ٹی وی اور فلم: کل، آج اور کل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل ہمارے یہاں ترکی کے ٹی وی ڈراموں کا چرچا ہے۔ اپنی کوالٹی کے اعتبار سے، اسکرپٹ کے حوالے سے، پروڈکشن کے لحاظ سے ترکی ڈرامے بہت اچھے ہیں۔ ان ڈراموں کے بجٹ بھی ہمارے ڈراموں کے بجٹ سے کہیں بڑھ کے ہیں۔ کورین ڈرامے بھی اچھے ہیں۔ ایران کی بات کریں تو وہ ایسی ہی بند مارکیٹ ہے، جیسی ہمارے یہاں اکلوتا پی ٹی وی ہوا کرتا تھا؛ لہاذا یہاں ایران کی مثال دینا بنتی نہیں۔ اگر ایرانی ڈراموں کی پاکستانی میں مارکیٹ ہوتی تو ترکی ڈراموں کی طرح ڈَب کر کے دکھائے جا رہے ہوتے۔ یہ نہیں کہا جا رہا کِہ ایرانی ڈرامے برے ہیں۔ آپ اس مثال سے سمجھیے کِہ ایرانی فلم کی دُنیا بھر میں تعریف ہوتی ہے، لیکن کیا کبھی آپ نے پاکستانی سنیما پر کوئی ایرانی فلم دیکھی؟ انگریزی فلمیں بھی تو ہمارے سنیما پر دکھائی جاتی ہیں تو کیوں ایرانی فلمیں ریلیز نہیں کی جاتیں؟ اس لیے کِہ ہمارے ناظر کا وہ ذوق نہیں۔ ہر خطے کے ناظر کا اپنا مخصوص ذوق ہوتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے بیش تر ناظر کا اپنا ذوق ہے جس کی تسکین ایرانی فلمیں نہیں کرتیں۔
اکثر ناقدین یا عام ناظر یہ بات کرتے ہیں کِہ اسی، نوے کی دہائی کا ٹی وی ڈراما اب نہیں رہا، وہی ہونا چاہیے۔ پی ٹی وی کے پروڈیوسر محمد نثار حسین نے طویل دورانیے کے ٹی وی ڈرامے بنائے تھے۔ کہا جاتا ہے ان سے متاثر ہو کے ہندُستان میں آرٹ مووی یا متوازی سنیما کی روایت نے فروغ پایا؛ حالاں کہ اس میں صداقت نہیں۔ بھارت میں متوازی سنیما اس سے پہلے سے متحرک تھا۔ بمل رائے، باسو بھٹا چاریہ، ہری کیش مکھر جی، باسو چٹر جی، اور بہت سے نام ہیں، جو پی ٹی وی کے طویل دورانیے کے کھیل سے پہلے ہی متوازی سنیما کے نمایاں نام بن کے ابھرے تھے۔ اگر یہ دعوا کیا جائے کِہ ایم این ایچ ان فلم میکروں سے متاثر تھے تو کہنے والے کے منہ سے یہ بات جچے بھی۔ منطِق کی رُو سے جو پہلے آئے، وہ بعد میں آنے والے کی نقل کیوں کر کر سکتے تھے؟
ہمارے یہاں نہ پہلے کوئی اکیڈمی تھی، نہ اب تک کوئی مستنِد ادارہ ہے، جو فلم/ٹی وی کے مختلف شعبوں کی تعلیم ویسے دے سکے جیسا کِہ حق ہے۔ یونے ورسٹیوں میں چار چار سال کی ڈگریاں کروائی جاتی ہیں تو بھی خیر کا نتیجہ بر آمد ہو کے نہیں دیتا۔ اس میں کوئی شبہہ نہیں کِہ ماضی میں پی ٹی وی نے ایک اکیڈمی کا کردار ادا کیا، جہاں فن کاروں کو نا صرف کام ملتا تھا، بل کِہ ساتھ ساتھ تربیت بھی ہوتی تھی۔
آپ کسی دانش ور، کسی عالم کی صحبت میں، ایک گھنٹا بیٹھتے ہیں تو یہ جانیے، آپ ہزار کتابیں پڑھنے سے افضل کام کر رے ہیں۔ کسی صاحب علم کے ساتھ بیٹھ کے گفت گو کرنے سے بہت کچھ حاصل ہوتا ہے۔ ماضی میں فن کار ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھا کرتے تھے۔ جونیئر، سینئر کے بیچ میں مکالمہ ہوتا تھا؛ مباحث ہوتے تھے۔ ایک دوسرے کو سکھاتے تھے، سیکھتے تھے۔ پھر کہیں جا کے چمکتے تھے، ستارہ ہوتے تھے۔ ایک فنون و ادب نہیں، تنزلی ہر شعبے میں ہوئی ہے؛ کبھی ہمارے ادارے اکیڈمی کا درجہ رکھتے تھے؛ اس لیے ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کو اکیڈمی کا درجہ حاصل تھا کِہ وہاں شاعر، ادیب، صدا کار، ادا کار، موسیقار، اور دیگر فن کار اکٹھے ہوتے تھے۔ ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشن ’پاک ٹی ہاؤس‘ کی طرح کی بزم گاہ تھی، جہاں تمام فنون سے وابستہ افراد مل بیٹھتے تھے۔ ایک دوسرے کے علم سے استفادہ کرتے تھے۔
آج نہ ادا کار کو وہ موقع ملتا ہے، نہ ہدایت کار کو، موسیقار کو، نہ کسی اور کو کِہ اس طرح سے مِل بیٹھیں، اور ایک دوسرے کے ذہن کی آب یاری کریں۔ مارا ماری کے اس دور میں ہر کوئی سمجھتا ہے کِہ اس کے پاس وقت نہیں ہے۔ مصنف کو کام کرنے کے لیے پھر کسی حد تک وقت دیا جاتا ہے، یا مل جاتا ہے۔ ہدایت کار و ادا کار کو اتنی مہلت نہیں دی جاتی کِہ وہ اپنے کام پہ سوچ بچار کریں، کرداروں کو سمجھیں، نکھاریں اور پرفارم کریں۔ آج ریہرسل تک کا موقع نہیں مل پاتا۔ نہ اداکاروں کی ڈیٹس اس طرح ملتی ہیں اور پروڈیوسر کے لیے سب کی ڈیٹس مینیج کرنا مشکل تر ہو گیا ہے۔ ریہرسل کے بغیر جب سیٹ پر جاتے ہیں، تو کمیوں کا شکایت بھی بڑھ جاتی ہے۔
ان عوامل کو نظر انداز کر بھی دیں تو ایک ٹیلے ویژن ڈرامے کا موازنہ ایک فلم سے کیسے کیا جا سکتا ہے!؟ کہا جائے کِہ پاکستانی ڈرامے میں وہ بات نہیں، جو انڈین فلم میں ہے، تو میرا جواب ہو گا، ٹیلے ویژن ڈرامے کا مقابلہ ٹیلے ویژن ڈرامے سے کیجیے، فلم سے نہیں۔ چوں کِہ پاکستانی فلم انڈسٹری ’وفات‘ پا چکی ہے تو وطنیت کے جوش میں ہمارے ہم وطن، انڈیا کی فلم کے مقابل پاکستانی ڈرامے کو رکھ کے دیکھتے ہیں۔ شاہ رُخ خان کا موازنہ فواد خان سے، اور صبا قمر کا کترینہ کیف سے کرنے لگتے ہیں۔ ٹیلے ویژن ڈرامے اور فلم کا موازنہ کرنا ایسا ہی ہے، جیسے میگزین ’اخبار جہاں‘ اور ناول ’آگ کے دریا‘ کا تقابل پیش کیا جائے۔ یہ ایسی ہی لغو بات ہو گی جیسے کہا جائے، جو لطف ’آگ کے دریا‘ میں ہے، وہ ’اخبار جہاں‘ پڑھنے میں نہیں۔
ان مشکلات کے با وجود آج بھی عمدہ ڈرامے بنتے ہیں، لیکن چالیس پچاس سالہ ناظر آج سے بیس، پچیس، تیس سال پرانا ڈراما دیکھتا ہے تو اسے وہ ڈراما اچھا لگتا ہے؛ کیوں کِہ اسے ڈرامے سے اس کی نوجوانی کے دور کی یادیں وابستہ ہیں۔ یہ ناسٹیلجیا کی تاثیر ہے۔ خالدہ ریاست، روحی بانو، عابد علی کو دیکھ لینا، شجاعت ہاشمی کو دیکھنا، طلعت حسین، راحت کاظمی، نیلو فر عباسی، فردوس جمال، فریال گوہر، اس کے علاوہ بہت سے نام ہیں، آج کی نسل نے جن کے نام ہی سنے ہوں گے، یا کئیوں کے نام بھی نہیں سن، ان اداکاروں کی جوانی دیکھ کے انھیں اپنا حسین دور یاد آ جاتا ہے؛ ناسٹیلجیا میں گم ہو جاتے ہیں۔ جیسے بیش تر لوگ اکثر یہ کہتے ہیں، ہمارا بچپن بڑا اچھا تھا۔ وغیرہ۔ کم ہی کوئی اپنے بچپن کو اچھا نہ کہتا ہو گا۔ بیس پچیس تیس سال بعد آج کے بچے اس دور کو یاد کر کے آہیں بھرا کریں گے کِہ جو ہمارا زمانہ تھا وہ اب نہیں رہا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 319 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments