لتا منگیشکر: نگینے آسمان سے نہیں اترتے

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک شعلہ سا لپک جائے ہے، آواز تو دیکھو! موسیقی کے جہاں کی ایک محبت بھری، سریلی آواز بھی جاتی رہی میری اٹھائیس سالہ زندگی میں جس آواز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ آواز لتا دیدی کی ہے۔ آج دل بہت افسردہ ہے کون اس کو بہلائے۔ ہاں۔ لتا جی کے گیت ہی دل کو بہلا سکتے ہیں۔ فن اور فن کار کب مرتے ہے وہ تو زندگی کی

Read more

سر سید احمد خاں: نہ اٹھا پھر کوئی رومیؔ عجم کے لالہ‌زاروں سے

سرسید احمد خاں کی 204 ویں سالگرہ ہے۔ وہ ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ بیک وقت معلم، مقرر، ، مصنف، مصلح قوم، ماہر تعلیم، ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار اور جدید ہندوستان کے عظیم معماروں میں سے ایک تھے۔ جدید ہندوستان کی تعمیر و ترقی، فلاح اور مسلمانوں کے احیاء ملی کے لیے سر سید نے جو عظیم الشان خدمات سرانجام دی ہیں وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ حالی نے کہا تھا تیرے احسان رہ رہ کر سدا یاد

Read more

فیض کے دو عشق اور روشنی کا استعارہ

کارل مارکس نے کہا تھا ”فلسفیوں نے اب تک بس دنیا کی تشریح کی ہے اصل نکتہ تو اس کو بدلنے کا ہے“ فیض احمد فیض ایک ترقی پسند ذہن تھے انھوں نے گھسے پٹے، مفلوج زدہ، غلیظ اور بوسیدہ نظام کو بدلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ وہ ایک بے قرار روح کی مانند تھے۔ وہ تہلکہ مچانے والے شاعر تھے۔ ادب میں جن ناموں کی گونج سب سے نمایاں رہی ان میں ایک نمایاں نام فیض احمد

Read more

ن۔ م راشد: اک شمع ہے دلیل سحر

ن۔ م راشد یکم اگست 1932 کو پیدا ہوئے۔ 9 اکتوبر 1975 یعنی 65 برس کی عمر میں اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ ان کا پورا نام نذر محمد راشد ہے۔ پیدائش اکال گڑھ گوجرانوالہ میں ہوئی۔ اکال گڑھ کا یہ چمکتا ہوا سورج مختلف ممالک اور تہذیبوں کا سفر کرتے ہوئے ”سرے ( انگلینڈ)“ کے ساحلوں میں غروب ہو گیا۔ ابتدائی تعلیم اکال گڑھ سے حاصل کرنے کے بعد منٹگمری، لائلپور اور پھر لاہور کی تعلیمی فضاؤں میں

Read more

شو کمار بٹالوی۔ وہ بوئے گل تھا کہ نغمہ جاں

خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم، نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہر دم وہ بوئے گل تھا کہ نغمہ جان، میرے تو دل میں اتر گیا وہ شو کمار بٹالوی پر لکھتے ہوئے محبت کی اس سے خوبصورت کوئی دوسری مثال نہیں دے سکتا۔ پنجابی زبان ادب کا بہت مقبول ترین شاعر، شو کمار بٹالوی جس نے اپنی کم عمری میں شہرت کے پہاڑوں کو سر کیا۔ اس کی شہرت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ خود

Read more

آہ شمیم حنفی! لوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے

اس برس تو کرونا وبا نے ایسے وار کیے کہ بڑوں بڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر ان کے پھیھڑوں کو چھلنی کر دیا اور سانسوں کی مالا کو چھین کر اللہ گھر پہنچا دیا۔ مشرف عالم ذوقی ایسی وائرس کا شکار ہوئے اور وائرس نے ان کو لپک لیا پھر ان کی بیگم کو بھی۔ کتنا اذیت ناک صدمہ تھا ابھی یہ صدمہ بھولا ہی نہیں تھا کہ ایک اور صدمہ دل کے دروازے پر دستک دے گیا، آہ شمیم حنفی صاحب! وہ بھی اس منحوس وائرس کا شکار ہو گئے۔ انہیں چند روز قبل کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد دہلی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

Read more