اسمارٹ فون کا نشہ اور ہمارے بچے
کیا کبھی کسی نے محسوس کیا ہے کہ آج کے زمانے میں سب سے بد ترین نشہ انٹر نیٹ، ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون کا نشہ ہے؟
میرے دن کا بیش تر حصہ دفتر اور کام میں گزرتا ہے۔ کام کے اوقات کہنے کو تو صبح نو سے شام پانچ بجے کے ہیں مگر دفتر جانا، وا پس آنا الگ سے ایک مہم سر کرنے کے برابر ہے۔ گھر سے میری غیر موجودی کے دوران میں، بچے اپنی نانی کی نگرانی میں رہتے ہیں۔ لے دے کر ایک ویک اینڈ ہی بچتا ہے جب بچوں اور گھر گرہستی کو مکمل وقت دیا جا سکے۔ گزشتہ سال کووڈ 19 کے باعث اسکول تو بند ہوئے ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ پارک اور تفریح کے باقی مقامات پر بھی پا بندی لگ گئی جس کی وجہ سے بچے مجبوراً گھر میں ہی قید ہو کر رہ گئے۔
اس دوران میں جہاں ان کے پاس وقت گزاری کے لیے کوئی اور سر گرمی نہیں تھی، ان کے شب و روز کا بیش تر حصہ موبائل فون کے ساتھ گزرنے لگا۔ ابتدا میں تو سب ٹھیک رہا مگر چند ماہ پہلے مجھے اپنے نو سالہ بیٹے کے مزاج میں کچھ پریشان کن تبدیلیاں محسوس ہوئیں۔ اس کے مزاج میں عجیب سا چڑچڑا پن اور جلد بازی کے ساتھ ساتھ اس کا عمومی رویہ بھی کچھ جارحانہ سا ہو گیا۔ کھانے پینے کی طرف دھیان ویسے ہی کم تھا مگر اب با قاعدہ ڈانٹ ڈپٹ کر اسے کھلانا پڑتا تھا۔
اس کے علاوہ اسے ہوم ورک کرواتے ہوئے میں نے نوٹ کیا کہ اس میں ارتکاز کی کمی ہے اور اپنی کلاس کا پوزیشن ہولڈر بچہ بہ ظاہر سادہ سی بات کو سمجھنے میں بھی معمول سے زیادہ وقت لینے لگا ہے۔ میں نے اس پریشانی کا ذکر ایک ڈاکٹر دوست سے کیا تو ان کا پہلا سوال تھا، آپ کا بیٹا دن بھر میں اسکرین کے سامنے کتنا وقت گزارتا ہے؟ احوال جان کر انھوں نے کہا، اس کا اسکرین ٹائم کم کریں، مسئلہ حل ہو جائے گا۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ترقی نے جہاں ہمارے لیے علم اور آگہی کے نئے در وا کیے ہیں، وہاں بڑھتے ہوئے بچوں کے والدین کے لیے ایک مسئلہ بھی کھڑا کر دیا ہے اور وہ ہے اسکرین ایڈکشن؛ بالخصوص اسمارٹ فون کا استعمال۔ ہمارے بچوں کو سب کچھ اپنے ہاتھوں میں پکڑی چھوٹی سی اسکرین پر دیکھنے کی عادت ہو چکی ہے۔ چناں چہ موبائل کی زنبیل میں سے دنیا کے خزانے نکال لینے والے بچے اب اپنی آنکھوں کے سامنے کے منظر پر متوجہ نہیں ہو پاتے۔
بچوں کو موبائل فون خرید کر دیتے وقت میرے دماغ میں ابتدائی خیال تو یہی تھا کہ یہ نا صرف آن لائن کلاسز کے لیے ضروری ہے بل کہ میرے دفتر کے اوقات میں ان سے رابطہ بھی قائم رہے گا۔ موبائل فون کی مختلف تعلیمی ایپس کے ذریعے ان کا جنرل نالج بھی بڑھے گا اور یہ اپنے ارد گرد سے آگاہ رہیں گے ؛ اس کے علاوہ جب بچے بڑے چاؤ سے اپنے دوستوں کے پاس موجود موبائل سیٹ کا ذکر کرتے تو مجھے محسوس ہوتا کہ کہیں یہ احساس محرومی میں مبتلا نہ ہو جائیں، کہ ہماری ماں ہماری یہ ذرا سی خواہش نہ پوری کر سکی۔
تب تو ایک مناسب سا اسمارٹ بچوں کے لئے خرید لیا مگر اب محسوس کرتی ہوں کہ بغیر کسی نگرانی کے بچوں کے ہاتھ میں موبائل فون پکڑا دینا میری بہت بڑی غلطی تھی۔ آن لائن کلاس سے فرصت کے بعد ان کی توجہ پب جی، مائن کرافٹ، شیڈو فائٹ تھری اور اسی طرح کی آن لائن گیمز پر رہنے لگی، دنیا جہان سے بے نیاز ہو کر یہ چھے ضرب چار انچ کی اسکرین میں قید ہو کر رہ گئے اور نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ مجھے ان کی جسمانی صحت اور ذہنی نشو و نما متاثر ہونے لگی۔
ہمارے بچپن میں وی سی آر، سی ڈی پلیئر وغیرہ جیسی ایجادات نے بھی ایک دفعہ تو سب کچھ بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس دور میں بڑے، بوڑھے اس وقت کی ان ایجادات کو شیطان کا آلہ کہتے تھے مگر اب اندازہ ہوا کہ ہتھیلی پر سما جانے والا یہ منا سا شیطان پرانے وقت کے ان بڑے شیطانوں سے کہیں آگے ہے۔ بہ ظاہر ایک بے جان آلہ، اگر چہ اس امر کا تعین نہیں کر سکتا کہ اسے کس کام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے مگر اس کی عادت بالکل ایک نشے کی طرح یوں لاحق ہو جاتی ہے کہ چند لمحوں کے لیے بھی اس کو خود سے جدا کرنا ممکن نہیں رہتا۔
اس کا استعمال کب، کتنا اور کس مقصد کے لیے کرنا ہے، اس کا فیصلہ یوں تو ہمارے ہاتھ میں ہے لیکن جب اس کی لت میں مبتلا ہو جائیں تو پھر اس پہ اپنا اختیار نہیں رہتا۔ بچوں کا کیا دوش کہ یہ گہری باتیں انھیں سمجھانا ممکن نہیں، لیکن والدین اس طرح کا ماحول ترتیب دے سکتے ہیں کہ بچوں کا اسمارٹ فون پر انحصار کم ہو جائے۔
بچوں کو اس لت سے چھٹکارا دلانے کے لیے میں نے کچھ اصول وضع کیے اور اس کو یقینی بنایا کہ ہر حال میں ان پر عمل کیا جائے۔
فون ایک گھنٹے سے زیادہ استعمال نہیں ہو گا، اس بات کو میں نے یقینی بنایا؛ غیر ضروری گیمز جو ڈاؤن لوڈ کی گئی تھیں انھیں ڈیلیٹ کر دیا یا پھر پاس ورڈ لگا کر ان تک بچوں کی رسائی محدود کر دی۔ گوگل پیرنٹ کنٹرول بھی اس سلسلے میں کافی مدد گار ثابت ہوا اور اس دوران میں پوری کوشش کی کہ بچوں کی موجودی میں خود بھی بنا ضرورت فون کے استعمال، بالخصوص سوشل میڈیا سے اجتناب برتوں۔ اس کے ساتھ اس بات کا خیال رکھا کہ یہ سب تبدیلیاں ایک دم نہ ہوں بل کہ غیر محسوس طریقے سے دھیرے، دھیرے ایسا ماحول ترتیب دیا جائے جو میں چاہتی ہوں۔ یوں بچوں کی توجہ کتابوں اور دوسری نصابی اور جسمانی سر گرمیوں کی طرف مرکوز کی گئی۔
یہ سب اتنا سہل نہیں تھا جیسے بیان کیا گیا بل کہ ایک تھکا دینے والا عمل ہے، جس کے نتائج فوری نہیں آتے۔ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ یہ ایک مسلسل تھیراپی کی طرح ہے جسے ایک طویل عرصے تک یا شاید مسلسل جاری رکھنا پڑے۔ اس دوران میں مجھے اندازہ ہے کہ دوبارہ کوئی کوتاہی ہوئی، تو پھر سے یہ لت یوں لگے گی کہ اگلی دفعہ اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں اس سے کہیں زیادہ محنت صرف ہو گی، جو میں اب کر رہی ہوں۔


