بے معنی انعامات و القابات اور اثر نمائش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا (مثلاً فیس بک، انسٹاگرام اور وٹس ایپ وغیرہ) ناصرف ہماری روزمرہ زندگی کی تمام حرکیات پر اثر انداز ہوا ہے بلکہ ہماری قوم میں موجود اثر نمائش میں بھی واضح اضافہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس تبدیلی نے جہاں ایک طرف معاشی سرگرمیوں میں کچھ اضافہ کیا ہے تو ایک خاص قسم کا منفی رجحان بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ پہلے جہاں مختلف محفلوں میں بے معنی (meaningless) القابات اور گفتگو سے ہی کام چلا لیا جاتا تھا اب ان کے ساتھ فیک قسم کی شیلڈز، سرٹیفیکیٹس اور پھولوں کے گلدستے بھی شامل ہو چکے ہیں جو تقریب کے فوراً بعد سوشل میڈیا کی نظر ہو کر صاحبان کے آفس یا گھر میں نمائش کا کام سرانجام دیتے ہیں۔

اگر یہ شیلڈز اور پھول سرکاری پیسے یعنی ’پبلک منی‘ سے خریدے یا تیار کروائے گئے ہوں تو صاحبان کو ملنے والی ’ہائی فیل‘ کا لیول کئی گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ میرے ذاتی خیال میں سوشل میڈیا کی بدولت جہاں اثر نمائش میں اس اضافہ کے معاشی مضمرات ہیں تو ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی بھی شدید کمی پائی جاتی ہے جو اس نمائش کو کرپشن کی ہی ایک مائیکرو قسم سمجھتے ہیں۔

مجھے ترقی یافتہ ملکوں میں کئی سیمینارز اور کانفرنسز اٹینڈ کرنے کا موقع ملا ہے جہاں تقریب کے صرف خاص مہمان یا حقیقی طور پر ہائی پروفائل مقرر کو ایک یادگاری شیلڈ یا تحفہ یا میڈل کے سوا کسی میزبان یا انتظامی افسر کو کوئی چیز بطور ’رشوت‘ عطا نہیں کی جاتی، بلکہ انتظام کرنے کو ان کی جاب کا ضروری حصہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ ہمارے ہاں تقریب کے حاضرین کی کل تعداد سے زیادہ شیلڈز، سرٹیفیکیٹس، میڈلز یا پھولوں کے گلدستے تقسیم کر کے تقریب کے خاص مہمان کا مذاق انتہائی بھونڈے انداز میں اڑایا جانا آج کل ہمارا عمومی رویہ بن گیا ہے، جس سے ناصرف سرکاری وسائل کا غلط استعمال ہوتا ہے بلکہ تقریب یا سیمینار کا حقیقی اثر کہیں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔

میرے ایک دوست کے سابق باس کو کیلنڈر کے تقریباً ایک صد سے زائد نام نہاد قسم کے ’اہم دنوں‘ کے بے تکے سیمینارز کروا کر طلبہ اور طالبات کو زبردستی کے حاضرین بنا کر بٹھانے کا شوق لاحق تھا۔ جن میں زیادہ تر مقرر ان کے اپنے جاننے والے ایسے نام نہاد ہائی پروفائل لوگ ہوتے تھے جنہوں نے یا تو ماضی میں باس کا کوئی ذاتی نوعیت کا کام کیا ہوتا تھا یا باس کو مستقبل میں ان سے کوئی کام پڑنے کی امید ہوتی تھی۔ ایک روز ہم نے یہ معاملہ ایک ایسے سینئر کولیگ کے ساتھ ڈسکس کیا جو باس کو گزشتہ کئی برس سے اچھی طرح جانتے تھے۔

انہوں نے بہت اطمینان بخش جواب دیا اور کہا کہ جن سیمینارز کو تم بے تکا کہ رہے ہو ان سے باس کو دو اہم فائدے ہوتے ہیں۔ ایک فائدہ معاشی نوعیت کا ہے اور دوسرا نفسیاتی۔ ہر سیمینار کے لئے باس اور اس کے دوستوں کی ہی دکانوں سے تقریباً ایک لاکھ روپے سے زائد کا ضروری سامان خریدا جاتا ہے اور سب سے اہم آئٹم بہت اچھی قسم کی وہ شیلڈز ہوتی ہیں جو تقریب کے اختتام پر معزز مہمان کے ساتھ ساتھ میزبانوں یعنی باس اور اس کے نورتن (ایونٹ مینجمنٹ کمیٹی کے تمام ارکان) کو دی جاتی ہیں، اور کیوں کہ باس کو سکول، کالج یا یونیورسٹی کے زمانہ طالب علمی میں کبھی کوئی حقیقی میڈل یا شیلڈ نہیں مل سکی تو وہ تمام تر کمی اب پوری کی جا رہی ہے۔

اسی نوعیت کے ایک اور واقعہ کا آنکھوں دیکھا حال بھی بیان کرتا چلوں تو اچھا ہے۔ گزشتہ دنوں مجھے میلاد مبارک کی ایک سرکاری محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا، جس میں خصوصی خطاب کے لئے دوسرے ریجن کے ایک اہم عالم کو دعوت دی گئی تھی۔ بلا شبہ مولانا کا آدھے گھنٹے سے زیادہ کا خطاب مجھے اس لحاظ سے کافی پراثر لگا کہ انہوں نے جناب رسول مبارکﷺ کی زندگی سے سادگی کی مثالیں دے کر حاضرین کے جملہ نمائشی انتظامات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مگر دلچسپ صورتحال تب پیدا ہوئی جب مولانا کو تقریب کے آخر میں کھڑے ہو کر تقریباً تمام حاضرین مجلس میں شیلڈیں، چادریں اور سرٹیفیکیٹ تقسیم کرنے پڑے۔ انتظامیہ کمیٹی کے نام پر ایسے ایسے ارکان کو انعام سے نوازا جا رہا تھا جو وہاں سرے سے موجود ہی نہیں تھے اور جب حاضرین میں سے غیر حاضر انتظامیہ ارکان کے دوستوں سے گزارش کی گئی کہ اپنے دوستوں کے سرٹیفیکیٹ وصول کر لیں تو مولانا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور انہوں نے پوچھ لیا کہ ایسے لوگ کیسے انتظامی ارکان ہو گئے جو محفل میں موجود ہی نہیں ہیں؟

سونے پر سہاگہ انہوں نے یہ بھی فرما دیا کہ میں محسوس کر رہا ہوں کہ ان افراد کو کوئی میڈل نہیں دیا گیا جنہوں نے تقریب سے پہلے اور بعد میں جگہ کی صفائی کرنی ہے، تو اسٹیج پر سے ہی کسی صاحب نے پنجابی زبان میں لقمہ دیا کہ ”او تے سائی نیں (وہ تو عیسائی ہیں )“ ۔ اس پر مولانا نے بھی خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔

ہماری سوسائٹی کے تبدیل ہوتے اس اثر نمائش کے معاشی اثرات اور علاج کے لئے ایک الگ بلاگ درکار ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments