عمران خان اور حضرت خالد بن ولیدؓ کی مثال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کارکردگی کے میدان میں حکومت کے پاس کوئی ایک بھی کارنامہ نہیں اسی لیے وہ اپنی ناکامی کو اداروں کی ڈھال لے کر چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ حکومت اٹھتے بیٹھتے اپوزیشن پر اداروں کی ساکھ خراب کرنے اور ان کی حیثیت متنازع بنانے کا الزام عائد کرتی ہے لیکن جتنا نقصان اس حکومت نے اپنے تین سال میں ریاستی اداروں کو پہنچایا ہے شاید پوری ملکی تاریخ میں اتنا نقصان نہیں ہوا۔ ایک طرف خود پر ہونے والی سیاسی تنقید کا رخ حکومت اداروں کی جانب موڑ دیتی ہے تو دوسری جانب اپنی طرف سے اداروں کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سیدھا سادا معاملہ تھا۔ نا اہل حکومتی قانونی ٹیم اور مشیروں کی وجہ سے یہ معاملہ تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔ عدالت میں پہنچنے کے بعد بھی مسئلے کو سلجھانے کے بجائے حکومت نے اپنے تئیں مزید الجھانے کی حتی المقدور کوشش کی۔ ایک دو نہیں بلکہ چار بار عدالت میں سمری بنا کر پیش کی گئی مگر معاملہ حل ہونے کے بجائے مزید گمبھیر ہوتا گیا۔ اٹارنی جنرل کے دلائل تو ایسے تھے جنہیں سن کر بے اختیار اپنا سر پیٹنے کو جی چاہ رہا تھا۔

بات کسی طور بنتی نہ دیکھ کر آخری چارے کے طور پر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی کہ قانون کی چھڑی میں اگر سختی ہو تو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ بعد ازاں اٹارنی جنرل کی طرف سے عدالت میں آرمی چیف کی توسیع کا قابل عمل جواز یا جائز طریقہ پیش نہ ہونے کے باوجود عدالت نے ہی نرمی سے کام لیتے ہوئے حکومت کو مزید چھ ماہ کی مہلت اور آرمی چیف کو اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے کی اجازت دے کر حکومت کی اس مسئلے سے جان چھڑائی۔ آخرکار وہی حکومت جو اپوزیشن پر اداروں کی ساکھ خراب متنازعہ بنانے کا الزام عائد کرتی ہے اسی کی مہربانی سے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قوانین پہلی بار پارلیمنٹ میں گئے اور اس پر ملک بھر میں بحث ہوئی۔

اب ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے معاملے بھی وہی کھیل دہرا کر حکومت نے جان بوجھ کر ادارے کی ساکھ اور فیصلوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ عمومی طور پر طریقہ یہی ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل کی سطح کے عہدوں کی تقرری و تبادلے سے متعلق جی ایچ کیو کی جانب سے وزیراعظم کے دفتر کو سمری بھیجی جاتی ہے اور وزیراعظم کا دفتر اس سمری کو منظور کر کے نوٹیفیکیشن جاری کر دیتا ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ ایک دن کا پراسس ہے لیکن مسلسل ایک ہفتہ نئے آئی ایس آئی چیف کی تقرری کا نوٹیفیکشن جاری نہیں کیا گیا۔

اس دوران دنیا بھر سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے چہ میگوئیاں ہوئیں اور ایک بار پھر ادارے کی ساکھ اس حکومت کے اقدام سے متاثر ہوئی۔ نوٹیفیکیشن کے اجراء میں تو لیت و لعل سے کام لیا ہی گیا جان بوجھ کر حکومت نے اس حوالے سے منعقد ہوئے کابینہ کے اجلاس کی وہ وہ باتیں میڈیا پر لیک کی گئیں جس سے ریاستی اداروں سے محاذ آرائی اور ان کی تضحیک کا پہلو ابھرا۔ حکومتی ترجمانوں کا موقف ہے کہ افغانستان کی صورتحال کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو مزید چھ ماہ تک عہدے پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ بات درست ہو مگر وزیراعظم صاحب کی طرف سے تقریر کے دوران کہی گئی اس بات کے بعد کہ حضرت عمرؓ خلیفہ وقت تھے اور انہوں نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو سپہ سالار کے عہدے سے ہٹا دیا تھا لگتا ہے کہ اس ضد کی وجہ کچھ اور ہے۔

کیونکہ حضرت عمر فاروقؓ نے اسلامی لشکر کو ملنے والی مسلسل فتوحات کے بعد اس خدشے کے پیش نظر کہ کہیں مسلمان ان کامیابیوں کو اللہ کی نصرت کے بجائے کسی شخصیت کے ذاتی کرشمے سے منسوب نہ کر لیں حضرت خالد بن ولیدؓ کی برطرفی کا فیصلہ کیا تھا۔ اس عمل سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کسی شخصیت کے بجائے ادارے پر اعتماد اور انحصار کے قائل تھے۔ عمران خان صاحب کو اس طرح کی مثال دینے سے قبل یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے تھی کہ حضرت عمر فاروقؓ آر ٹی ایس فیل کروا کر امیر المومنین نہیں بنے تھے۔

وزیراعظم صاحب کو یہ علم بھی ہونا چاہیے کہ حضرت عمر فاروقؓ کی اقتدار پر گرفت اس لیے مستحکم تھی کیونکہ عوام ان کی حکومت سے مطمئن تھے۔ راتوں کو اٹھ کر وہ رعایا کی خبر گیری کے لیے مدینے کی گلیوں میں گشت کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ سمجھتے تھے کہ ان کی سلطنت میں کتا بھی بھوکا مر گیا تو قیامت کے روز اللہ کے حضور ان کی پکڑ ہوگی۔ عمران خان صاحب کی نام نہاد ریاست مدینہ میں عوام کی جو حالت زار ہے وہ خود دیکھ سکتے ہیں اور اچھی طرح سوچ سکتے ہیں کہ اس قسم کی خواہش کی تکمیل کے لیے انہیں عوام کی کتنی حمایت و تائید میسر ہوگی؟

تین سال تک ہر سوال کے جواب میں ایک پیج کا ڈھنڈورا پیٹا گیا اب ٹرینڈ چلا کر دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ”کچھ ہوا“ تو عوام سڑکوں پر ہوں گے۔ سوال ہے کہ عوام کیوں مزاحمت کریں گے؟ موجودہ حکومت کو ریاستی اداروں کی جتنی سپورٹ حاصل رہی ملکی تاریخ میں کسی سیاسی حکومت کو نہیں ملی۔ اس کے باوجود اس حکومت نے نہ صرف خارجہ محاذ پر ناکامیاں سمیٹیں بلکہ اقتصادی تنزلی، بازاروں کی ویرانی، افراط زر اور ملکی کرنسی کی بے توقیری کے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔

کاش حکومت خود کو ملنے والی بے مثال سپورٹ کو پاکستان سے بھوک و افلاس ختم کرنے کے لیے استعمال کرتی اور سیاسی استحکام کا فائدہ اٹھا کر اپنی توانائیاں دیس کے ننگ دھڑنگ بچوں کو خوراک و لباس مہیا کرنے پر صرف کرتی۔ یہ کوشش کرتی کہ عوام کو مساوی علاج اور انصاف نصیب ہو، قحط سے مرنے والے بچوں اور زچگی کی پیچیدگیوں سے جان ہارنے والی ماؤں کی کہانیاں سننے کو نہ ملیں اور بچوں کے ہاتھوں میں اوزار کے بجائے قلم و کتاب دکھائی دیں۔ حکومت نے مگر اداروں کی سپورٹ کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر کے ملک کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کی ساکھ بھی عوام کی نظروں میں متنازعہ بنا دی۔ اب بھی حکومت کی کوشش ہے کہ ریاستی ادارے اس کے انتقامی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے بروئے کار آتے رہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments