چرچ کے پادریوں کا وسیع پیمانے پر جنسی استحصال۔ مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کے مختلف انگریزی اخباروں کے عالمی ایڈیشن میں چھپی خبروں کے مطابق فرانس کے کیتھولک چرچ کے پادریوں نے تقریباً دو لاکھ سولہ ہزار بچے بچیوں کا جنسی استحصال کیا ہے۔ روم میں مسیحی مرجع اعلیٰ ویٹیکن کے سب سے اعلیٰ سربراہ پوپ فرانسس نے اسے ذاتی طور پر اپنے لئے اور عمومی طور پر کیتھولک چرچ کے لئے باعث شرم قرار دیا ہے۔ مختلف حلقوں سے چرچ میں جنسی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اٹلی کے پادریوں کو بھی اپنے یہاں بچے بچیوں کا جنسی استحصال کی تحقیقات کرانے کی جرات کرنی چاہیے۔

چند مہینے قبل بھی اسی طرح کے انکشاف پر پوپ نے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ چرچ پر سے لوگوں کا اعتماد ختم یا کم ہونے کے اسباب یہی سب ہیں۔

لیکن انکوائری کمیشن تحقیقات اور اس کے نتائج کیا اس برائی کو لگام لگا سکتے ہیں؟ ظاہر ہے نہیں اس لئے کہ فطری تقاضوں کو مذہب یا ریتی رواج کی دہائی دے کر کچلا نہیں جا سکتا ہے۔

مذکورہ بالا تعداد کا انکشاف 10۔ 13 سال کی عمر کے بچے بچیوں کے تعلق سے ہے اس لئے کہ بچے بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی بہت گھناؤنا جرم سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ خبر اس معاشرہ میں بہت زیادہ تشویش کی باعث بنی ہوئی ہے۔

دین اسلام میں زنا گناہ عظیم ہے خواہ زنا بالجبر ہو یا بالرضا۔ لیکن مغربی معاشرے میں زنا بالجبر اور زنا بالرضا میں فرق رکھا گیا ہے اس لئے بالغوں کے ساتھ جنسی تعلق اور شوہروں کے ساتھ بے وفائی مذکورہ عدد میں شامل نہیں ہے ورنہ ظاہر ہے بالغوں کے ساتھ جنسی تعلق، جنسی زیادتی اور بے راہ روی کو شامل کرنے سے تعداد اور زیادہ ہوتی۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ہزارہا شکر و احسان ہے کہ اس نے ہم کو دین حنیف اور دین فطرت کا متبع بنایا۔

اسلام وہ دین ہے جو نہ صرف یہ کہ دین و دنیا میں تفریق نہیں کرتا ہے بلکہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے فطری ضرورتوں کو پورا کرنے، فطری مناظر اور قدرت کے حسن و جمال سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ اسلام نے جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لئے نکاح کو نصف ایمان، ایمان کو مکمل کرنے والا اور زنا سے روکنے والا بتایا ہے۔ اسلام میں انسان اور انسان میں فرق نہیں کیا گیا ہے۔ جو کچھ ایک عام مسلمان کے لئے ناجائز یا حرام ہے وہ مذہبی پیشواؤں کے لئے بھی ناجائز یا حرام ہے۔ جو کچھ عام مسلمانوں کے لئے حلال اور جائز ہے وہی مولوی مولانا امام مؤذن صوفی اور بزرگ کے لئے بھی حلال ہے۔

جائز ناجائز کا پیمانہ ہر مسلمان کے لئے ایک ہے خواہ وہ امام ہو یا مقتدی صوفی ہو یا مرید۔

جنسی خواہشات کی تکمیل ایک فطری ضرورت ہے۔ جائز طریقے سے اس کی تکمیل کی صورت مہیا نہیں ہوگی تو ظاہر ہے ناجائز طریقے اپنائے جائیں گے۔ اسی لئے دین اسلام نے اس فطری تقاضا کو پورا کرنے کے لئے حلال راستہ نکاح کا بتایا ہے اور ہر بالغ مرد عورت کے لئے نکاح کو ازدواجی زندگی قائم کر کے جنسی شہوت بجھانے کا اور افزائش نسل کا ذریعہ بنایا ہے۔ بالغ مرد و عورت خواہ امیر ہو یا غریب، تعلیم یافتہ ہو یا ناخواندہ، شہری ہو یا دیہاتی مسجد کے امام مؤذن ہوں یا خانقاہ کے صوفی، مزدور ہو یا مالک تاجر ہو یا ملازم ہر ایک کے لئے نکاح کی ترغیب دی ہے۔

دوسرے مذاہب میں بعض طبقات بالخصوص مذہبی پیشواؤں ؛ چرچ میں پادریوں اور مندروں و آشرموں میں سنیاسیوں اور پجاریوں کے لئے ازدواجی زندگی ممنوع ہے۔ ‌ ظاہر ہے یہ فطرت کے خلاف ہے اس لئے برہمچاری ہو پادری وہ بھی گوشت پوست سے بنے انسان ہی ہوتے ہیں اسی لئے عموماً اپنی نفسانی خواہشات کو کچلنے میں کسی نہ کسی موڑ پر ناکام رہتے ہیں اور نتیجہ زائرین کے ساتھ دست درازی، جنسی زیادتی اور استحصال کے واقعات اخبارات میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے ہیں۔

مسلم معاشرہ میں اس کی گنجائش کم اس لئے ہے کہ دین اسلام نے ایسے چور دروازے بند کر رکھا ہے اور وہ اس طرح کہ مساجد مدارس اور خانقاہوں میں مرد و زن کا اختلاط ممنوع قرار دیا ہے۔

لمحہ فکریہ۔

انسان کا مذہب کوئی بھی ہو اس کے فطری تقاضے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ‌ اس لئے مساجد و مدارس کے ائمہ مؤذنین اور مدرسین کے لئے اگر نالے بند کر دیے جائیں گے تو ظاہر ہے پرنالے کھلیں گے۔

اسلام انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے اور مساجد اور مدارس اس کے نمائندہ ادارے ہیں۔ ان اداروں سے وابستہ افراد ملازمین کے ساتھ اسلامی تعلیمات کے بموجب سلوک کیوں نہیں ہوتا؟

وقت پر مناسب تنخواہ کیوں نہیں دی جاتی! ان کا استحصال کیوں کیا جاتا ہے؟ ان کو بھی سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین کی طرح بال بچوں کے ساتھ باعزت زندگی بسر کرنے کا حق ہے۔

بے روزگاری کا یہ عالم ہے کہ امام مسجد کے متولی سے کہتا ہے کہ صرف امامت کے لئے مسجد دے دیجئے ایک کونے میں رہ لیں گے اور ٹیوشن پڑھا کر گزر بسر کر لیں گے۔ اسی مجبوری کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ مسجد کے رنگ و روغن اور نقاشی پر خرچ کرنے کے لئے سنگ مرمر اور ٹائل کے لئے بجٹ ہے لیکن امام و مؤذن کے لئے بجٹ نہیں ہوتا!

مسلم عوام و خواص اور مہتمم ناظم متولی حضرات کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ امام مؤذن اور مدرس کے لئے شادی شدہ ہونا شرط رکھی جائے اور مسجد کمیٹی کے ذمے داران امام اور مؤذن کے لئے فیملی کوارٹر یا ہاؤس رینٹ الاؤنس دینے کا نظم کریں اسی طرح مدارس کے ذمے داران مدرسین کو فیملی کوارٹر یا ہاؤس رینٹ الاؤنس دیں۔ دینی مدارس کی اقامت گاہوں میں طلبہ کی رہائش کا نظم بہت خراب ہوتا ہے جوانی کی دہلیز پر پہنچنے والے بچوں کے لئے بھی الگ بیڈ بستر کا نظم کا نہیں ہونا جنسی بے راہ روی کا سبب ہوتے ہیں۔

ان دینی مدارس میں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ جب بچے سن بلوغ کو پہنچ جائیں تو والدین ان کے کمروں میں دستک دیے بغیر داخل نہ ہوں، اس عمر کے بچے اور بچیوں کے لئے الگ بستر کا نظم ہو۔ دین اسلام کا یہ حکم عام مسلمانوں کے گھروں کے لئے ہے اور اس حکم کی وجہ سے ہم سب بخوبی واقف ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ دین کی تعلیم پر عمل خود ان مدارس کی قیام گاہوں میں نہیں ہوتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments