بارش میں سفر (suffer)


مشکبار خوشحال ایکسپریس کی اوپر والی برتھ پر گویا گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی۔ ایک دو بار آنکھ کھلی اور اس نے جھک کر کھڑکی سے باہر کا نظارہ کیا، کھڑکی کے چوکھٹے میں رات کی سیاہی اجالے میں تبدیل ہوتے دیکھی اور کروٹ بدل کر سو گئی۔ اب کی بار جو آنکھ کھلی اور اس نے برتھ سے منہ لٹکا کے کھڑکی کی طرف دیکھا تو منظر وہی پچھلی بار والا تھا۔ کچھ اچنبھا تو ہوا مگر نیند کی جھپک میں کچھ سوچنے سمجھنے کا یارا نہ تھا پر جب بار دگر بھی کھڑکی کے چوکھٹے میں وہی منظر منجمد دکھائی دیا تو وہ سٹپٹا کر اٹھ بیٹھی۔

گھڑی پر نظر ڈالی تو بارہ بج رہے تھے۔ ٹرین ٹھہری ہوئی تھی۔ پلیٹ فارم کی سرخ اینٹیں اور ”پٹارو“ کی سنگی تختی دھلی دھلائی لگ رہی تھیں۔ ایک نوجوان برقعہ پوش لڑکی اور ٹوٹی کمان جیسی انتہائی ضعیف خاتون کے سوا کمپارٹمنٹ میں کوئی نہیں تھا۔ مشکبار رات کو سونے کے لئے جب برتھ پر گئی تھی تو کمپارٹمنٹ میں پیر دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ راہداری میں عورتوں نے بستر پھیلا کر بچوں کو سلایا ہوا تھا اور خود سیٹوں پر آڑی ترچھی پڑ کے اونگھ رہی تھیں۔

جیکب آباد۔ کراچی روٹ پر مستورات کا ڈبہ علیحدہ ہوتا ہے۔ اسٹیشن پر گاڑی رکتی ہے تو ہمراہ سفر کرنے والے مرد کھڑکی پر آ کر اپنی خواتین سے پوچھ کر ضرورت کی چیزیں لا دیتے ہیں۔ لفنگے لونڈے بھی مستورات کے ڈبے کی کھڑکیوں کے آگے ایستادہ ہو کر سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور کسی غیرت مند شوہر یا بھائی کے ہاتھوں ذلیل ہونے کا خطرہ مول لیتے ہوئے آنکھیں سینکتے ہیں۔ مشکبار حیران تھی کہ گاڑی اسٹیشن پر کھڑی تھی لیکن خوانچہ فروشوں کے ’چائے کھانا‘ کے آوازے تھے نہ کھڑکیوں کے آس پاس کوئی بھیڑ تھی۔ وہ زینے کے بجائے برتھ سے براہ راست زقند لگا کے نیچے اتری۔ نوجوان لڑکی نے اسے مسکرا کر دیکھا اور کہنے لگی۔

”شکر ہے آپ ٹھیک ٹھاک ہیں میں تو آپکی خیریت کے لئے فکرمند ہو گئی تھی۔“

مشکبار کچھ نہ سمجھی۔ رات وہ بہت زیادہ تھکی ہوئی تھی اور سونے کے لئے برتھ پر چلی گئی تھی۔ وہ اپنے چچا کے پاس کراچی جا رہی تھی۔ وہیں کی یونیورسٹی میں اسے مزید تعلیم حاصل کرنا تھی۔ دن بھر ضرورت کا سامان جمع کرنے اور پیکنگ کرنے میں ہلکان ہو گئی تھی۔ بھائی ٹرین پر سوار کروا کے چلا گیا تھا۔ ہمسفر عورتوں کے فضول سوالوں سے بچنے کا واحد طریقہ یہی تھا کہ اوپر جاکر سو جائے۔ پہلا سوال تو یہ تھا کہ کس کے ساتھ جا رہی ہے اور جب اس نے کہا کہ وہ اکیلی جا رہی ہے تو ناک پر انگلی رکھ کے دوسری کی طرف منہ کر کے کہتی ہیں ”کیسا دیدہ ہوائی ہے“ ۔

اگلا سوال یہ تھا کہ شادی ہوئی ہے کہ نہیں؟ اب ظاہر ہے وہ کہتی ہے کہ غیر شادی شدہ ہے۔ تب ان کی نظروں میں ترحم در آتا ہے جیسے اس عمر تک شادی نہ ہونا دنیا کی سب سے بڑی بد قسمتی ہے ایک منہ پھٹ نے تو یہ تک پوچھ ڈالا تھا کہ رشتہ نہیں آتا یا خود ہی شادی نہیں کرنا چاہتی۔

تاہم یہ لڑکی خاصی سلجھی ہوئی لگ رہی تھی۔ دل موہ لینے والے چہرے والی نے بتایا کہ رات بھر طوفانی بارش ہوتی رہی تھی۔ ریلوے ٹریک کو شدید نقصان پہنچا تھا اور ٹرین آگے نہیں جا سکتی تھی۔ مسافروں کی اکثریت اتر کر بسوں کے ذریعے راہ منزل ہو چکی تھی۔ بوڑھی دادی کے ساتھ ہجوم اور دھکم پیل میں بس پر سوار ہونا ممکن نہیں تھا اس لئے ٹریک کی بحالی کا انتظار کر رہے تھے لیکن اس کے آثار نظر نہیں آتے تھے۔ ٹرین تقریبا خالی ہو چکی تھی۔ بارش بھی رک گئی تھی اس لئے وہ بھی اتر کر کوئی سواری تلاش کرنے جا رہے تھے۔

”میں حیران پریشان تھی کہ اس قدر افراتفری اور شورو غوغا کے باوجود ’برتھ والی لڑکی‘ کیسے سو رہی تھی۔“
”مشکبار نام ہے میرا“ ۔ اس نے ”برتھ والی لڑکی“ پر لقمہ دیا۔
”بہت پیارا نام ہے۔ مجھے سلیمہ کہتے ہیں۔“

سلیمہ اپنے بھائی اور دادی کے ساتھ دادو سے سوار ہوئی تھی اور کراچی جا رہی تھی۔ اسے جب علم ہوا کہ مشکبار کے ساتھ کوئی مرد نہ تھا تو ساتھ چلنے کی پیشکش کی۔ مشکبار نے اپنا سامان سمیٹا۔ اس کا سوٹ کیس کپڑوں سے زیادہ کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس میں نصابی و غیر نصابی، شاعری اور نثر، مذہبی اور معلوماتی ہر طرح کی کتابیں شامل تھیں۔

انہیں پلیٹ فارم کے مخالف دروازے سے اتر کر جانا تھا۔ مشکبار نے دروازے پر رک کر جائزہ لیا۔ ایک دوسرے کو کاٹتی پٹریوں سے گرافک ڈیزائن بناتی زمین کافی نیچائی پر تھی۔ اس نے ایک ہاتھ میں سوٹ کیس کا ہینڈل پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے دروازے کا ڈنڈا پکڑ کر اور پائیدان پر پیر رکھ کر جونہی اترنا چاہا تو ہینڈل نکل کر ہاتھ میں رہ گیا اور سوٹ کیس پٹری پر جا پڑا۔ بس غنیمت یہ ہوا کہ صرف ہینڈل پر ہی بلا ٹلی، بخیے نہ ادھڑ گئے۔ پر اب مشکل یہ تھی کہ ہینڈل کے بغیر اتنا بھاری سوٹ کیس کیونکر اٹھا کر لے جایا جائے۔ تب ہی ایک خدائی فوجدار نے آگے بڑھ کر اس کا سوٹ کیس اپنے کندھے پر اٹھا لیا۔ سلیمہ اس کی پھٹی ہوئی آنکھیں دیکھ کر ہنس پڑی کہنے لگی ”یہ میرے بھائی ہیں“ ۔

مشکبار نے کہا ”، کچھ کتابیں سوٹ کیس سے نکال لیتی ہوں تاکہ وزن کم ہو جائے۔“

سلیمہ نے صاد کیا۔ اور کچھ کتابیں پلاسٹک کے تھیلے میں ڈال کر مشکبار نے اٹھا لیں۔ سلیمہ کے بھائی ندیم نے کندھے پر مجروح سوٹ کیس اٹھایا اور سلیمہ نے اپنا سفری بیگ اور دادی کا ہاتھ تھاما۔ اسٹیشن کے پچھواڑے کافی لوگ سواری کے لئے کھڑے تھے مگر کوئی بس نہیں تھی۔ ایک ٹرک آ کر رکا اور ڈرائیور نے کھڑکی کا پٹ سرکا کر لے جانے کی پیشکش کی۔ چلتی کا نام گاڑی۔ لوگ راضی ہو گئے۔ ڈرائیور نے پچھلے حصے کا شٹر گرا دیا۔ عوام دوڑ کر سوار ہونے لگی۔

مشکبار بھی کتابوں کا تھیلا سنبھال کر پھرتی سے ٹرک کے پچھلے حصے پر چڑھ گئی۔ بے قابو ہجوم نے جس طرح ٹرک پر ہلا بولا سلیمہ اور دادی کے لئے ممکن نہیں تھا کہ سوار ہو پاتیں۔ سلیمہ بے چارگی سے دادی کا ہاتھ تھامے کھڑی رہی۔ ٹرک نے گھر گھرا کے اسٹارٹ لیا تو مشکبار حواس باختہ ہو گئی۔ اس کا سوٹ کیس ٹرک سے بیس قدم پیچھے ندیم کے کندھے پر دھرا تھا اور بیس لوگ اس کا راستہ مسدود کیے ہوئے تھے۔ مشکبار کے پاس اترنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اس نے چلا کر ڈرائیور کو ٹرک روکنے کو کہا اور چھلانگ لگادی۔ پیچھے سے کسی نے اس کی کتابوں کا تھیلا بھی اچھال دیا۔ ٹرک آگے بڑھ گیا۔ مشکبار گیلی مٹی پر سے دریدہ کتابیں سمیٹنے لگی۔ بارش کی پھوار

دوبارہ شروع ہو گئی تھی اور اس کے بھیگے رخساروں پر بارش کے قطرے آنسوؤں سے رل مل گئے تھے۔

جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان میں عورتوں اور بچوں کی تعداد زیادہ تھی جو کھلے آسمان تلے بارش کے رحم و کرم پر تھے جو اب تیز تر ہو گئی تھی۔ مسلسل بارش میں بھیگتے رہنے سے بچوں کے بیمار پڑنے کا اندیشہ تھا اس لئے جیسے ہی ایک ٹرک آ کر رکا مردوں نے آگے بڑھ کر مدد کی درخواست کی پہلے تو وہ راضی نہ ہوا لیکن پھر بچوں اور بوڑھی دادی کی کسمپرسی دیکھتے ہوئے جامشورو تک لے جانے پر راضی ہو گیا جہاں سے کراچی کی بس ملنا ممکن تھا۔

اس بار مشکبار نے سوار ہونے میں پہل نہ کی۔ ندیم اور سلیمہ دادی کو بستر بند کی طرح ٹرک کے پچھلے حصے پر چڑھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر ڈرائیور کا جذبہ ہمدردی جاگ اٹھا اور اس نے دادی اور پوتی کو کیبن میں بٹھانے کی پیشکش کردی۔ سلیمہ مشکبار کو بھی گھسیٹ لائی۔ ڈرائیور کے پہلو میں دادی، سلیمہ اور مشکبار کی ترتیب میں کیبن میں ٹھس گئے۔ ندیم سامان کے ساتھ پچھلے حصے میں تھا۔ ٹرک چل پڑا۔ ڈرائیور نے کیسٹ پلیئر ان کر دیا تھا اور کیبن میں مسعود رانا اور مالا کا شوخ نغمہ گونج رہا تھا

چلے ہیں دل والے روڈ ٹو سوات

مشکبار نغمے کی تان میں کھوئی ہوئی تھی کہ اچانک ٹرک رک گیا۔ اگے سڑک ٹوٹی ہوئی تھی۔ ان سے پہلے نکلنے والا ٹرک دلدل میں دھنسا ہوا تھا۔ تیز بارش میں ٹرک کے پچھلے حصے میں کپکپاتے بچے اپنی ماؤں سے لپٹے حرارت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے مشکبار نے سوچا وہ یہاں کیبن میں سکون سے موسیقی کے مزے لے رہی ہے اور ٹرک کے پچھلے حصے میں موجود بچے اسی طرح ٹھٹھر کر اپنی ماؤں سے لپٹے ہوں گے۔ ڈرائیور مزید آگے جانے پر راضی نہیں تھا لیکن بچوں کی بے چارگی پر رحم کھاتے ہوئے اس شرط پر ٹرک کچے میں اتارنے پر راضی ہوا کہ سارے مرد ٹرک سے اتر جائیں تاکہ وزن کم ہو جائے اور ٹرک دلدل میں نہ دھنسے۔ ایک بار ٹرک پکی سڑک پر اجائے تو مرد دوبارہ سوار ہوجائیں۔ مرتے کیا نہ کرتے، سارے مرد ٹرک سے اتر گئے۔ ڈرائیور نے فل ایکسیلریٹر دبایا اور زوں کر کے کیچڑ سے گزر گیا لیکن پکی سڑک پر آ کر بھی اس نے ٹرک نہ روکا۔ حواس باختہ مرد پیچھے دوڑے۔

”لپکو، پکڑو، جانے نہ پائے“

لیکن وہ عام مرد تھے کوئی اولمپک کے کھلاڑی نہ تھے کہ ٹرک سے ریس لگا پاتے پر ان میں سے ایک جانے کس طرح فلمی ہیرو کی مانند کیبن کی دائیں کھڑکی سے لٹکنے میں کامیاب ہو گیا اور شیشے پر ہاتھ مار کر چلایا

”، ٹرک روکو“

وہ ندیم تھا۔ لوگ صحیح کہتے ہیں نام کا اثر ہوتا ہے مشکبار نے سوچا بس اب ہیرو کی طرح وہ کھڑکی سے اندر آ کر ڈرائیور کو باہر پھینکے گا اور اسٹیرنگ سنبھال لے گا۔ لیکن ندیم چھپکلی کی طرح ٹرک کی دیوار سے چپکا ہوا ٹرک روکنے کا حکم دیتا رہا ڈرائیور نے چلا کر جواب دیا

”، ٹرک روکا تو دوبارہ اسٹارٹ نہیں ہو گا اس لئے چلتے ٹرک پر سوار ہونا ہو گا“
”، اچھا رفتار تو کم کرو“ ندیم نے شیشے پر پڑتی بوچھاڑ سے اونچی آواز میں چلا کر کہا۔

ڈرائیور نے رفتار مندی کی اور مرد سرکس کے کرتب باز کی طرح چلتے ٹرک پر چڑھے۔ بادل اس نظارے ہر یوں دم بخود ہوئے کہ برسنا بھول گئے۔ ٹرک کے ونڈ اسکرین پر پر نالوں کی جگہ پولکا ڈاٹ نے لی اور پھر وہ بھی غائب ہو گئے۔ ڈرائیور نے وائپر بند کر دیے۔ مسعود رانا کی آواز گدگدا نے لگی۔

شبنمی فضائیں ہیں، نیلمی نظارے ہیں
بے خودی کے یہ لمحے زندگی سے پیارے ہیں

یہ نغمہ وینس میں فلمایا گیا تھا۔ نہر نما سڑک پر شڑاپ شڑاپ پانی اڑاتے ٹرک کے کیبن میں بیٹھی مشکبار خود کو وینس کے پانیوں پر پھسلتے بجرے پر اٹھلاتی روزینہ کی جگہ محسوس کر رہی تھی۔ نغمگی اس کے روم روم میں برس رہی تھی۔ وہ آنکھیں بند کیے وینس کے نظاروں اور نغمے کی مدھرتا میں کھوئی ہوئی تھی۔ یہ سفر آئن اسٹائن کی دریافت کردہ روشنی کی رفتار سے بھی تیز تر ثابت ہوا اور وہ دم کے دم میں اٹلی سے جامشورو پہنچ گئی۔

جامشورو پر کراچی جانے والی بسوں کی قطار تھی لیکن پھر بھی وہی دھکم پیل وہی پائیدان پر جمگھٹا وہی بے صبری۔ شاید من حیث القوم ہم بے صبر اور غیر منظم رہنا پسند کرتے ہیں۔ دادی کو اس ہڑبونگ سے دور لئے وہ ایک شیڈ کے نیچے کھڑے بھیڑ چھٹنے کا انتظار کر رہے تھے جامشورو میں ہلکی سی پھوار پڑ رہی تھی تبیہی کہیں سے بانسری کی مدھر تان آتی سنائی دی۔ مشکبار اس آواز کا مخرج تلاش کرنے کے لئے ادھر ادھر تاک رہی تھی ندیم نے دور انگلی سے یوں اشارہ کیا جیسے ہلال عید کے لئے کرتے ہیں۔ اس سمت میں مشکبار نے دیکھا تو زمانے بھر کی فکر سے بے نیاز بانسری نواز ٹرک پر لدی بجری سے ٹیک لگائے نے پر دھنیں بکھیر رہا تھا۔

پہلی بس بھر کر چلی گئی تو دوسری بس میں مشکبار اور ندیم کی فیملی بھی سوار ہو گئے۔ تینوں خواتین ساتھ بیٹھیں اور ندیم پیچھے بس ہائی وے پر بھاگنے لگی۔ مشکبار کھڑکی کے شیشے سے ماتھا ٹکائے پیچھے بھاگتے مناظر سے لطف اندوز ہونے لگی۔ ڈرائیور نے اسٹیریو کا بٹن دبایا اور احمد رشدی کی دلگداز آواز گونجنے لگی

اے ابر کرم آج اتنا برس
اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں
اور مشکبار نے نور جہاں اور رجب علی کے علی زیب پر فلمائے گئے گانے سے مستعار لے کر گنگنایا
اللہ نہ کرے
ہے اللہ نہ کرے۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “بارش میں سفر (suffer)

Comments are closed.