امریکی جیل میں قید ایک حسینہ کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرسٹی اور اس کے بوائے فرینڈ کو جب دس سال کی قید سنائی گئی تو اس کے بیٹے کی عمر تقریباً اڑھائی سال تھی۔ اس کے وکیل نے عدالت عالیہ سے استدعا کی اس کی مؤکلہ کی سزا میں کمی کی جائے کیونکہ وہ ایک معصوم بچے کی ماں ہے اور اس کی تربیت کے لیے جیل کا ماحول مناسب نہیں ہو گا۔ کرسٹی کا جرم اتنا سخت تھا کہ عدالت نے نہ صرف وکیل کی اپیل مسترد کر دی بلکہ بچے کو بھی اس کی ماں کے پاس جیل میں رہنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ وہ نشے کی عادی تھی اور عدالت نے فیصلہ کیا کہ بچے کو پالنے کی ذمہ داری اس کے کسی رشتہ دار کو سونپی جائے اور ریاست بچے کے تمام اخراجات کی ذمہ دار ہو گی۔

اس کہانی کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جب تک انسانوں کی پرورش کا ماحول نہ بدلا جائے ان کے رویے میں مثبت تبدیلی نہیں لائی سکتی۔ انسانی معاشرے کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ان کے گھر اور گرد و نواح کے ماحول کو بدلا جائے۔ ماں باپ کو اپنے بچے کی پرورش کی ذمہ داری قبول کرنا ہو گی اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے پیدا کرنے والے والدین کو خصوصی مراعات سے نوازے تا کہ لوگوں میں بچے پیدا کرنے کا رجحان قائم رہے اور ماں باپ اپنے بچوں کی اس طرح کی تربیت کریں کہ وہ ریاست کے مفید شہری بن سکیں۔

اگر گھر کا چولہا گرم رکھنے کے لیے، میاں بیوی دونوں کو نوکری کرنا پڑے تو بچوں کو گھر کا ماحول کیا خاک ملے گا۔ گھر تو ہو گا لیکن گھر میں بچوں کی تربیت کرنے والا کوئی نہیں۔ بچے گھر میں کسی آیا کے پاس چھوڑ دیے جائیں گے یا کسی کیئر ہوم میں نرسوں کی زیر نگرانی پرورش پائیں گے۔ آیا اور نرس کا رتبہ اپنی جگہ لیکن کیا وہ ایک ماں کی جگہ لے سکتی ہیں۔ ماں باپ دونوں اگر دن بھر نوکری کریں تو کیا وہ شام کو اپنے بچوں کو کوالٹی ٹائم دے پائیں گے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ ہم اپنے گھروں کا ماحول کیسے بدل سکتے ہیں، معاشرتی قدروں کو بہتر بنانے کے لیے گھر اور ریاست کا کردار کیا ہونا چاہیے۔

یہ ضروری ہے کہ بچوں کی اوائل عمر میں ماں یا باپ، دونوں میں سے ایک بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزارے۔ بہتر ہو گا اگر ماں بچوں کے ساتھ رہے، جس نے بچے کو اپنی کوکھ میں پالنے کی ذمہ داری لی، اپنے جسم کی قربانی دی، وہی بچے کی گھر میں تربیت کی ذمہ دار بھی ہو لیکن اس صورت میں معاشرے اور ریاست کو ماں اور بچے کے تحفظ اور معاشی فکر سے آزاد رہنے کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔ وہ اپنے مالی معاملات کے لیے اپنے شوہر یا کسی اور کی زیر دست نہ ہو۔ یہ باپ کا کام ہو یا ریاست کی ذمہ داری کہ وہ بچے پالنے والی ماؤں کے نان و نفقے کا بندوبست کرے اور انہیں ہر قسم کے معاشی فکر سے آزاد کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے بچے کی پرورش ایک آزاد ماں کے طور کر سکیں۔

بچے پیدا کرنے والی ماؤں کی قربانی کے پیش نظر ریاست کو اپنے وسائل کا بڑا حصہ ماں اور بچے کے تحفظ اور پرورش کے لیے مختص کرنا چاہیے۔ ماں اپنے بچوں کو ریاست کا وفادار اور قابل شہری بنانے کی ابتدائی تربیت دے۔ شاید زچہ و بچہ کی پرورش پر خرچ کرنے سے ریاست کے خزانے پر بوجھ تو بڑھے گا لیکن کیا یہ بوجھ ایک بھاری بھرکم فوج یا پولیس رکھنے سے زیادہ ہو گا۔ ہم بڑی بڑی فوجیں بھی تو پالتے ہیں تو پھر صحت مند اور اچھی ماوں کی فوج تیار رکھنے میں کیا حرج ہے۔ ماں اپنے وطن کے لیے ایسے سپاہی بچے تیار کرے جو ہر میدان میں کامیاب ٹھہریں۔

غیر ذمہ دار والدین سے نپٹنے کے لیے سخت سے سخت قوانین بنانے چاہئیں۔ وہ مرد اور عورت جو اپنے جسمانی تعلق کو قائم کرنے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ جو اپنی جسمانی ہوس کو ٹھنڈا کرنے کے چکر میں بچے پیدا کر بیٹھتے ہیں جیسے کرسٹی اور اس کے بوائے فرینڈ نے کیا، جس سے ان کے بچوں کی پر وش ایک بہت بڑے انسانی بحران کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ اولاد پیدا کرنا ایک شعوری اور سوچا سمجھا عمل ہونا چاہیے۔ ماں اور باپ کے غیر ذمہ دار رویوں کا بھی تعین ہو نا چاہیے، ان کے خلاف بھی تادیبی کارروائی ہونی چاہیے بالکل اسی طرح جس طرح غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کرنے والوں کو سزا دی جاتی ہے۔

غیر ذمہ دار ڈرائیورز اپنی اور دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ اگر والدین اپنے فرائض کی تکمیل میں کوتاہی برتیں گے تو ایک معصوم بچے کی زندگی خطرے سے دو چار ہو سکتی ہے، یقیناً اس بچے کی زندگی تباہ ہو گی جسے اس کی والدین کی درست تربیت نہیں ملی۔ شاید اس یوٹپیائی خیال کو عملی جامہ پہنانا مشکل کام ہو لیکن یہ ناممکن نہیں کہ اگر گاڑی چلانے کے لیے کسی لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے، آپریشن کرنے کے لیے کسی کوالیفائڈ ڈاکٹر کا ہو نا ضروری ہے اور جہاز اڑانے کے لیے پائلٹ کو ویل ٹرینڈ ہو نا چاہیے تو ماں باپ بننے کے لیے بھی کسی کوالیفیکیشن کا ہونا ضروری کیوں نہ ہو؟

کیوں نہ ریاست اور قانون کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ میاں بیوی یا ماں باپ بننے سے پہلے کوئی اجازت نامہ جاری کرے، چاہے وہ نکاح نامے کی صورت میں ہو یا پھر عدالتی کاغذات کی صورت میں۔ خاندان کے یونٹ کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بچے پیدا کرنے کے خواہش مند خواتین و حضرات اور جوڑوں کو باقاعدہ شادی شدہ ہو کر رہنے کی ترغیب دی جائے۔ ضروری ہے کہ والدین بننے والوں کی تربیت کی جائے کہ بچوں کو گھر میں دوستانہ ماحول کیسے فراہم کیا جاتا ہے۔ کیا ہم اپنے ٹیچرز کو اس بات کی ٹرینگ نہیں دیتے کہ وہ اپنے کلاس روم کو کیسے چائلڈ فرینڈلی بنائیں تو پھر والدین کی باقاعدہ تربیت کا اہتمام کیوں نہ کیا جائے۔ ماں باپ سے بڑھ کر اچھا استاد کون ہو سکتا ہے لیکن ضروری ہے وہ بھی شادی سے پہلے کسی تربیتی مرحلے سے گزریں۔

اس کہانی کے مرکزی کردار مس کرسٹی پر غیر قانونی طور پر ڈرگز سمگل کرنے اور اس میں اپنے بوائے فرینڈ کی مدد کرنے کا الزام تھا۔ وہ دونوں خود بھی منشیات استعمال کرنے کے عادی تھے لیکن جیل جانے سے کچھ سال پہلے ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ کرسٹی اور اس کے بہن بھائیوں کو بچپن میں اپنے ماں باپ کا پیار اور توجہ نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے۔ اس کا بچپن ایک ایسے گھر میں گزرا تھا جہاں اس کے ماں باپ دن کو کام کرتے تھے اور شام کو دیر سے گھر آتے۔ کرسٹی اور اس کی بڑی بہن سارا دن گھر میں اپنی نانی کے ساتھ اکیلے گزارتے۔

ان کی نانی بوڑھی تھی اور طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا بھی۔ وہ بچوں کی نگرانی بس اس حد تک کرتی تھی کہ وہ گھر سے باہر نہ نکلیں اور ٹائم پر کھانا کھا لیں ورنہ بچے سارا دن گھر میں اکیلے کھیلتے رہتے اور وہ اکثر شام کو والدین کے آنے پہلے ہی سو جاتے تھے۔ بچوں کے شب و روز یوں ہی گزرتے گئے، ان کے لیے گھر میں تربیت کا کوئی مناسب اہتمام نہ تھا لیکن وہ رسمی تعلیم حاصل کر نے کے لیے ہائی سکول میں پڑھنے جاتے۔ ہائی سکول میں کرسٹی کے کئی لڑکوں کے ساتھ افئیرز چلے لیکن اس کی زیادہ توجہ اپنی پڑھائی پر ہی مبذول رہی۔ وہ ہائی سکول کا ڈپلومہ اچھے گریڈز میں پاس کر گئی اور کالج جانے کا سوچ رہی تھی۔

کالج میں داخلے سے پہلے کرسٹی کا رابطہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے ہائی سکول کے ایک دوست سے ہوا جس نے اسے ایک خفیہ ڈرنک اینڈ ڈائن پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی۔ اگرچہ کرسٹی کی عمر قانونی نشہ استعمال کر نے کی مقررہ عمر سے کم تھی پھر بھی وہ اس پارٹی میں چلی گئی جہاں اس کی ہم عمر کئی اور لڑکیوں اور لڑکوں نے کئی قسم کی منشیات پھونکنے کے مزے لیے۔ کرسٹی کے لیے وہ سب کچھ بہت نیا تھا۔ وہ متوسط طبقے کی لڑکی تھی لہذا اسے اس قسم کی پارٹیوں میں جانے کے مواقع نہیں ملے تھے لیکن اسے کیا معلوم تھا اس پارٹی میں جانا اس کی زندگی کا ایک خطرناک موڑ ثابت ہو گا۔

ڈرنک اینڈ ڈائن پارٹی کا اہتمام کرنے کے پیچھے ایک خفیہ ہاتھ تھا جو نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو پہلے نشے کا عادی بناتا پھر انہیں تعلیمی اداروں میں منشیات بیچے کے مکروہ دھندے پر لگا دیتا تھا۔ کرسٹی پہلے پہل غیر قانونی منشیات بیچنے کے کاروبار کا حصہ نہیں بنی اور مزاحمت کرتی رہی یہاں تک وہ اس گروہ کے ہاتھوں بلیک میل ہونے لگی اور پھر وہ اس غیر قانونی کاروبار کا حصہ بن کر ایک گہری دلدل میں دھنستی چلی گئی۔

کرسٹی نشہ کرنے کی اس حد تک عادی ہو گئی کہ اس نے کالج جانے کا ارادہ بھی ترک کر دیا اور اپنے گھر والوں سے بھی لڑائی کر کے اپنے اسی دوست کے پاس رہنے لگی جس نے اس غریب کو پارٹی پر آنے کی دعوت دی تھی۔ وہ دونوں بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ بن کر رہنے لگے، اسی دوران ان کے ایک لڑکا بھی پیدا ہوا، دونوں کئی سال تک شہر کے ہائی سکول اور کالج کے سٹوڈنٹس میں نشے کی پڑیاں بیچ کر اپنا خرچ پانی پورا کرتے یہاں تک انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا جوا کھیلنے کا ارادہ کیا اور منشیات کی ایک بڑی کھیپ سمگل کرنے کی ٹھانی جس کے دوران وہ پکڑے گئے اور عدالت نے دونوں کو غیر قانونی منشیات کی بڑی مقدار سمگل کرنے کے جرم میں دس دس سال کی سزا سنائی گئی۔

دوران قید، کرسٹی کے اچھے رویے کی وجہ سے اسے ایک مڈ ہوم میں رہنے کی آزادی دی گئی۔ مڈہوم، وہ جگہ ہے، جہاں قیدیوں کو جیل سے باہر اصلاح کے لیے رکھا جاتا ہے۔ وہاں قیدیوں کو مکمل آزادی تو حاصل نہیں ہوتی لیکن انہیں مقررہ اوقات کے لیے اپنی ملازمت وغیرہ یا گھر والوں سے ملنے کے لیے جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ان کے ساتھ ایک ٹریکر لگا دیا جاتا ہے جس کی مدد سے ان کے نقل و حرکت کی مکمل نگرانی کا بندوبست ہوتا ہے۔

مڈہوم میں رہتے ہوئے کرسٹی کو ایک کمپنی میں فرنٹ ڈیسک پر کام کرنے کی جاب مل گئی۔ اب وہ ہر ویک اینڈ پر اپنے چار سالہ بیٹے سے بھی مل سکتی تھی جو اس کی آنٹی کے پاس رہتا تھا۔ کرسٹی کے بظاہر رویے میں بہتری دیکھتے ہوئے، جیل حکام نے اس کی باقی ماندہ سزا کو معاف کرنے کی سفارش کی۔ جیل میں علاج کے بعد کرسٹی کا جسم اور خون بھی منشیات کے اثرات سے مکمل پاک ہو چکا تھا۔ عدالت نے بھی اسے ایک ماں کی حیثیت سے ریلیف دینے کا فیصلہ کیا اور اس کی سزا ختم کر دی تاکہ وہ اپنے بچے کی پرورش کر سکے۔

کچھ سالوں بعد کرسٹی کا بوائے فرینڈ بھی جیل سے آزاد ہو گیا۔ اس کے جیل سے باہر آتے ہی کرسٹی دوبارہ اپنے بچے کو چھوڑ کر اس کے پاس چلی آئی۔ وہی بوائے فرینڈ، جس کی وجہ وہ جیل میں گئی اور اسے اپنے معصوم بیٹے سے دور رہنا پڑا۔ کرسٹی نے دوبارہ اپنے بیٹے کو اپنی آنٹی کے حوالے کیا اور خود اسی دنیا میں واپس چلی گئی جہاں سے وہ جیل گئی تھی۔ بیٹا ویسے اپنی ماں سے اتنا مانوس نہیں تھا، وہ اس کی آنٹی کے پاس ہی رہتا رہا مگر اب کی بار اس کی پیاری خالہ نے اپنے بھانجے کو رکھنے کی قیمت ڈبل کر دی۔

اس کہانی میں کر سٹی خود غرض اور دوغلے کردار کا حامل ایک کردار ہے جو نرگسیت کا شکار آتی ہے۔ اس نے اپنی آزادی کے حصول کی خاطر، اچھا بننے کا ڈھونگ رچایا اور اپنے بچے کا نام استعمال کیا۔ مگر دراصل اسے اپنے بچے کی پرورش یا اس کے ساتھ رہنے سے کوئی مطلب نہ تھا۔ کیا کوئی انسان اتنا بھی نا قابل اصلاح ہو سکتا ہے بالکل ایک مشین کی طرح جسے خراب ہونے کے بعد کسی کباڑ خانے میں پھینک دیا جائے۔ کیا ہماری جیلوں کا نظام بھی ایک کباڑ خانہ بن چکا ہے جہاں مجرموں کی اصلاح ہونے کی بجائے وہ وہاں سے الٹا ہارڈ کور کریمنل بن کر باہر نکلتے ہیں جیسے کرسٹی نے جیل سے باہر نکل کر دوبارہ وہی مکروہ دھندا شروع کر دیا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments