خواتین کے لیے ہدایت نامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیاری رابعہ،

امید کرتی ہوں آپ خیریت سے ہوں گی۔ میں ایک بار پھر تاخیر سے جواب دے رہی ہوں۔ اس کے لیے معذرت۔ کچھ مصروفیت ایسی رہی کہ بس کچھ ہوش نہ رہا۔

خیر، اپنی سیریز پر واپس آتے ہیں۔ آپ نے اپنے پچھلے خط میں مردوں کے لیے کچھ نکات لکھے تھے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جن مردوں نے اس تحریر کو پڑھا ہو گا ان میں سے ہی کچھ نے آپ کو فیس بک پر تلاش کر کے ”نائس تحریر، ڈئیر“ ان باکس کیا ہو گا۔

ہو سکتا ہے کچھ مردوں پر اس تحریر کا اثر بھی ہوا ہو۔ امید پر دنیا قائم ہے۔ ہم بھی مردوں سے اچھی امید لگا کر آگے بڑھتے ہیں۔

میں آج کے خط میں عورتوں کے لیے کچھ نکات لکھ رہی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایک اچھے معاشرے کے لیے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی تبدیل ہونا ہو گا۔

سو میری پیاری بہنو،

1۔ اپنی منفرد شناخت بناؤ اور اسے قائم رکھو۔ آپ کی شناخت میں آپ کی منفرد خصوصیات، عقائد، پسند ناپسند، شخصیت، ظاہری خد و خال، خیالات اور اظہار وغیرہ شامل ہیں۔ اپنی شناخت پر کسی اور کی شناخت یا پہچان کو حاوی نہ ہونے دیں۔

میں نے اکثر خواتین کو اپنی رائے اپنے سے منسلک کسی مرد کے نام سے دیتے ہوئے سنا ہے جیسے میرے ابو کہہ رہے تھے، میرے شوہر کہہ رہے تھے یا میرے بھائی کہہ رہے تھے۔ خواتین کو لگتا ہے کہ اس سے ان کی بات میں وزن پیدا ہوتا ہے۔

بہنو، اس سے آپ کی بات میں وزن تو اللہ ہی جانے پیدا ہوتا ہے یا نہیں، ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ اس سے آپ اپنی منفرد شناخت کھو دیتی ہیں۔ آپ کے ابو، بھائی اور شوہر کی رائے بہت اہم ہے۔ انہیں اپنی رائے کا اظہار خود کرنے دیں۔ آپ اپنی رائے کا اظہار کریں۔ نہ وہ آپ کی زندگی گزار رہے ہیں اور نہ ہی آپ ان کی زندگی گزار رہی ہیں۔ اس لیے اپنی رائے اپنے نام سے ہی دیں۔

2۔ آپ کی شناخت میں آپ کا نام بھی شامل ہے۔ آپ کو آپ کی پیدائش پر جو نام ملا ہے وہ آپ کی ملکیت ہے۔ اس سے اپنی مرضی یا کسی کے دباؤ میں دستبردار نہ ہوں۔

بہت سی خواتین شادی کے بعد محبت یا رواج کے نام پر اپنے نام کے ساتھ اپنے والد کا نام ہٹا کر شوہر کا نام لگا دیتی ہیں جیسے وہ ایک چیز ہوں جو ایک مرد نے دوسرے مرد کی ملکیت میں دے دی ہو۔

آپ کوئی چیز نہیں ہیں۔ جیتی جاگتی انسان ہیں۔ آپ شادی کے وقت اپنے شوہر کے ساتھ برابر کی بنیاد پر رہنے کا معاہدہ کرتی ہیں۔ اپنا سودا نہیں کرتیں۔ پھر نام کی تبدیلی کیوں؟

وہ تو شادی کے وقت اپنا نام نہیں بدلتے۔ آپ کیوں تبدیل کرتی ہیں۔ اپنے نام پر اپنا حق جتائیں اور اسے ہمیشہ کے لیے اپنی شناختی دستاویزات پر رکھیں۔

3۔ آپ سے روزانہ درجنوں مرد رابطہ کرتے ہوں گے۔ کوئی اصل زندگی میں تو کوئی انٹرنیٹ پر۔ آپ جن مردوں کو نہیں جانتیں اور جنہیں جاننا نہیں چاہتیں آپ انہیں جواب دینے کی پابند نہیں ہیں۔ ان کے پیغامات نظرانداز کریں۔ کوئی زیادہ تنگ کرے تو اس پر بلاک کا آپشن استعمال کریں۔ ان پر اپنا وقت ضائع نہ کریں۔

4۔ اپنی تعلیم کسی صورت نہ چھوڑیں۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد یونیورسٹی ضرور جائیں۔ شادی سے پہلے کم از کم بیچلرز ضرور کریں۔ آگے بھی پڑھنا چاہیں تو ضرور پڑھیں۔ ڈگری کسی معاہدے کے ساتھ نہیں آتی۔ شوہر ہنی مون پیریڈ کے بعد اپنے اصل پر آ جاتا ہے۔ ڈگری کے ساتھ کوئی ایسا کام بھی سیکھیں جس سے آپ پیسے کما سکیں۔

میں نے اکثر خواتین کو شادی کے بعد دوسروں سے آن لائن نوکریوں بارے پوچھتے ہوئے دیکھا ہے۔ جب زندگی نے حقیقت بن کر سامنے آنا ہی ہے تو پہلے سے ہی اس سے نبٹنے کی تیاری کیوں نہ کی جائے؟

5۔ آدمی کو زندگی کا ساتھی سمجھیں، زندگی نہیں۔ اسے خدا بھی نہ سمجھیں۔ اسے اس کے رتبے پر رکھیں۔ اسے پوج پوج کر اس کا دماغ نہ بگاڑیں۔

6۔ بہنو، برابری کا رتبہ گھر بیٹھے بیٹھے نہیں مل جاتا۔ اس کے لیے کچھ چیزیں چھوڑنی پڑتی ہیں اور کچھ اپنانی پڑتی ہیں۔ آپ خود کو دوسروں کے برابر سمجھیں گی تو دوسرے بھی آپ کو اپنے برابر سمجھیں گے۔ نہ سمجھیں تو ان کی متعلقہ اداروں کو شکایت لگائیں۔ یہ آپ کا حق ہے۔ لحاظ میں نہ بیٹھی رہیں۔

7۔ کسی کے تبدیل ہونے کا انتظار نہ کریں۔ بہت سی عورتیں شوہر کے برے نکلنے پر تعویذ گنڈوں میں پڑ جاتی ہیں۔ اس سب سے باہر نکلیں۔ آپ کے شوہر کو اچھے برے کا پتہ ہے۔ وہ جو کر رہا ہے اپنے ہوش و حواس میں کر رہا ہے۔

یہی حال آپ کے ساتھی کا ہے جو آپ سے محبت کا دعویٰ بھی کرتا ہے اور آپ کو عزت بھی نہیں دیتا۔ مکس سگنلز ملیں تو فوراً ٹھڈا کروائیں اور آگے بڑھ جائیں۔ بعض لوگوں کو عزت راس نہیں آتی۔ ان کے بدلنے کا انتظار کرنا اپنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔

9۔ اپنی حدود متعین کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے آپ کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کر سکتے ہیں اس کا بھی تعین کریں۔ نہ آپ اپنی حد سے باہر نکلیں نہ دوسرے کو اپنے ساتھ آپ کی بتائی گئی حد سے باہر نکلنے دیں۔ اگر وہ حد پار کریں تو انہیں فوراً اس کا احساس دلائیں۔

آپ کو ایک مخصوص رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ یہ رویہ آپ کو خود پر اعتماد کرنے سے ملے گا۔ آپ خود کو مکمل سمجھیں، اپنی عقل پر بھروسا رکھیں اور اپنے احساسات کو مقدم جانیں۔ اس کے بعد دنیا کا سامنا کریں۔ پھر کوئی کچھ بھی کہے اسے کہیں سیدھی بات نو بکواس۔

رابعہ، آپ کو یہ تجاویز کیسی لگیں؟ اپنے خط میں ضرور بتائیے گا۔

اس سیریز کے دیگر حصےچند اچھے مردوں کی صفات، جو ان کو منفرد بناتی ہیںمردوں کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کی طرف سے محبت کا پیغام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

گولڈن گرلز - رابعہ الربا اور تحریم عظیم

گولڈن گرلز کے عنوان کے تحت رابعہ الربا اور تحریم عظیم بتا رہی ہیں کہ ایک عورت اصل میں کیا چاہتی ہے، مرد اسے کیا سمجھتا ہے، معاشرہ اس کی راہ میں کیسے رکاوٹیں کھڑا کرتا ہے اور وہ عورت کیسے ان مصائب کا سامنا کر کے سونا بنتی ہے۔ ایسا سونا جس کی پہچان صرف سنار کو ہوتی ہے۔

golden-girls has 28 posts and counting.See all posts by golden-girls

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments