بے روزگار نوجوان کی درد بھری کتھا


جام صاحب فرماتے ہیں تعلیم اور بیروزگاری کا چولی دامن کا ساتھ ہے نہ تعلیم حاصل کرو نہ ہی بے روز گاری کا چولا اوڑھنا پڑے۔ ان پڑھ آدمی، محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پال لیتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان محنت سے جان چراتا ہے اور بے روز گار رہنا پسند کرتا ہے کیونکہ اس نے تعلیم محنت مزدوری کر نے کے لیے تھوڑی حاصل کی ہے۔ جام صاحب اپنے ایک دوست جو کہ عرصہ دراز سے نوکری کی تلاش میں ہیں یعنی بے روز گار ہیں کی کہانی سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ بے روزگار نوجوان اپنی ناکامی کا سبب ہمیشہ اپنے حالات، والدین اور معاشرے پر ڈالتا ہے کبھی بھی اس کو اپنے میں کوئی خامی محسوس نہیں ہوتی۔ دیکھنے میں آیا ہے بے روزگار نوجوان دنیا کا لائق ترین شخص ہوتا ہے لیکن یہ ناہنجار دنیا اس کی قابلیت کو پہچان نہیں پاتی سچ یہ ہے کہ ہیرے کو پرکھنے کے لیے جوہری کا ہونا لازم ہے لیکن اب اپنی مرضی کا جوہری کہاں سے لائیں؟

بے روزگار نوجوان سارا دن سو کر گزارتا ہے تاکہ والدین سے بات نہ ہو سکے اس کی صبح، شام کے سات بجے ہوتی ہے جب دوسرے تمام لوگ سونے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔ ساری رات وہ اور اس کے دوسرے بے روزگار دوست مل کر گپیں مارتے ہیں اور اس دنیا کو برا بھلا کہتے ہیں جو نوجوان کی قابلیت کو ماننے سے انکاری ہے۔ نئے نئے طریقے سوچے اور بنائے جاتے ہیں تاکہ اس دنیا کو نیچا دکھا کر اپنی عظمت کو ثابت کیا جا سکے۔ بے روزگاروں کی دوستی غضب کی ہوتی ہے یہ ایک دوسرے کی خوب تعریف کرتے ہیں۔

من ترا حاجی بگویم تو میرا ملا بگو

بے روزگار انسان دوسروں کی بات خوب مانتا ہے۔ نئے نئے کورس میں داخلہ لیتا ہے۔ جہاں سے بھی بات سنتا ہے کہ آج کل اس کورس کا بہت سکوپ ہے فوراً داخلہ لیا جاتا ہے اور والدین کے لاکھوں روپے ضائع کیے جاتے ہیں۔ شروع شروع میں کورس میں بڑی دل چسپی لی جاتی ہے بعد میں دل چسپی کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اکثر کورس بغیر مکمل کیے دوبارہ اپنی روٹین کو اپنا لیا جاتا ہے اگر کورس مکمل کر ہی لیا جائے تو اس کا فائدہ صفر نکلتا ہے کیونکہ دل جمعی سے نہیں کیا جاتا یا پھر وہ مہارت حاصل نہیں ہوتی جو اس کے لیے ضروری ہو۔

بڑے بڑے کاروبار کرنے کے منصوبے بنائے جاتے ہیں، بندہ پوچھے اگر کاروبار کے پیسے ہوتے تو والدین آپ کو آبائی کاروبار میں ڈال دیتے اور پڑھانے کی تکلیف بھی نہ کرتے کیونکہ ہمارے ہاں تعلیم کا مقصد صرف نوکری حاصل کرنا ہے۔ اس خیالی پلاؤ کو پکانے میں دن، رات محنت کی جاتی ہے اس کے بعد پیسے مانگ، مانگ کر باپ کا سر پکایا جاتا ہے۔ جس پر اکثر جواب ملتا ہے۔ بیٹا، مجھے پیچ دو جتنے پیسے ملتے ہیں اس سے اپنا کاروبار شروع کر لینا۔ بعض والدین کچھ پیسے جمع کر کے کاروبار کھول بھی دیتے ہیں لیکن بے روزگار نوجوان کو اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ یہ کاروبار اس کے شایان شان نہیں ہے۔ اس لیے والدین کی رقم ڈبانے میں وہ دن دگنی رات چوگنی محنت کرتا ہے اور واپس گھر آ بیٹھتا ہے۔

اس اثنا میں بے روزگار کی نوجوان کی عمر تیس سال کے لگ بھگ ہو جاتی ہے اب وہ والدین پر شادی کرنے کا زور دینا شروع کر دیتا ہے۔ والدین سمجھاتے ہیں پہلے اپنے قابل تو بن جاؤ تو اس پر وہ کئی حدیثیں، آیتیں سناتا کہ اللہ نے رزق کا بندوبست اپنے ذمہ لیا ہے۔ اس کا رزق بھی وہ فراہم کرے گا اس دلائل کے خلاف اب والدین کیا بولیں لیکن وہ اتنا ضرور کہتے ہیں، بیٹا بات تمہاری درست ہے مگر اللہ نے محنت کرنے اور کوشش کرنے کا بھی حکم دیا ہے تم پہلے محنت اور کوشش کر کے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاؤ پھر سوچتے ہیں۔ چند والدین مجبور ہو کر شادی کر دیتے ہیں اور بے روزگار نوجوان کے ساتھ ساتھ اس کی بیوی کا بھی بوجھ ان کے ناتواں کندھوں پر آ پڑتا ہے۔

بے روزگاری ایک ایسا کرب ہے جس سے ناصرف بے روز گار نوجوان گزرتا ہے بلکہ اس کا سارا خاندان اس کرب سے گزر رہا ہوتا ہے لیکن بے روزگار نوجوان اس کرب کا الزام دوسروں کو گردانتا ہے جبکہ خاندان نوجوان کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ اس طرح یہ زخم نا سور کی طرح پھیلتا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS