طالبان افغان عبوری حکومت کو تسلیم کرنے کا مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پندرہ اگست سن دو ہزار اکیس سے طالبان کے کابل پر قبضے یا پرانی امارت کی بحالی سے اب تک کوئی دو مہینے سات دن گزر چکے ہیں لیکن کہنے کی حد تک ابھی بھی اقوام عالم یا عالم کے قوموں کے درمیان ان کی ریکگنیشن یا سیاسی پہچان کا معاملہ جوں کا توں ہے۔ کیا یہ بات ایسے ہی ہے جس طرح کہا جا رہا یہ یا اس کا سیاسی یا قانون بین الاقوام کچھ اور طرح سے تعریف اور تشریح کرتا ہے۔ مثلاً کسی ریاست کے ریکگنیشن یا سیاسی پہچان کے لئے دو طریقے وضع کیے گئے ہیں ایک کو جلی یا ایکسپریس طریقہ ریکگنیشن یا سیاسی پہچان کا کہا جاتا ہے اور دوسرے کو خفی طریقہ ریکگنیش یا سیاسی پہچان کا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

اول الذکر میں علانیہ طور پر کوئی ملک یا ریاست کسی ملک یا ریاست کو تسلیم یا ریکگنائزد کرتا ہے جس سے وہ ملک اس ملک کے لئے جلی طریقے سے سیاسی پہچان کا ملک یا ریاست بن جاتا ہے اور موخرالذکر طریقہ ریکگنیشن یا سیاسی طریقہ پہچان میں یہ سب کچھ علانیہ تو نہیں ہوتا پر ایمپلائیڈلی یہ سب کچھ ہوتا ہے جیسا کہ اس ملک کا صدر یا وزیر اعظم یا وزیر خارجہ یا کوئی اور اعلی پائے کا کوئی افسر وہاں کا دورہ کرتا ہے یا سفارت اور تجارت کے ذریعے رابطے استوار رکھتے ہیں تو یہ ملک اس ملک کے لیے ریکگنائزڈ یا سیاسی پہچان کا ملک بن جاتا ہے۔

یہی طریقہ کسی ملک کی نئی حکومت کا بھی ہے کیونکہ حکومت کسی ملک یا ریاست کو چلانے کی مشینری کو کہا جاتا ہے ریاست تو تصور ہو تا ہے جس کے چار اجزا زمین۔ آبادی، حکومت اور اقتدار اعلی سے وجود پاتا ہے۔ اب آتے ہیں طالبان کی آمد سے اب تک پروسس کی طرف اور قوموں کی ان کے ساتھ تعلق اور سیاسی معاشی اور معاشرتی رویوں اور برتاؤ کی طرف کہ آیا ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ طالبان کا موجودہ سیٹ اپ ان ممالک نے جلی اگر نہیں تو خفی طور پر یا ایمپلائیڈلی تسلیم کیا ہے کہ نہیں یا یہ قانون بین الاقوام کی تعریف اور تشریح پر درست اترتے ہیں کہ نہیں۔

تمام ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال ہیں، تمام ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات بحال ہیں تمام ممالک کے ساتھ سیاسی تعلقات بحال ہیں۔ اقوام متحدہ میں اپنی نمائندگی کر چکے ہیں اور اپنی نمائندگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ نیٹو ممالک معاشی تعاون کے لئے عندیہ دے چکے ہیں، روس، چائنہ ان کے بارے میں مذاکرات کرا رہے ہیں ایک دوسرے کے پاس وفود کی شکل میں آ جا رہے ہیں۔ امریکہ قطر میں ان کے ساتھ ہنوز محو مذاکرات ہیں۔ قازقستان آٹے کی امداد دے چکے ہیں۔ انڈیا کا وفد وہاں کا دورہ کر چکا ہے۔ ترکی اور قطر ان کے ائر پورٹ کی بحالی اور رننگ پروسس میں ہمہ تن گوش ہیں۔

انڈر نائنٹین کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش میں سیریز کھیل چکی ہے۔ حالیہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں آئی سی سی کی چھتری کے نیچے ہونے والے عالمی ورلڈ کپ میں شریک ہیں۔ اب رہ کیا گیا ہے کس بات کی دیر ہے اور کون سی رکاوٹ ہے جو جلی انداز ریکگنیش یا سیاسی پہچان کے لئے یہ ساری دنیا دیکھ رہی ہیں۔ عرض یہ ہے کہ یا تو دنیا ان کو لاتے نہیں یا پھر ان کے آنے پر شدید احتجاج کرتی لیکن اگر یہ سب کچھ ہوا نہیں اور درج بالا تمام طور طریقے چل رہے ہیں اور ریکگنیشن کے خفی لوازمات تمام پورے ہو رہے ہیں تو پھر بہتر نہیں کہ ببانگ دہل ان کو سیاسی پہچان دی جائے جو لوگوں میں پھیلا ہوا مخمصہ اور لوگوں میں ایک ٹینشن موجود ہے وہ ختم ہو اور لوگ اپنی زندگی کی طرف لوٹ آئے۔ ورنہ بھوک افلاس، جہالت، بدامنی، صنفی امتیاز کے علاوہ یہ سیاسی، معاشی، اخلاقی، اور معاشرتی تناؤ عوام اور خواص کو جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی مریض بنا دیں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments