ پیچھے بات کرنا۔ کسی کے ذاتی دائرے کی پائمالی ہے، اس سے حتی الامکان، ہر صورت گریز کرنا چاہیے۔

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی فرد کبھی بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی ذاتیات کو پائمال کیا جائے، کوئی بھی پسند نہیں کرتا کہ اس سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے جس پر وہ بات نہیں کرنا چاہتا، کوئی بھی پسند نہیں کرتا کہ اس کی زندگی کا ایسا گوشہ جو وہ افشاں نہیں کرنا چاہتا کو زیربحث لایا جائے اور یہ انسان کے بنیادی حقوق میں سے ہے کہ اسے پوشیدگی میسر ہو، آپ کیوں کسی کی پوشیدگی میں خلل ڈال کر ، کسی کا بنیادی حق پائمال کر کے، کسی کو تکلیف دے کر ، اذیت پہنچا کر اپنی انا کی تسکین کرنا چاہتے ہیں۔

کسی کی ذاتیات میں گھسنا یا ایسی کوشش کرنا نہ صرف اخلاقی اعتبار سے انتہائی گھٹیا حرکت ہے بلکہ یہ کسی کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کو بر باد کرنے کا سامان کرنا بھی ہے۔ اگر کوئی فرد یہ چاہتا ہے کہ اس کے متعلقہ فرد /افراد کے ساتھ تعلقات دائمی خوشگوار رہیں (یقیناً سبھی ایسا چاہتے ہیں ) اور وہ ہمیشہ اعلیٰ اخلاق کے درجہ پر فائز رہے تو اسے اس بات کا ازحد خیال رکھنا ہو گا کہ وہ کسی کی ذاتیات کو نہ چھیڑے، کبھی بھی کسی سے بھی کسی بھی قسم کے ذاتی سوالات نہ پوچھے، وہ حصار جو (ہر) فرد نے اپنے گرد کھینچ رکھا ہے (جس میں وہ کسی کا دخیل ہونا گوارا نہیں کرتا) میں داخل ہونے کی کوشش نہ کرے، کسی بھی فرد کے نجی معاملات کا یوں احترام کرے کہ ان کو زیربحث نہ لائے اس طرح تعلق کی خوشگواریت متاثر نہیں ہوگی اور اخلاقیات کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوٹے گا۔

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی کے ذاتیات کے دائرے کی وسعت کا کیسے اندازہ کیا جائے؟ کیسے اس بات کا اندازہ کیا جائے کہ کوئی کس حد تک آپ کو پوچھنے /بولنے /اپنے معاملات میں شریک ہونے کی اجازت دیتا ہے اور آپ کو کس حد تک جانا چاہیے اور کس حد پر پہنچ کر احتراز برتنا چاہیے ۔ دیکھئے، ذاتیات کا دائرہ ہر شخص کے انفرادی نفسیات کے مطابق الگ الگ وسعت کا ہوتا ہے، لوگوں کے جذبات، محسوسات، چیزوں کو دیکھنے کا ڈھنگ، چیزوں /واقعات کے ساتھ ان کی وابستگی یکسر مختلف ہوتے ہیں اس لئے اس بات کو ہر فرد کے لئے الگ سے پرکھنا ہو گا کہ کس نے اپنا ذاتی دائرہ کہاں تک رکھا ہے اور اس کے مطابق اس کے ذاتی دائرہ کا احترام بہرصورت کرنا ہو گا۔

کسی کے ذاتی دائرے کی وسعت اور اس کے ذاتی معاملات میں آپ کو دی جانے والی رسائی/ آزادی / ڈھیل کے جانچنے کا ایک سادہ سا اصول یہ ہے کہ آپ پرکھ لیجیے کہ کوئی فرد آپ کے ساتھ ’از خود‘ اپنے کون سے معاملات شریک کرتا ہے؟ اپنے جو جو معاملات وہ آپ کے ساتھ ’خود سے‘ شریک کرتا ہے، زیربحث لاتا ہے تو اس کا مطلب ہے گویا وہ آپ کو ان معاملات میں رائے دہی اور سوال کا حق دیتا ہے آپ کو اپنی ذات کے اس گوشے تک رسائی دیتا ہے اور جن معاملات کو آپ کے ساتھ زیربحث لانے سے پہلو تہی کرتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ وہ آپ کی حد ہے اور آپ کو وہیں ر کنا ہے۔

سادہ سی بات ہے۔ اس سادہ سے اصول کی دوسری سطح/لیول یہ ہے کہ اگر آپ اپنے کسی دو ست/عزیز/ساتھی کے کسی خاص معاملہ کے بارے میں متجسس ہیں، جاننا چاہتے ہیں، مثبت ذہن و احساس کے ساتھ جاننا چاہتے ہیں بلکہ مدد کرنا چاہتے ہیں، تو اس سے اس خاص معاملہ کے بارے میں سوال کر لیں، پوچھ لیں۔ کوئی حرج نہیں۔ مگر یہ سوال صرف ایک دفعہ ہو، مبہم انداز میں ہو اور تنہائی میں ہو پھر رد عمل کا جائزہ لیں اگر آپ کا دو ست/عزیز/ساتھی آپ کے سوال کو لے کر مضطرب نہیں ہوتا، برا محسوس نہیں کرتا، مثبت جواب دیتا ہے اس مخصوص معاملہ کو آپ کے ساتھ زیر بحث لاتا ہے تو بات جاری رکھیں اور مدد کریں اور اگر ردعمل اس کے برعکس آتا ہے آپ کا دو ست/عزیز/ساتھی آپ کا سوال سن کر اپ سیٹ /پریشان ہوتا ہے، مضطرب ہوتا ہے، نا خوش ہوتا ہے، منفی تاثر دیتا ہے جواب دینے سے احتراز کرتا ہے، بات کا رخ کہیں اور پھیرتا ہے تو عزت سے سمجھ لیجیے کہ وہ آپ کے ساتھ اس معاملہ کو زیر بحث نہیں لانا چاہتا، آپ کی مدد حاصل کرنا نہیں چاہتا، وہ اپنے معاملہ کو اپنی ذات تک محدود رکھنا چاہتا ہے یا سیدھی سی بات کہی جائے تو یہ کہ آپ کے ساتھ شریک نہیں کرنا چاہتا۔ تو ۔ بس یہیں رک جائیے، یہی آپ کی حد ہے، کریدیں مت، آگے مت بڑھیں۔ آپ کا یہاں سے آگے بڑھنا اپنی عزت اور دوسرے کی اخلاق کو خراب کرنے کا سامان کرنے کے مترادف ہو گا۔

اس سلسلے میں ایک باریک نقطہ کو ہمیشہ مدنظر رکھیں وہ یہ کہ کبھی کوئی فرد اضطراب میں، غصہ میں، ٹینشن میں، تکلیف میں، خوشی میں یا جوش میں آپ سے کوئی ذاتی بات کہہ جاتا ہے بعد میں /معمول پر آنے کے بعد اسے احساس ہو کہ اس نے جذبات کی رو میں آپ کو اپنی یہ ذاتی بات کہہ کر غلطی کی اور وہ اس بات کو زیر بحث لانے سے پہلو تہی کرنا شروع کر لیتا ہے، تو آپ کو فوراً سے بیشتر اپنی حد کو سمجھ لینا چاہیے اور ایک قدم پیچھے ہٹ جانا چاہیے اور وہ بات جو وہ فرد ایک بار غلطی سے کہہ گیا تھا اور اب گریز کر رہا ہے، کو وہیں چھوڑ دینا چاہیے۔ ایسا ہرگز مت سوچئے کہ اس فرد نے یہ فلاں بات تو اس دن میرے ساتھ بحث کی تھی اب گریز کر رہا ہے چلو کریدتے ہیں۔ نہ۔ کریدیے نہیں، کسی کے گلے مت پڑیں بلکہ چھوڑ دیجئے اور اس فرد کو اپنا ذاتی فاصلہ قائم رکھنے دیں۔

مشاہدہ میں آیا ہے کہ بعض افراد کسی کے ذاتیات کے دائرہ کا اندازہ کرنے کے لئے خود کو معیار گردان لیتے ہیں اپنی سمجھ بوجھ، شخصیت، دانش، فہم، نفسیات و احساسات کے مطابق لوگوں کے ذاتی دائرے کا تعین کرتے ہیں اور اسی حساب سے دخیل ہوتے ہیں۔ نہیں صاحب، ایسا ہرگز نہیں کرنا کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ آپ سے آپ کے بیٹے /بیٹی/بھائی /بہن کا رشتہ ٹوٹنے کے بارے میں پوچھا جائے تو آپ کو یہ خیرخواہی لگے، آپ کو محسوس ہو کہ یہ شخص میری غم خواری کر رہا ہے دوسری جانب کوئی دوسرا فرد ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہو اور وہ اس بارے میں پوچھے گئے سوال سے شدید اذیت محسوس کرے اور احساس بے عزتی سے دوچار ہو۔

یہ عین ممکن ہے۔ کسی بھی دو افراد کا یکساں صورتحال میں یکسر مختلف محسوسات و ردعمل بالکل فطری امر ہے کیونکہ دونوں کی نفسیات، دونوں کا اس یکساں صورتحال کے ساتھ جذباتی لگاؤ اور زاویہ ہائے نگاہ لگ الگ ہیں اس لئے ان کی محسوسات اور ان کا ردعمل مختلف ہو گا، چنانچہ آپ ایسا ہر گز مت سوچئے کہ فلاں بات جب میں نے فلاں فرد سے کہی /پوچھی تو اس نے اتنا برا کیوں منایا، اسے اس بات سے اتنی تکلیف کیوں ہوئی۔ اگر یہی بات مجھ سے پوچھی جائے تو مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا، نارمل سی بات ہے، اگر کوئی مجھ سے اس بارے میں پوچھے تو کوئی مسئلہ نہیں۔

نہیں۔ فرق پڑتا ہے، مسئلہ ہے، آپ کے لئے معمولی ہے۔ مگر اس کے لئے غیر معمولی ہے۔ جی ہاں۔ کیونکہ آپ دونوں کی نفسیات مکمل طور پر مختلف ہیں، اس مخصوص واقعہ کو دیکھنے کے زاویے الگ الگ ہیں، اس لئے آپ خود کو معیار مت بنائیں کہ یہ بات سننا، اس سوال کا جواب دینا، اس معاملہ کو زیربحث لانا میرے لئے نارمل ہے تو دوسروں کو بھی یہی سب ایسے ہی گوارا ہو گا۔ نہیں۔ دوسروں کو بھی یہی سب ایسے ہی گوارا نہیں ہو گا۔ کیونکہ آپ الگ ہیں اور دوسرے الگ۔

اور ہاں جس طرح عرض کیا کہ آپ نے خود کو ، اپنے محسوسات، جذبات، اپنی نفسیاتی صحت کو ، اپنے ذاتی دائرہ کو معیار نہیں بنانا اسی طرح آپ کسی دوسرے فرد کو بھی معیار نہیں بنائیں گے، آپ ایسا بھی ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ فلاں فرد سے میں نے یہ، یہ سوالات پوچھے اس نے تو بالکل برا نہیں مانا مگر فلاں سے جب ایسی بات کہی تو وہ بہت اپ سیٹ /پریشان ہو گیا۔ ہو گا۔ ایک بہت اپ سیٹ ہو گا اور دوسرا بالکل برا نہیں مانے گا کیونکہ فلاں اور فلاں دو الگ افراد ہیں، ان کی نفسیات، محسوسات، جذبات مختلف ہیں اور ان کے معاملات کو پرکھنے، سمجھنے اور اس پر ردعمل دینے کے طریق ہائے کار الگ ہیں اس لئے آپ خود کو یا کسی بھی دوسرے فرد کے رویہ کو معیار تسلیم کر کے اسی معیار کے مطابق ہر کسی سے معاملہ نہیں کریں گے، کسی کے ذاتی دائرے کا تعین اس معیار کی بنیاد پر نہیں کریں گے بلکہ ہر فرد کے ذاتی دائرے کا اس کے اپنے رویہ کی مناسبت سے تعین کریں گے (جس کے لئے سادہ سا اصول اوپر بیان کر دیا گیا ہے ) اور پھر اس دائرے کا احترام کرتے ہوئے (باہر رہتے ہوئے ) اس فرد کے ساتھ مکالمہ/معاملات کریں گے۔

میں نے یہ سب تحریر کیا آپ نے پڑھا، ان دونوں کاموں میں ہم دونوں کا وقت لگا توانائی صرف ہوئی اور یہ دونوں قیمتی چیزیں ہیں یہ قیمت ادا کر کے ہمیں کیا ملا؟ غور کریں۔ چلیں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس تحریر پر صرف کیے گئے وقت اور توانائی کی قیمت کو کیسے وصول کرنا ہے، آپ کو بہترین وصولی کے لئے کچھ وقت اور توانائی مزید دینی ہوگی۔ یوں کریں کہ اس آخری پیرا کو پڑھنے کے بعد آنکھیں بند کر کے اس پورے مضمون کو شروع سے سوچئے کہ اس میں آپ نے کیا ملاحظہ کیا پھر اپنا بے لاگ تجزیہ کیجئے کہ اس مضمون میں بیان کی گئی بیماری (دوسروں کے ذاتی معاملات میں دخل دینا، ذاتی سوالات پوچھنا، کریدنا وغیرہ) میں آپ مبتلا ہیں یا نہیں، کوئی نہ تو آپ کی سوچ کو دیکھ رہا ہے نہ سن رہا ہے، اندر ہی اندر اپنا بالکل ایماندارانہ تجزیہ کریں، کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ اگر ہاں۔ تو پھر یہ سوچئے کہ آپ نے کس کس کو زچ کیا ہے؟ کب، کس کس سے کون کون سے ذاتی سوالات پوچھ کر انہیں ٹھیس پہنچائی ہے؟ سوچئے اور مکمل ایمانداری سے سوچئے۔ ان تمام لوگوں کا تصور کر لیں اور ان کو یاد کر لیں جن پر آپ نے دانستہ یا نا دانستہ ظلم کیا ہے، جی ہاں ظلم۔

یاد رکھیں کہ، کسی کی منشا کے بغیر اس کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی کرنا، ذاتی سوالات پوچھنا، کریدنا، ٹوہ میں لگنا، ٹھیس پہنچانا، زچ کرنا۔ یہ نفسیاتی طور پر اس فرد کو ٹارچر کرنا / اذیت دینا ہے اور یقیناً کسی کو ٹارچر کر نا/اذیت دینا ظلم ہے۔ جب آپ اچھے سے سوچ لیں اور ان تمام لوگوں کو یاد کر لیں جن پر آپ نے یہ ظلم کیا ہے، تو ان کو ذہن نشین کر لیں۔ اب اگر آپ اخلاقی طور پر بالغ اور کردار کے پختہ ہیں تو فردا فردا ہر اس شخص کے پاس جائیں اور ان سے معافی مانگیں، انہیں کہہ دیں کہ فلاں دن آپ نے ان کو یوں زچ کیا تھا، اذیت دی تھی اور آج آپ اپنے کیے پر پشیمان ہیں اور معافی کے خواستگار ہیں۔

اس سے دو عظیم فوائد حاصل ہوں گے اول آپ کی ضمیر کا بوجھ اتر جائے گا، آپ کا خلجان ختم ہو جائے گا، آپ کا پچھتاوا رفع ہو جائے گا دوئم اس شخص کی تعلیم بھی ہو جائے گی کہ کسی کی منشا کے بغیر اس کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی کرنا، ذاتی سوالات پوچھنا، کریدنا نہ صرف اخلاقی طور پر انتہائی معیوب کام ہے (چونکہ اس سے انسانوں کو تکلیف پہنچتی ہے اس لئے یہ ظلم کے زمرے میں آتا ہے ) اس لئے ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے اور اگر ایسا ہو چکا ہے تو اس پر معافی مانگی جانی چاہیے۔ اس طرح نہ صرف معاشرے سے ایک منفی عمل کے خاتمہ کا سلسلہ شروع ہو گا بلکہ ساتھ ہی ساتھ ایک مثبت رویہ اور آگہی کے فروغ کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments