"ڈولا رے ڈولا رے ڈولا۔۔۔۔ ڈولا رے”
یہ آواز اگرچہ ابھری تو ایک سسکتے ہوئے عاشق کے دل کے پاتال سے تھی لیکن روانی اس میں کچھ ایسی تھی کہ اس نے بادلوں کا سینہ چیر ڈالا، چاندنی کے سمندر سے طلوع ہو کر کہکشاؤں کو چوما اور صدیوں کا سفر لمحوں میں طے کرتی ہوئی آسمان کی وسعتوں میں کہیں گم ہو گئی؛ لیکن جاتے جاتے ایک ایسا سماں باندھ گئی کہ جس کے زیر اثر پہلے تو لاکھوں دیے ٹمٹمائے اور پھر آرکسٹرا نے کچھ
Read more
