پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات میں سرپرائز اضافہ اور حکومت کی وضاحتیں


گزشتہ رات پاکستان میں وزارت خزانہ کی جانب سے پاکستانی عوام کو ایک سرپرائز دیا گیا۔ پاکستان میں رات گئے وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات میں 10 روپے تک اضافہ کر کے پاکستانی عوام کو سرپرائز دیا۔ سرپرائز پٹرول کی قیمت میں اضافہ کا نہیں تھا بلکہ اصل سرپرائز یہ تھا وزارت پٹرولیم نے جو سمری بھجوائی تھی اس میں 5 روپے 90 پیسے کا اضافہ تھا جب کہ وزارت خزانہ نے 10 روپے فی لٹر مہنگا کرنے کا پٹرول بم گرا کر عوام کو سرپرائز کیا۔

ویسے تو عوام کو ہر ماہ کی 30 اور 14 تاریخ کو وزارت پٹرولیم کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی یا اضافہ کی سفارش کی رپورٹ منظر عام پر آجاتی ہے۔ اور عوام ذہنی طور پر تیار ہو جاتی ہے۔ مگر اس بار جو کچھ ہوا وہ عوام کے لیے حیران کن تھا سمری کے مطابق دگنا اضافہ عوام پر کسی بم سے کم نہ ہے۔ کچھ لوگوں کو یقین ہی نہیں آیا۔ مگر نہ چاہتے ہوئے بھی یقین کرنا پڑے گا۔

اب عوام کو خدشہ ہے کہ عوام پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کی وجہ سے ضرورت کی اشیا میں دوبارہ اضافہ ہو گا عوام مزید مہنگائی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔ اب بات کرتے ہیں وزارت خزانہ اور وفاقی وزرا کی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تیل کی عاملی منڈی میں اضافہ کی وجہ سے پاکستان میں اضافہ کیا گیا۔ وزارت خزانہ کا عوام کی مہنگائی خدشات پر کہنا ہے کہ ہم عوام کو ریلیف دیں گے اور ہر ممکن کوشش کریں گے کہ مہنگائی میں کمی لائی جا سکی۔

نیز یہ کہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہم دال، چینی، آٹا اور گھی پر سبسڈی دیں گے۔ عوام کے سامنے اب حکومت اور ان کے وزرا وضاحتیں دیتے پھررہے ہیں کہتے ہے عالمی منڈی میں اضافہ جتنا ہوا عوام پر اس کا بہت معمولی بوجھ ڈالا گیا۔ اور اکثریت وزرا اور حکومتی ترجمان کی یہ کہتی نظر آتی ہے کہ پاکستان اس خطہ میں سب سے کم قیمت میں پٹرول دے رہا ہے۔ مگر ان حکومتی ترجمان و زا کو یہ بھی جانے کی ضرورت ہے کہ باقی ممالک کے ساتھ اگر موازنہ کر نا ہے تو صرف پٹرول کی قیمت پر نہ کرے بلکہ تمام چیزوں پر کرے باقی ممالک میں اتنی مہنگائی بھی نہیں ہے اگر ہے تو واہ کہ روزگار میں بھی اضافہ ہوا ہے وہا پر دیہاڑی دار مزدور کی تنخواہ پاکستان کے مزدور کی تنخواہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

سب سے اہم بات جو ہے وہ یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے مہنگائی میں اتنی جلدی اور اتنی تیزی سے اضافہ نہیں ہوتا جتنی جلدی پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ سے ہر چیز اور ہر فرد پر اس کا بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ حکومتی وزرا اور ترجمان کی یہ وضاحتیں کسی کام کی نہیں ہے جس سے وہ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹھیک ہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان میں بھی اس کا اثر ہوا ہے تو یہ اثر صرف پٹرولیم مصنوعات تک ہی رہنا چاہیے نہ کہ ہر چیز پر ۔

مہنگائی آؤٹ اف کنٹرول ہوتی جا رہی ہے اور یہ نالائق وزرا صرف وضاحتیں دیتے ہے کہ پاکستان میں پورے خطہ سے سب سے کم قیمت پر پٹرول مل رہا ہے۔ ہمیں نہیں چاہیے کم قیمت میں پٹرول ہمیں مہنگائی میں مزید اضافہ نہیں چاہیں اگر مہنگائی کم نہیں کر سکتے تو مہنگائی میں اضافہ بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اس ملک میں بدقسمتی سے جتنی نالائق حکومت ہے اس سے کئی گنا زیادہ نالائق اپوزیشن ہے جو حکومت پر دباؤ ڈالنے پر بالکل ناکام ہو چکی ہے سیاسی خود گزی اس حد تک بڑ گئی ہے اپوزیشن رہنما کو بس اپنی پڑی ہوئی ہے عوام کا رتی بھر بھی خیال نہیں ہے ان اپوزیشن کے ترجمان بھی سوشل میڈیا پر ٹویٹ کر کے عوام کو جھوٹی تسلی دیتے ہیں یا کبھی کسی فنکشن پر باہر جائے اور میڈیا نظر آ جائے تو حکومت کے خلاف اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اور عوام اس مہنگائی میں پستی چلی جاتی جا رہی ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب کو چاہیے اس سرپرائز اضافہ پر عوام کو اعتماد میں لے اور اگر عاملی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو بھی عوام کو اعتماد میں لے اور عوام کو یقین دلائی کہ مہنگائی میں مزید اضافہ نہیں ہو گا اور اپنے نالائق وزرا کو ہدایت دے کہ مہنگائی پر پہلے کنٹرول کرے پھر جا کر پریس کانفرنس کے تاکہ عوام کو کچھ جواب دہ ہو سکے۔ مہنگائی میں اضافہ کا ذمہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ان کو عوام کو جواب دینا پڑے گا۔ خدارا اس عوام پر رحم کھائے۔ اس عوام کو اگر آپ ریلیف نہیں دے سکتے مہنگائی میں کمی نہیں کر سکتے تو کم از کم عوام کے منہ سے نوالہ بھی مت چھینے۔

Facebook Comments HS