میلہ دلوں کا آتا ہے اک بار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے ایک کلاس فیلو نے مجھے بتایا کہ غازی پارک میں ایک بہت اچھی نمائش لگی ہوئی ہے۔ غازی پارک ہمارے شہر کا فیملی پارک تھا۔ وہ ہمارے گھر سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر واقع تھا۔ مگر بچپن میں ایک گلی کا فاصلہ بھی میلوں کے برابر ہوتا ہے۔ بقول شاعر۔

دو قدم پر سہی تیرا کوچہ
یہ بھی صدیوں کا فاصلہ ہو گا

مگر میں نے پارک جانے کی ٹھان لی تھی۔ ایک روز اسکول سے واپسی پر میں کسی کو بتائے بغیر چوری چھپے پارک کی طرف چل پڑا۔ ہمارا گھر اسکول اور پارک کے درمیان میں آتا تھا۔ میں چاہتا تو اپنا بھاری بستہ گھر رکھ سکتا تھا۔ مگر اس طرح میرا راز افشا ہو جاتا۔ میں دوسری گلی سے پارک کی طرف بڑھ گیا۔ اپنی دھن میں گم میں عامر خان اور ٹوینکل کھنا کی فلم ”میلہ،“ جو میں نے کچھ روز قبل اپنے کزنوں کے ساتھ دیکھی تھی، کا گانا گا رہا تھا۔

”میلہ دلوں کا آتا ہے اک بار آ کے چلا جاتا ہے۔“

کچھ دیر بعد میں پارک کے گیٹ پر پہنچ گیا۔ اسکول کا یونیفارم اور جوتے پہنے، خالی جیب کے ساتھ، اکیلا، میں پارک میں داخل ہوا۔ نمائش کی وجہ سے داخلے کی کوئی فیس نہیں تھی۔ میں پہلی بار اس طرح کی کسی نمائش میں آیا تھا۔ میں گویا ایک نئی دنیا میں داخل ہو چکا تھا۔

عموماً ہم رات کے وقت پارک آتے تھے۔ اس وقت پارک اور جھولے روشنیوں میں نہائے ہوتے تھے۔ اب دن میں پارک کی گھاس پر سردیوں کی چمکیلی دھوپ بچھی ہوئی تھی۔ ریل گاڑی کی پٹڑی کی بائیں طرف سارے جھولے ساکت موجود تھے۔ اور دائیں جانب وہ نمائش لگی ہوئی تھی اور ساری چہل پہل تھی۔

میں ایک ایک سٹال کو دیکھتا ہوا آگے گزر رہا تھا۔ ضرورت زندگی کی ہر شے وہاں پر دمک رہی تھی۔ لوگ اپنی فیملی کے ساتھ آئے ہوئے تھے اور دکان داروں سے سودے بازی کر رہے تھے۔

سب سے آخر میں کتابوں کا ایک سٹال تھا۔ میں اندر چلا گیا۔ میری نظر تیزی سے کتابوں پر اچھلتی ہوئی اچانک انٹیریر ڈیزائن کے مگزینوں پر آ کر رک گئی۔ میں ایک میگزین کو کھول کر دیکھنے لگا۔ صفحہ در صفحہ نئی دنیائیں موجود تھیں۔ میں نے میگزین واپس رکھ دیا اور باہر آ گیا۔ میں مزید ایڈونچر کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔

اور میں کوئی چیز خریدنے وہاں تھوڑی گیا تھا۔ مجھے تو بس خود کو نظاروں سے سیراب کرنا تھا۔ اور جلدی کرنا تھا۔ میں زیادہ دیر وہاں نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ سو تھوڑی دیر میں گھر واپس آ گیا۔

گھر آ کر سب سے اچھا کام یہ ہوا کہ بھاری بستے سے نجات مل گئی۔ میں نے جلدی سے یونیفارم بدلا اور گھر کے آرام دہ کپڑے پہن لیے۔ سب گھر والے کھانا کھا کر چھت پر سردی کی دھوپ سینک رہے تھے۔ میں نے اکیلے کھانا تناول کیا۔ اس دن آلو میتھی پکی ہوئی تھی۔

میں نے کچھ دیر کے لیے ٹی وی آن کر لیا۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا ٹیسٹ میچ آ رہا تھا۔ کچھ اوورز دیکھے اور پھر چھت پر چلا گیا۔ اب مجھے ہوم ورک کرنا تھا۔ پھر وہی بستہ! بقول گلزار۔

پھر وہیں لوٹ کر جانا ہو گا
یار  نے کیسی رہائی دی ہے

کام کے بعد مجھے شام کی خرچی ملتی۔ میں فوراً چیز لینے ساجد کی دکان پر چلا جاتا۔ اس کے بعد چوک میں دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتا۔ یا چھت پر ہی کسی پتنگ کے گر کر کٹنے کا انتظار کرتا۔ اسی انتظار میں بچپن گزر گیا اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ دیے۔

اب شہر میں آئے دن کوئی نہ کوئی نمائش لگی رہتی ہے۔ فاصلے بھی گھٹ گئے ہیں۔ سواری بھی موجود ہے۔ استطاعت بھی رکھتے ہیں۔ اجازت کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ مگر اب وقت نہیں ملتا۔

اب کمر پر بھاری بستہ نہیں مگر ذہن میں ہزار ٹینشنیں چل رہی ہوتی ہیں۔ اب فیس بک اور واٹس ایپ پر سب فرینڈز آن لائن بیٹھے ہوتے ہیں مگر اسکول کی بریک میں دوستوں کے ساتھ ”پکڑن پکڑائی“ اور ”گولہ کاری“ والی تفریح نہیں۔

موبائل میں بیسیوں گانے موجود ہیں مگر کیسیٹ کو ریورس اور فارورڈ کر کے جگجیت کی ”وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی“ سننے کا لطف نہیں۔

یوٹیوب پر سینکڑوں ڈرامے اپلوڈڈ ہیں مگر ایس ٹی این پر ہارر ڈرامہ دیکھنے کا سواد نہیں۔ نیٹ فلکس پر ہزاروں فلمیں موجود ہیں مگر پی ٹی وی پر ہفتے کی رات کو انگلش مووی دیکھنے کا مزہ نہیں۔

کزنز فکر معاش اور خانہ آبادی کے چکر میں ملک کے مختلف شہروں میں بکھر گئے ہیں۔ سو اب ایک ساتھ ”راجہ ہندوستانی،“ ”عشق“ اور آرنلڈ کی مووی دیکھنے کا امکان نہیں۔

کیونکہ اب ہم بڑے ہو گئے ہیں بچے نہیں رہے۔ معصومیت کی جگہ سنجیدگی نے لے لی۔ چہرے پر متانت آ گئی اور آنکھوں کی حیرت جاتی رہی۔ سچی بات ہے کہ ”میلہ دلوں کا آتا ہے اک بار آ کے چلا جاتا ہے۔“


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 34 posts and counting.See all posts by farhan-khalid

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments