ہمیں غربت کے کرب کو حسوس کرنا ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ خدا کی منشا ہے کہ اس نے کائنات کا نظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ دنیا میں سب چیزیں اس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں، ہر چیز اس کے تابع اور اس کی مرضی سے بڑھتی ہے۔ اس لیے خدا کی وحدانیت اور لاثانیت کا اقرار کرنا ہر متنفس پر فرض ہے۔ لیکن اس نے بنی آدم کو سب چیزوں پر اختیار بخشا ہے اور ساتھ یہ بھی حکم صادر کیا ہے کہ کوئی کسی کے ساتھ ظلم و ستم نہ کرے اور نہ اپنی حاکمیت جتائے تاکہ اس کے قلب و ذہن میں اس کی خدائی کا خوف و ڈر رہے اور وہ عاجزی اور انکساری کا لبادہ اوڑھ کر اپنی زندگی بسر کرے۔ اس کے برعکس اگر دنیا کے معاشی حالات کا تجزیہ کیا جائے تو ہر ملک کی صورتحال ایک دوسرے سے فرق ہے۔

اسی طرح انسانوں کی بھی معاشی حالت ایک جیسی نہیں ہے۔ آپ دنیا میں دیکھیں کہیں کوئی امیر ہے اور کہیں کوئی غریب ہے۔ البتہ افلاس کا کرب وہی جانتا ہے جو غربت کی چکی میں پستا ہے۔ اسے اپنے حالات کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور دوسروں کے وسائل کا علم بھی، بہت حد تک اسے اپنی بے بسی کا بھی پتہ ہوتا ہے، اسے اپنے ساتھ دوسروں کے رویوں کا بھی علم ہوتا ہے۔ کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ دنیا میں یہ دراڑیں اور فاصلے کیوں ہیں؟

کیا سب انسان ایک جیسے نہیں ہیں؟ کیا سب کو اس نے اپنی صورت پر پیدا نہیں کیا؟ مذکورہ شواہد کے باوجود بھی ہماری سوچ اور حالت زار غیر تسلی بخش نظر آتی ہے۔ شاید دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں نسلی امتیاز، مذہبی تفریق، انتہا پسندی، دہشت گردی، خون و خرابہ، نفرت و فرق ہمارے رویوں کے ساتھ نتھی ہو گئے ہیں۔ اب دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، قریبا قریبا یہ لعنتیں اور نحوستیں انسان کے ساتھ پیوست نظر آتی ہیں۔

غریب ہمیشہ عذر پیش کرتا ہے، جبکہ امیر دوسروں پر اپنی حاکمیت کا راج مسلط کرتا ہے۔ شاید وہ سوچنے سے قاصر ہے کہ ایک غریب پر ظلم و ستم کی کیا داستانیں ڈھائی جاتی ہیں۔ وہ کس کس کرب سے گزر کر اپنا وقت پورا کرتا ہے؟ کبھی وہ احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے اور کبھی اس کے چہرے پر ندامت کی سلوٹیں نظر آتی ہیں۔ وہ اپنی سفید پوشی میں گم سم رہتا ہے البتہ لوگ ظلم و ستم سے باز نہیں رہتے آپ یوں ہی سمجھ لیجیے یہ دنیا کا وتیرہ ہے۔ نہ وہ لوگوں کو غربت کی حالت میں دیکھ سکتے ہیں اور نہ انہیں خوشحالی کی حالت میں۔ انہیں دونوں صورتیں ناگوار گزرتی ہیں۔ اگر لوگوں کی نفسیات اور حالت زار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ غریبوں کی کمزوریوں کے ساتھ معاشی کھیل کھیلتے ہیں۔

کبھی انہیں کم اجرت دی، کبھی ان کے خاندانوں پر ہاتھ ڈالا، کبھی انہیں احسانات کے قرض جتائے، کبھی انہیں غربت کے کنویں میں پھینک دیا، کبھی انہیں جہالت کے طعنے دیے، کبھی ان کی سوچ کو مفلوج کر دیا۔ یہ ہماری سوچ کا ترازو ہے، جس میں ہم غریب کو رکھ کر اس کا وصف و وزن معلوم کرتے ہیں۔

کیا کبھی کسی نے اپنے ذہن کے بند کھڑکیوں کو کھول کر اس بات کو سوچا ہے کیا انسان کا جنم اپنے ہاتھ میں ہے؟

ہمیں تو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ خدا ہمارا جنم کس خاندان، قبیلے، گروہ، قوم اور نسل میں کردے۔ یہ ایک قدرتی امر ہے کہ کسی کی آنکھ تو محلوں میں کھلتی ہے اور کسی کے نصیب میں جھونپڑی کا سایہ آتا ہے۔

یہ تضاد و تعارض کی دنیا ہے کسی جگہ بہار کے موسم آباد ہیں تو کسی جگہ خزاں کی آمد ہے۔ نہ ہمارے اندر موسم ایک جیسے، نہ حالات ایک جیسے، نہ سوچ ایک جیسی، کہیں شعور کا بول بالا ہے تو کہیں جہالت کے کھڈے۔

غریب ہمیشہ دوسروں کی شان و شوکت کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے۔ وہ بڑی درد ناک آہوں اور اشکوں کے ساتھ خدا کے سامنے اپنی قسمت کا حال دریافت کرتا ہے۔ تنہائی میں اپنی بے بسی کے آنسو بہاتا ہے، اسے وراثت میں دکھ و غم مل جاتے ہیں۔

وہ حالات سدھار کا خواب پورا کرتے کرتے بڑھاپے کی سیڑھی پر قدم رکھ لیتا ہے، لیکن نہ اس کے حالات ٹھیک ہوتے ہیں اور نہ اسے منزل ملتی ہے۔ وہ اپنا سفر ایک بھٹکے مسافر کی طرح طے کرتا ہے۔ آئے دن اس کی معاشی مجبوریاں اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ اس کے حالات دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے اس نے غربت کی کئی جنگیں لڑی ہیں۔ حالانکہ اس نے اپنے ہاتھ کی ریکھاؤں میں محنت کے خواب دیکھے ہوتے ہیں۔

اس لئے وہ غربت کو اپنی عزت، محنت کو عظمت، زندگی کو قربانی سمجھ کر اپنا وقت گزارتا ہے۔ جواں مردی اور محنت بڑھاپے تک اس کے دوست بن کر سہارا دیتے ہیں۔

وہ سنگین حالات میں بھی شکر گزاری کے نذرانے پیش کرتا ہے۔ اخلاقی قدروں کا بھی پابند ہوتا ہے اور دوسروں کے غم کو اپنا غم سمجھتا ہے۔

وہ میل جول کا بھی شیدائی ہوتا ہے اور صاف گوئی اور وعدوں پاسداری کا پابند بھی ہوتا ہے۔ اس نے اعتماد کے کیپسول بھی کھائے ہوتے ہیں جس کے مضر اثرات بہت جلد دھوکوں کی صورت میں اس کے سامنے آ جاتے ہیں۔ وہ زندگی بھر افلاس کی صلیب اٹھاتا ہے۔ اس کے ہاتھ اور پاؤں میں محنت کی چنڈیاں اور چھالے پڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے کندھوں پر محنت کے زخم نظر آتے ہیں اور آنکھوں میں بے بسی کی تصویر بنتی دکھائی دیتی ہے۔

اس نے شکوہ بھی اپنے ہم عصروں سے کرنا ہوتا ہے۔ نہ اس کی زبان پر بڑا بول اور نہ اس کی نیت میں فتور ہوتا ہے۔ اس کا جی احساس کے رچاؤ سے بھرا ہوتا ہے۔

یقیناً غربت کی کوکھ سے برائیاں جنم لیتی ہیں۔ انہیں ختم کرنے کے لیے ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہو گا، اسے خوشی اور تحفظ فراہم کرنا ہو گا، اسے فکری معاش سے نکالنا ہو گا، اس کے کرب کو محسوس کرنا ہو گا، اس کے ساتھ ہاتھ ملانا ہو گا۔ شاید کل دو ہاتھ مل کر افلاس کی سلاخیں توڑ سکیں۔ آئیں اپنے ارادوں کو جذبات کی گرمائش دے کر تبدیلی کی طرف قدم بڑھائیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments