ڈاکٹر صاحب کن منافقوں سے آس لگا لی تھی

2013 کے اواخر میں بچوں کے مشہور پروگرام عینک والا جن کے کردار عبد المطلوب عرف زکوٹا جن کو فالج کا اٹیک ہوا تو ایک نیوز پیکج بنایا۔ عبد المطلوب لاہور کے مضافاتی علاقے میں ایک کرائے کے پورشن میں مقیم تھے۔ بالائی منزل پر مشتمل یہ گھر اپنے مکینوں کی عسرت کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہا تھا۔ ایک مفلوج ہاتھ لئے عبد المطلوب کی مفلوک الحالی دیکھ کر میرے میں اتنا ہمت نہیں ہوئی کہ میں ان سے نظریں ملا سکوں۔ سفید پوشی کا بھرم لئے اس تنگ حال شخص کی جب نیوز رپورٹ اس وقت سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوئی تو وائرل ہو گئی۔ سہیل احمد عزیزی نے یہ نیوز رپورٹ شیئر کر کے مداحوں سے مدد کی اپیل بھی کی۔ کئی لوگوں نے اکاؤنٹ نمبر اور موبائل نمبر مانگا تو بہت حوصلہ ہوا کہ شاید ایک ہیرو کو اس کی زندگی میں ہی اس کی خدمات کا صلہ مل جائے گا۔
مگر یہ غلط فہمی اس وقت دور ہو گئی جب عبد المطلوب نے رابطہ کر کے آگاہ کیا کہ لوگوں کی ٹیلی فونز کالز کا تانتا بندھ گیا ہے۔ ہر بندا بینک اکاؤنٹ پوچھنے کے لئے نہ دن دیکھ رہا ہے نہ رات مگر یہ جوش صرف بینک اکاؤنٹ پوچھنے تک ہی محدود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تو تنگ آ کر وہ جس کا فون آتا ہے اس کو یہ جواب دے دیتے ہیں کہ وہ اب تندرست ہیں اور انہیں کوئی مالی یا کوئی اور مسئلہ نہیں ہے۔ اس صورتحال پر مجھے بہت مایوسی ہوئی، ہم کتنی منافق قوم ہیں کہ بجائے اپنے ہیرو کی مدد کرنے کے اس شخص کو مزید ذہنی کوفت اور اذیت دے رہے ہیں۔ قصہ مختصر عبد المطلوب کی امداد کا جتنے ہزار لوگوں نے دعوی کیا، ان کے بینک اکاؤنٹ میں اتنے ہزار کی رقم تک نہ بھیجی گئی۔
یہ کہانی تو ایک ڈرامے کے کردار کی ہے مگر ہمارے گناہوں کی فہرست تو طویل ہے۔ یہاں ہاکی میں گولڈ میڈل اور ورلڈ کپ دلوانے والوں کی بیٹیاں علاج کے لئے سرکاری دفاتر کے دھکے کھاتی ہیں۔ اولمپیئن رکشے چلاتے ہیں، ہیروز سفید پوشی کا بھرم لئے گمنامی میں مر جاتے ہیں۔ ہمارے دل میں صرف ان کا درد جاگتا ہے جس کو میڈیا یا سوشل میڈیا رپورٹ کرتا ہے۔ وگرنہ ہمارے محلے دار ہی کیوں نہ ہوں ہم کبھی خیر خبر لینا مناسب نہیں سمجھتے ہیں۔
2014 میں لاہور کے ایکسپو سینٹر میں نجی یونیورسٹی کے طلباء کی گریجوایشن تقریب کا دعوت نامہ آیا تو مہمان خصوصی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام پڑھ کر میں نے اپنے اسائنمنٹ ایڈیٹر سے درخواست کی یہ ایونٹ میں نے کور کرنا ہے۔ کیونکہ مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا، ایونٹ میں وقت سے پہلے ہی پہنچ گیا کہ اگلی نشستوں میں سے کسی پر قبضہ کرلینا ہے تاکہ ملاقات یقینی ہو جائے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سادہ لباس میں ملبوس سکیورٹی وہاں پہلے سے ہی موجود تھی اور ہم تمام صحافیوں کو اٹھ کر سب سے آخر کی نشستوں پر بیٹھنے کا حکم صادر کر دیا گیا، مجھ سمیت باقی دوستوں نے احتجاج کرنے کی کوشش کی تو ہمیں دبے لہجے میں یہ کہہ دیا گیا کہ آپ لوگوں کو پیچھے جانا ناگوار گزر رہا ہے تو باہر بیٹھ جائیں پریس ریلیز اور ڈی وی دے دی جائے گی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان سادہ لباس افراد کی سکیورٹی میں تشریف لائے، خطاب کیا، پوزیشن ہولڈر چند طلباء میں اسناد تقسیم کیں، مختصر سا خطاب ختم کیا تو انہیں ان کے سکیورٹی انچارج نے چلنے کا بول دیا۔ یوں میں جو ان سے ملاقات اور چند سوالات کی آس لئے گیا تھا نامراد لوٹ آیا۔ اس دن سے پہلے مجھے لگتا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمارے ہیرو ہیں تو ان کی زندگی بھی ویسی ہوگی جیسے کسی اور سیاستدان اور سلیبرٹی کی ہوتی ہے مگر وہ تو مجھے ایک مجبور انسان نظر آئے جن کے افعال، روزمرہ کی زندگی ایک کہانی کے کردار کی طرح لگی۔ وہ کردار جسے ڈائریکٹ اور پروڈیوس کوئی اور کر رہا تھا۔
اس شخص کی 2009 کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد ظاہری طور پر تو نظربندی ختم ہو گئی تھی مگر سکیورٹی وجوہات کے نام پر ان پر نظربندی سے بھی سخت پابندیاں لگادی گئی تھیں۔ ایک ایسے وقت میں جب پڑوسی ملک کو ایٹمی قوت بنانے والا شخص وہاں کے صدر مملکت حلف لے رہا تھا، ہمارے ہاں اسی کا ہم پلہ انسان اپنی آزادی کی عدالتی جنگ لڑ رہا تھا۔ انصاف کا تو یہ عالم ہے کہ ایک عدالت نے سماعت کو دائرہ اختیار سے باہر قرار دے کر اپنا دامن جھاڑ لیا تو دوسری عدالت میں ان کی درخواست سماعت کے لئے ہی 9 مہینے بعد مقرر ہوئی۔
یہ وہی عدالت ہے کہ جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر سوو موٹو لئے جاتے ہیں۔ جہاں ایک دھاندلی زدہ الیکشن کے نتیجے میں نا اہل قرار دیے جانے والے شخص کی اس فیصلے کے خلاف کی گئی اپیل کو فوری سماعت کے لئے مقرر کر لیا جاتا ہے۔ نہ صرف سماعت کے لئے مقرر کیا جاتا ہے بلکہ فوری اس نا اہلی کے خلاف حکم امتناعی جاری کرے مقدمہ غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا جاتا ہے۔ مگر نہیں ہوتی سماعت تو ایک محسن کی آزادی کی درخواست کی۔
اس پر ظلم تو یہ ہے کہ وہ شخص بیمار ہوتا ہے اسی دوران اس کے مقدمہ کی سماعت ہوتی ہے، دوران سماعت جج صاحب سے دریافت کیا جاتا ہے کہ آپ نے ان کی صحتیابی کے لئے دعا تو کی ہوگی تو جج صاحب منہ پر انگلی رکھ کر وکیل کو خاموشی والا اشارہ کر دیتے ہیں۔ اس دوران ہمارے ایماندار وزیراعظم سمیت کسی بھی اہل اقتدار سوائے وزیراعلی سندھ کے ان کی عیادت یا پھر صحتیابی کے لئے نیک خواہشات تک پہنچانے کی توفیق نہ ہوئی۔ ان کو اس نظر بندی سے آزادی کسی عدالت نے تو نہ دی مگر اجل نے آ کر آزاد کروایا۔ یوں ایک ڈرپوک، بزدل، کج رو، منافق قوم اور حکمرانوں کے استبداد سے انہیں چھٹکارا ملا۔
مجھ سمیت باقی سب قوم جو ٹویٹر اور فیس بک پر گریہ و زاری لگے ہیں اور ہیرو ہیرو کی گردان لگائے ہوئے ہیں۔ ہم نے کیوں نہ ان کی زندگی میں ان کی نظربندی کے خاتمے کے لئے کوئی ٹویٹر ٹرینڈ چلایا۔ ویسے تو چائے کے مگ اٹھائے جانے اور ہینڈسم وزیراعظم کے لئے تو ٹرینڈ چلا لیے جاتے ہیں۔ لوگوں کی لیک ہوئی ویڈیو پر تو ٹرینڈ چل جاتا ہے مگر کسی نے اپنے محسن کے لئے آواز نہ اٹھائی۔ افسوسناک طور پر حکومت پاکستان نے ان کا عجلت میں نماز جنازہ اور تدفین کی، فیصل مسجد میں ہونے والی نمازجنازہ بھی رش کی وجہ سے بدانتظامی کا شکار نظر آئی۔
نمازجنازہ میں بھی وزیراعلی سندھ کے علاوہ کسی بھی ہینڈسم، کسی بھی ایماندار، کسی بھی بھولے کسی بھی تیز طرار حکمران نے بھی شرکت کرنے کی توفیق نہ کی۔ کیا اس کو سرکاری اعزاز میں تدفین کرنا قرار دیا جاسکتا ہے؟ کیا ایسے کوئی ریاست/قوم اپنے محسن کو الوداع کرتی ہے؟ بھئی آپ سے اچھے تو ہندو ستان والے نکلے کہ جنہوں نے اپنے ایٹمی پروگرام کے خالق کو ایسے رخصت کیا کہ آج آپ لوگوں کو ہی تعریف کرنی پڑ گئی۔ باقاعدہ سے ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم پوری کابینہ، مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی اور وزیراعظم نے سیلوٹ کر کے میت کو روانہ کیا۔
ہمارے ہاں تو بس ایک دن ٹویٹر پر ٹرینڈ چلا، سب کے دل میں درد جاگا، میرے جیسوں نے چار لائنیں لکھ ڈالیں، 20، 25 غائبانہ نماز جنازہ ادا ہونے اور اللہ اللہ خیر صلا، بس ہمارا دکھ ہمارا افسوس ہمارا حزن کسی اور محسن کی بے بسی اور درد بھری موت تک ہوا ہوجانا۔ حبیب جالب نے اپنی لازوال نظم کے ذریعے کیا خوب عکاسی کی تھی
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا ۔
اے چاند یہاں نہ نکلا کر
نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں
ہاں کہنے کو وہ خادم ہیں
یہاں الٹی گنگا بہتی ہے
اس دیس میں اندھے حاکم ہیں
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر


ایسی محسن کش قوم کے انجام سے ڈر لگتا ہے
مجھے تو پاکستان اور یہاں کے اسلام سے ڈر لگتا ہے
دجال اور الومیناتی سے ڈراتا ہے ہمیں اوریا
مجھے تو تبدیلی اور مدینہ ثانی کے امام سے ڈر لگتا ہے