اردو ڈیپارٹمنٹ کے استاد ڈاکٹر اجمل نیازی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ایف سی کالج کے لش گرین گراؤنڈز میں پارکنگ ایریا کے طرف جاتے ہوئے اردو ڈیپارٹمنٹ کے استاد ڈاکٹر اجمل نیازی کا ایک عکس سا آنکھوں میں ٹھہر گیا تھا۔ چمکتا چہرہ اور سر پر کلاء جمائے۔

ہم ایم اے انگریزی کی طالبات انہیں بس آتے جاتے سلام جھاڑ کر ادھر ادھر ہو جایا کرتی تھیں۔

وہ ایک معروف شخصیت تھے اور ہم ان کی بارعب شخصیت سے بھی دبتے تھے۔ نہ جانے کیوں ہم قیمتی وقت اور قیمتی لوگ ہاتھوں سے اسی لاپرواہی اور غفلت سے نکال دیتے ہیں۔ اب سوچتی ہوں ان کی نرم دلی اور معصوم مسکراہٹ تب ہماری آنکھوں سے کیوں اوجھل رہتی تھی۔ اس وقت کیوں ہم ان کے علم سے، ان کی صحبت سے فائدہ نہیں اٹھایا کرتے تھے۔

2019 لیکن جب نومبر میں میں ان کو اپنی کتاب ”گمشدہ سائے“ کی تقریب رونمائی میں شرکت کی دعوت دینے ان کے گھر، وحدت روڈ لاہور گئی تو وہ اپنی خرابی طبعیت کے باوجود بہت خوش ہو کر ملے۔ ان کا دل بہت سی باتیں کر نے کو چاہ رہا تھا۔ اور مجھ کو وہی احساس ضیاع مار رہا تھا۔ سر جب ہمارے سامنے ہی ہوا کرتے تھے۔ بالکل پہنچ میں تو کاش تب ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ جا یا کرتے۔ ان سے باتیں کیا کرتے۔

جب میں نے انہیں بتایا کہ میں بھی ایف سی کالج ہی کی سٹوڈنٹ رہ چکی ہوں تو وہ اور بھی زیادہ خوش ہوئے۔ اپنی یاداشت پر زور دیتے رہے اور اس زمانے کے کالج کے مختلف اساتذہ کرام کے نام یاد کرتے رہے۔

وہ بہت کمزوری محسوس کر رہے تھے مگر مجھے بار بار یقین دہانی کراتے رہے کہ ”میں تقریب میں ضرور آؤں گا۔ اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔“

میرے افسانوں کی کتاب میں ان کا تبصرہ شامل تھا اس لیے مجھے بتانے لگے کہ ”اب پہلے کی طرح پڑھا نہیں جاتا لیکن پھر بھی میں نے پڑھ لئے تھے کینیڈا کی زندگی کی سمجھ آتی آپ کے افسانے پڑھ کر۔“ میں نے کہا تو بس یہی کل آ کر کہہ دیجئے گا۔ ہنسنے لگے کہا؛ ”بہت دل کرتا ہے تقریبات میں جاؤں۔“

میرا دل بہت بھاری ہو رہا تھا جس شخص کو ہم نے اتنے رعب سے سر اٹھائے اور شاندار حالت میں دیکھا ہوا تھا اب ان سے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا۔ یہ دیکھنا کتنا اذیت ناک تھا۔ لیکن وہ مجھ سے بار بار یہی کہتے جا رہے تھے کہ ”میں کل ضرور آؤں گا۔“

میں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا اور جانے لگی تو میرے ساتھ ہی باہر تک آ گئے۔ میں انہیں بار بار اندر چلے جانے کا کہہ رہی تھی لیکن وہ میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے میری گاڑی تک آ گئے۔

ان کے گھر کے سامنے بہت سبزہ تھا۔ کچھ تصاویر وہاں لیں۔

ایک پل کے لیے مجھے لگا میری آنکھوں کے سامنے وہی ڈاکٹر اجمل نیازی کھڑے ہیں جو ایف سی کالج کے لش گرین گراؤنڈز میں ہمیں نظر آیا کرتے تھے۔ مسکراتے چمکتے اور بارعب چہرے والے۔

نہ جانے ڈاکٹر صاحب کتنے دنوں بعد اس سبزے کے قریب آئے تھے جو ان کے چہرے کو چمک عطا کرتا تھا۔

اگلے دن ڈاکٹر صاحب میری کتاب کی تقریب میں نہیں پہنچ سکے بس یہ خبر پہنچی کہ کل رات وہ گر گئے تھے اور ہسپتال میں ہیں۔ دل سے یہی دعا نکلی کہ سر اٹھا کر جینے والے چمکتے سرخ سیب جیسے گالوں والے ہمارے پیارے، موسم بہار جیسے استاد، شاعر اور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی پر کبھی خزاں نہ اترے۔ ہمیشہ سبزہ ہی ان کے قریب رہے تاکہ وہ کبھی مرجھا نہ سکیں۔

مگر ایسی دعائیں ایک دو سال تک تو قبول ہو سکتی ہیں۔ ہمیشہ کے لیے تو نہیں!
اور کل وہ چلے گئے۔
خدا ان کی اگلی منزلوں پر قدم قدم سبزہ بچھا دے۔ الوداع ڈاکٹر نیازی! الوداع۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments