ٹی وی اور فلم: کل، آج اور کل

آج کل ہمارے یہاں ترکی کے ٹی وی ڈراموں کا چرچا ہے۔ اپنی کوالٹی کے اعتبار سے، اسکرپٹ کے حوالے سے، پروڈکشن کے لحاظ سے ترکی ڈرامے بہت اچھے ہیں۔ ان ڈراموں کے بجٹ بھی ہمارے ڈراموں کے بجٹ سے کہیں بڑھ کے ہیں۔ کورین ڈرامے بھی اچھے ہیں۔ ایران کی بات کریں تو وہ ایسی ہی بند مارکیٹ ہے، جیسی ہمارے یہاں اکلوتا پی ٹی وی ہوا کرتا تھا؛ لہاذا یہاں ایران کی مثال دینا بنتی نہیں۔ اگر ایرانی

Read more

اک کوڑیالے نے بچپن کو ڈس لیا

دن میں ہم تتلیوں کے پیچھے بھاگتے اور رات کو جگنُو دیکھ کے گھر لوٹتے تھے۔ مینھ کے بعد نمُودار ہونے والے کیچوے پر لُون چھڑک کر اُسے مٹی ہوتا دیکھتے۔ کبھی کبھار خراتین جتنا سنپولیا نکل آتا، جسے پیروں تلے مسل دیتے۔ بچپن خواہ شاہ کا ہو یا مفلس کا، ہوتا عالی شان ہے۔ کامل یقین سے بولے گئے کچے کچے جھوٹ، معصومیت میں کہے گئے پکے وٹے سچ، سبھی بچپن کی سُندرتا کے چہرے ہیں۔

یاد پڑتا ہے، کالُونی میں انگریز دور کے پانچ کشادہ مکان تھے۔ یورپین انڈین طرزِ تعمیر کا امتزاج۔ ایک میں ہم رہتے تھے۔ گھر سے نکلتے ہی سامنے ہرا میدان، اور میدان کے دوسری طرف، ریل گاڑیوں کے اوقات کو کنٹرول کرتا وائرلیس آفس۔ اِس مناسبت سے اسے ریلوے وائرلیس کالونی کہا جاتا ہے۔ کیا ہی خوب منظر تھا۔ پوٹھوہار کا لینڈ اسکیپ مجھے پسند ہے۔ ولایتی کیلنڈروں میں کہیں سطح مرتفع کا لینڈ اسکیپ دیکھنے کو ملے تو گمان ہوتا ہے، یہ میرے بچپن کا راول پنڈی ہے۔

Read more

کنول جھیل کا رستہ اور وہ لڑکی

میرا پاؤں کیبل میں الجھا، ایک سرے سے ٹرائی پاڈ پر رکھا کیمرا ڈول گیا، اور دوسرے سرے پر بوم راڈ کھنچ گیا، سبھی میری طرف متوجہ ہوئے، جس ناہنجار کی وجہ سے رکارڈنگ کا عمل ڈسٹرب ہو گیا تھا۔ ہدایت کار نے نا گواری سے کہا، ”کیا کر رہے ہو؟ تمھارا دھیان کہاں ہے“ ؟ یقیناً میرا چہرہ شرمندگی سے لال پڑ گیا ہو گا۔ میں واقعی وہاں تھا، نہیں تھا، کہیں اور کھویا ہوا تھا۔ جس چاند میں کھویا تھا، کنکھیوں سے اسے دیکھا وہ میری حالت پر زیر لب مسکرا رہی تھی۔ یہی کوئی چوبیس پچیس سال پرانی بات ہے، کنول جھیل کے اطراف میں ایک ٹی وی ڈرامے کی رکارڈنگ تھی۔ آج قریب اتنے ہی برس ہوئے، میں پلٹ کے کنول جھیل نہیں گیا۔

Read more