تم جیسے گئے ایسے تو جاتا نہیں کوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی ہے جو اسپ زماں کو مہمیز کرے۔ کوئی تو سبب ہو کہ ایک دم بہت سارا وقت گزر جائے۔ اس وقت سے سبھی کو تیز رفتاری کا گلہ رہا کرتا ہے مگر آج تو لگتا ہے جیسے اس سے سست کوئی اور شے ہے ہی نہیں۔ ہے کوئی تیمور جس کی ایڑ سے وقت کا یہ شبدیز بہت سارے ماہ و سال کی زقند بھر جائے! حادثے کا وقت پیچھے کہیں دور رہ جانے پر کچھ تو درد کم ہو گا۔

اس شام کی ملول آنکھوں میں ویرانی کا غبار تھا۔ سارا دن جو ہوا گرد اڑاتی رہی، ڈھلتی شام دم بہ خود تھی۔ اداسی کی گرد جیسے فضا میں ٹھہر گئی تھی۔ درختوں کے پتے خاموش تھے، ٹھٹھر کر سر نیہوڑائے ہوئے۔ دن مغرب کو اتر رہا تھا۔ مکانوں کے آگے بنی گرین بیلٹوں پر سڑک کے دو رویہ گاڑیاں کھڑی تھیں۔ اس گھر کے سامنے والے سبزہ زار میں ایک سفید تنبو کا خیمہ تھا۔ مجھے خیال آیا، ہو سکتا ہے گزشتہ کل کی شام مریم اسی سبزہ زار میں ٹہلتی رہی ہو۔ یہاں بیٹھ کے چائے کا کپ پیا ہو۔ کسی کے وہم و گماں میں بھی نہ ہو گا کہ آنے والی شام وہ اسی گھر کے اندر سفیدی اوڑھے پڑی ہوگی۔ زندگی بڑی ہی بے اعتبار ہے، کچھ نہیں کہا جاسکتا کب ساتھ چھوڑ جائے۔

ساتھ والے گھر کے سبزے پر چٹائیوں کا فرش تھا۔ لوگ حلقے بنائے بیٹھے تھے۔ لوگ تھے، ان کی سواریاں تھیں مگر اس سارے منظر پر بیابانی کا آسیب مسلط تھا، جیسے کسی ہارر فلم کا منظر ہو۔ جوانی اور ادھیڑ عمری کے مابین بھٹکتا ایک شخص اپنے حلقے میں بیٹھے لوگوں کو بتا رہا تھا فلاں سوسائٹی میں تین مہینے کے اندر اندر پلاٹوں کی قیمت پندرہ پندرہ لاکھ روپے بڑھ گئی ہے۔ ایک اور حلقے میں نیم سفید نیم سیاہ ریش والے صاحب اپنے مرحوم ابا کا قصہ سنا رہے تھے۔

مرحوم نے دعا کی تھی اللہ میری آنکھوں کا نور قائم رکھنا کہ میں قرآن پڑھتا رہوں۔ ان کی دعا قبول ہوئی۔ مجھے بزرگوار مرحوم کے مستجاب الدعا ہونے پر رشک آیا اور میں نے سوچا کیا مریم کی ماں نے دن رات اپنے جگر کے ٹکڑے کی سلامتی کو دعائیں نہ کی ہوں گی؟ لیکن شاید سکرپٹ میں ایسا ہی لکھا تھا کہ ماں کی یہ دعا مریم کے حق میں فقط بائیس برس تک ہی قبولیت سے مشرف رہے گی۔

بے آواز بین کرتی اس شام، ایک چٹائی پر بیٹھے ہوئے مجھے ستائیس اٹھائیس برس پہلے کی ارم رؤف یاد آئی۔ اسی یونیورسٹی میں ہماری سیشن فیلو تھیں اور میری اہلیہ، عالیہ کی ہم جماعت۔ چہرے پر بچوں کی سی معصومیت اور شگفتگی۔ بھولی بھالی سی سب کا اچھا چاہنے والی۔ کوٹ ادو کی رہائشی تھی، انیس سو ستانوے میں ڈاکٹر اسلم کلاچی سے شادی ہو گئی جو زکریا یونیورسٹی کے زرعی کالج میں استاد تھے۔ چنانچہ ارم رؤف، ارم اسلم بن کر ملتان آ گئیں۔

خود بھی کالج میں لیکچرر تھیں۔ زکریا یونیورسٹی کی کالونی میں گھر تھا، اللہ نے تین پیارے پیارے بچوں سے آنگن بھر دیا۔ اشنا، مریم اور عبداللہ۔ راوی چین لکھتا تھا اور سکون۔ یہ سن دو ہزار آٹھ تھا جب ایک شب ڈاکٹر اسلم کلاچی کی طبیعت خراب ہوئی۔ ان کو نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی لے جایا گیا مگر جاں بر نہ ہوئے۔ تین چھوٹے چھوٹے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اجل نے نوچ لیا۔

بڑا صدمہ تھا اور ہموار چلتی زندگی میں ہلچل مچا دینے والا اچانک دھچکا۔ بیٹیاں قدرے سمجھدار عمر میں تھیں، والد کی کمی کو بری طرح محسوس کرتیں۔ یونیورسٹی نے ارم کو اپنے ہاں لیکچرر کی آفر کی جو انہوں نے قبول کرلی۔ ایک شدید ہچکولا کھا کر زندگی کی گاڑی پھر رواں ہو گئی۔ ارم کی زندگی کا مرکز و محور بچے تھے۔ بچے بھی خیر سے ذہین نکلے۔ بڑی بیٹی کا داخلہ علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور میں ہو گیا، وہ اب فائنل ائر میں ہے۔

دوسری بیٹی مریم بھی کچھ کم ذہین نہ تھی۔ اس کا بھی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخلہ ہو گیا مگر وہ ماں کے لئے اور گھر کے لئے بے حد کیئرنگ تھی۔ اس نے نشتر میڈیکل کالج میں ایک لڑکی تلاش کی اور باہمی مائیگریشن کروا لی کہ یہیں والدہ کے پاس رہ کر پڑھوں گی۔ مریم اب ایم بی بی ایس کے تیسرے سال میں تھی۔ والدہ (ارم) چونکہ یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں اور بھائی ابھی چھوٹا ہے سو کالج جانے کے لئے رکشہ لگوا رکھا تھا۔

رواں ہفتے کا پہلا دن اس مختصر سے خاندان کے لئے بے حد بھاری ثابت ہوا۔ پیر کا دن اپنی بکل میں اجل کو چھپائے آیا تھا۔ دس ساڑھے دس بجے مریم کالج کے لئے روانہ ہوئی۔ رکشہ یونیورسٹی سی نکل کر شہر کی طرف رواں تھا، یونیورسٹی گیٹ سے کوئی ایک کلومیٹر دور سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کی ٹریکٹر ٹرالی جا رہی تھی۔ دائیں طرف میٹرو بس کا جنگلہ تھا۔ رکشہ ڈرائیوروں کی ”پھرتیاں“ ضرب المثل ہیں۔ جگہ کم تھی مگر رکشہ ڈرائیور نے اوورٹیک کرنے کی کوشش کی۔

رکشہ ٹرالی اور جنگلے میں سینڈوچ بن گیا۔ مامتا کی وارفتگی میں گندھے لمحے لمحے کو جوڑ کر بائیس برس کی عمر کو پہنچائی گئی مریم موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ خواب اور آشائیں چکنا چور ہو کر سڑک پر بکھر گئیں۔ کچھ بدبودار سینوں میں پسلیوں کے پیچھے دل نہیں، فقط خون دھکیلنے کی مشین ہوتی ہے۔ ایسی ہی مشینوں کے حامل وہاں تصاویر اور ویڈیو بناتے رہے۔ ایک ویڈیو ایسی بھی فارورڈ کی گئی جس میں سڑک کنارے ماں جوان بیٹی کے لاشے پر بین کر رہی ہے۔ جن کا نقصان ہوتا ہے انہیں تو آس پاس کا ہوش نہیں ہوتا، کیمرے والوں کو شرم لازم ہے۔

ماں کے لئے لاہور چھوڑ کر واپس آ جانے والی وہاں چلی گئی ہے جہاں سے واپسی کا راستہ نہیں۔ عالیہ کے پاس مریم کا نمبر فیڈ ہے، بتا رہی تھیں کہ مریم کے اکثر وٹس ایپ سٹیٹس والد کو مخاطب کیا کرتے تھے۔ ماں کا خیال رکھنے والی والد کو بھی بری طرح مس کرتی تھی سو چپ کر کے والد کے پاس چلی گئی۔ یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو اکتوبر کی چودہ تاریخ ہے۔ کل شام ہم پھر اس گھر گئے جو مریم کی مسکراہٹوں سے منور رہا کرتا تھا۔ ارم نے عالیہ کو ایک نئی میکسی دکھائی جو مریم نے چودہ اکتوبر کو اپنے کالج کے سالانہ فنکشن کے لیے سلوائی تھی۔ نشتر میڈیکل یونیورسٹی نے مریم کے حادثے پر یہ سالانہ تقریب منسوخ کردی ہے۔ ڈاکٹر اسلم کلاچی کو تو بیٹی کی کمپنی مل گئی مگر اب ماں بہت مس کرتی ہے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد غشی کے دورے پڑتے ہیں۔ اشنا بالکل چپ ہے، سناٹے جیسی خاموش۔ عبداللہ بھی اکیلا رہ گیا ہے۔

شام کی اذان ہوئی تو مریم کے سرہانے بیٹھی ارم نے کہا ”یا اللہ! تجھے اپنی کبریائی کا واسطہ، معجزہ کردے، مریم آٹھ بیٹھے۔ تیرے لیے تو سب ممکن ہے“ ۔

میں نے سٹاف کالونی کی مسجد میں فرضوں کی جماعت کے بعد دو رکعت نماز حاجت کی نیت باندھی۔ خیال آیا کیا حاجت پیش کروں؟ مریم تو شہید ہے، اسے میری دعا کی کیا حاجت۔ تب میں نے اپنی بہن ارم کے لئے حوصلے کی اور جلد صبر کی حاجت اللہ کے سامنے رکھی۔ عرض کیا، وقت مرہم ہے مگر ماں کے زخموں کا نہیں۔ پھر بھی کچھ تو افاقہ دے گا۔ سو اے ناظم کائنات! اسپ زماں کے لئے اک ذرا مہمیز کی درخواست ہے۔ ارم کے لئے، اشنا کے لئے، عبداللہ کے لئے مریم کی جدائی برداشت کرنے کی ہمت بخشنے کی اپیل ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments