شنگو شغر۔ مٹتی” درد تہذیب“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روزی مات اب سکردو شہر کی مغرب میں واقع شق تھنگ کالونی میں آباد ہے۔ یہ جگہ ہر گیسہ نالہ جو کہ سدپارہ جھیل کے پانی کی گزرگاہ ہے کے کنارے کنارے موجود ہے جسے زیادہ تر کھرمنگ اور گلتری سے کارگل جنگ کے دوران آئے ہوئے لوگوں نے آباد کیا ہے۔ آبادی نئی ہے اور سہولیات بھی بہت کم ہیں۔ زمین بھی پتھریلی اور دریائی خشت و سنگ سے بنی ہوئی ہے لیکن انسانی ہاتھوں کی محنت نے اس کی ہیئت بدل کر رکھ دی ہے اور روزی مات بھی نکل مکانی کر کے یہاں آ بسا ہے لیکن اب بھی اس کے دل میں فڑوس آباد ہے۔

روزی مات کا تعلق شنگو شغر کے گاؤں فڑوس ( فولٹوکس) سے ہے جو کہ دیوسائی میدان کی دوسری جانب دراس اور کاکسر کے قریب ہے۔ فوڑس سے کئی راستے دروں کی شکل میں الڈینگ، ترغون، منٹھوکھا اور کرکت کی جانب نکلتے ہیں اسی لئے شنا زبان میں اسے فوڑس کہتے ہیں یعنی کئی دروں والی جگہ۔

فوڑوس، شقمہ، چھمدو، سمیت مٹیال، گنیال، تھلی، اکبر، نو گام، ہن تھلی، ڈوڈشیال جو کہ کرابوش کہلاتا ہے کبھی بہت آباد تھا اور خاصی چہل پہل تھی اب پورا علاقہ ویرانی کی نذر ہو رہا ہے۔

دراس اور شنگو شغر کا علاقہ بہت ہی سرد اور پولر ریجن کے بعد نہایت ٹھنڈا تصور کیا جاتا ہے۔ سردیوں میں بہت برف پڑتی ہے اور پورا علاقہ یخ بستہ رہتا ہے اور عمومآ سکردو و دیگر ملحقہ ایریاز سے چھ ماہ کے لئے کٹا رہتا ہے۔

شنگو شغر کی آبادی کا بیشتر حصہ چلاس سے آئے ہوئے قدیم سوری پوئیلو خاندان کی نسل سے ہے۔ روایت ہے کہ شاہ ٹھا ٹھا خان جو کہ جیسٹرو چلاس کہلاتا تھا اس کی وفات کے بعد اس کی اولاد میں سرداری کے لئے جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا اور فیصلہ تلوار کے ذریعے ہوا۔ بوٹ جیتا جبکہ قتل ہونے والے مت چوک کے بیٹے اور ٹھا ٹھا خان کی اکلوتی بیٹی سیل بیوری خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ جان بچا استور جا نکلے۔ استور میں بھی سکون کہاں رہا چلاس سے حملہ آور آتے رہے تو مت چوک کا ایک بیٹا چک کشمیر چلا گیا جس نے بعد ازاں وہاں چک حکمران خاندان کی بنیاد رکھی، مچوک یعنی دوسرا بیٹا چترال گیا وہاں سے کچھ عرصے بعد اس کی نسل کے کچھ افراد بلتستان بھی آ پہنچے۔

تیسرا بیٹا ٹھا ٹھا خان پوریگ کارگل آباد ہوا جہاں انھوں نے گشوپا حکمران خاندان کی بنیاد رکھی۔ جبکہ سیل بیوری کی اولاد سے کافی عرصہ بعد پوئیلو کے سات بیٹے ہوئے اور وہ بھی اپنے دشمن کو قتل کر کے دیوسائی کے راستے موجودہ کرکت، فوڑوس، مٹیال، گنیال، تھلی، بریسل، کاکسر، چھانی گون، اور گلتری و دراس کے دیگر گاؤں آباد کرتے گئے اور سوری پوئیلے کے نام سے مشہور ہیں۔

شنگو شغر کا بیشتر حصہ دریائے شغر کے کناروں پر واقع ہے جو دیوسائی کے بڑا پانی، کالا پانی اور بری کھن سمیت چھوٹے بڑے برفانی ندی نالوں کا مجموعہ ہے۔ دیوسائی بری کھن سے نیچے اترے تو پہلے سفید نالہ گاؤں پھر مٹیال، گنیال اور تھلی کے گاؤں آتے ہیں۔ جبکہ دیوسائی ہی سے بڑا پانی اور کالا پانی کے سنگم سے جو سر سنگھڑی کہلاتا ہے اس دریا کے ساتھ ساتھ اتریں تو ڈوڈشال، ہن تھلی، نوگام، اکبر کے گاؤں راستے میں پڑتے ہیں جہاں سے راستہ آگے گنیال مٹیال کو نکلتا ہے۔

یہی دریائے شغر آگے جاکر چھمدو کے مقام پر دوسری جانب سے آنے والے دریا گلتری سے مل کر آگے دراس کی طرف بڑھتا ہے اور اس کے بائیں جانب موجود شقمہ گاؤں کے ساتھ منسلک نالے میں فوڑس کے کئی چھوٹے بڑے گاؤں موجود ہیں جو اب خالی ہیں کیونکہ 2020 تک تمام آبادی بتدریح یہاں سے ہجرت کر کے سکردو جا کر آباد ہوئی ہے۔ جبکہ یہی صورت حال مٹیال، گنیال اور کرابوش ایریا کی بھی ہے کیونکہ ان جگہوں سے بھی اکثریتی آبادی سکردو شفٹ ہو چکی ہے۔ اس نکل مکانی کی چند بڑی وجوہات علاقے کی پسماندگی، تعلیمی سہولیات کا فقدان، ذرائع حمل و نقل کی کمیابی، بہتر روزگار کی تلاش اور سب سے بڑھ کر سرحدی تناؤ ہے۔

روزی مات کے سامنے اس کے گاؤں فڑوس اور شنگو شغر کے قدیم مکانات منہدم ہوئے اور یوں وہ اپنی بے بس نگاہوں سے صدیوں سے ارتقاء پذیر درد تہذیب کا شیرازہ بکھرتے دیکھ رہا تھا۔ لکڑی سے بنے مکانات، اس کے ارد گرد کھیت کھلیان، گلیاں، چوپال اور گاؤں کا روایتی سماجی نظام سب کے سب ماضی کے دھندلکوں میں غائب ہوتے نظر آ رہے تھے۔ گاؤں کی وہ رعنائی کہ صبح تڑکے گرمیوں میں مرد لکڑیاں کاٹتے جنگل کی طرف نکلتے اور خواتین بچوں، بوڑھوں کو ناشتہ دینے کے بعد گھاس کاٹنے اور کھیتوں میں گوڈی کرنے چلی جاتی تھیں۔ بیاک (چوپال) میں بڑے بوڑھے بچوں کو کیسر کی شلوک اور بوٹئی آئی ( بوٹو کی بکری) کی لوک کہانیاں سناتے اور بچے خوشی سے تالیاں بجاتے رہتے تھے۔ شام کو گھروں کی دیسی چمنیوں سے دھواں اٹھتا اور گھر گھر سے نسالو کے گوشت کی خوشبو ہر جا اڑتی رہتیں اور یہ سب کل کی بات تھی۔

لیکن اب شنگو شغر کے ہر گاؤں میں ایک طویل خاموشی اور تنہائی کی چادر تنی ہوئی ہے، خالی اور مسمار مکانوں کی دیواریں انتظار میں ہے کہ شاید کوئی آ جائے اس کی ویرانی میں قہقہے بھر دے، اس کے کھیت کھلیان میں رنگ بھر دے۔ لیکن

اجنبی خاک نے دھندلا دیے قدموں کے سراغ
گل کر شمعیں بڑھا دو مے مینا و ایاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر دو
اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments