بنیاد پرست گھرانوں سے تعلق رکھنے والی آزاد خیال خواتین کہاں جائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام نے عورت پر پردہ واجب کیا اور مسلمان عورت پر پردہ لازم ہوگیا. اسلام پر ایمان رکھنے والے مختلف علماء نے اسلام کے دیگر احکامات کی طرح احکام پردہ کی تشریحات بھی اپنی ذاتی سمجھ بوجھ کے مطابق کیں اور معاشرے میں اپنی تخلیق کردہ تشریحات کا پرچار کیا جس کے نتیجے میں درج ذیل طبقات سامنے آئے۔

پہلا طبقہ: یہ طبقہ اس بات کے حق میں ہے کہ عورت نامحرموں کی موجودگی میں ناصرف سرتا پا (چہرے اور بالوں سمیت) ملفوف رہے بلکہ بات چیت کرنے، ہنسنے مسکرانے حتی کہ خوشبو لگانے سے بھی مکمل پرہیز کرے. اس طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد عموماً خواتین کی تعلیم اور ملازمت کے خلاف ہوتے ہیں کیونکہ دوران تعلیم اور دوران ملازمت خواتین کا واسطہ نامحرم مردوں سے پڑنے کا امکان ہوتا ہے۔

دوسرا طبقہ: یہ طبقہ اس بات کے حق میں ہے کہ عورت اگر نا محرموں کے سامنے چہرہ نا ڈھانپے اور بات چیت بھی کرلے تو اس میں کوئی حرج نہیں مگر اسے چاہیئے کہ بے جا ہنسی مذاق سے پرہیز کرے ، جسمانی خدوخال نمایاں کرنے والا لباس زیب تن نا کرے اور اپنے سر اور بالوں کو حجاب سے ڈھانپ کر رکھے ۔ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد خواتین کو اگرچہ تعلیم حاصل کرنے اور ملازمت کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں لیکن یہ اجازت مشروط ہوتی ہے اور کسی بھی وقت عدم اطمینان کی بنا پر کالعدم قرار دی جا سکتی ہے۔

تیسرا طبقہ: اس طبقے کے نزدیک خواتین کا سر ڈھانپنا اگرچہ پسندیدہ عمل تو ہے لیکن اگر کوئی عورت سر نا ڈھانپے تو بھی وہ کچھ خاص معتوب نہیں ٹہرتی ۔ خواتین کی نا محرم مردوں کے ساتھ دوستی کو اس طبقے میں بھی پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد خواتین کی تعلیم اور ملازمت کی راہ میں کچھ خاص رکاوٹیں تو حائل نہیں کرتے مگر عشق محبت جیسے معاملات عموما برداشت نہیں کئے جاتے اور شادی بیاہ جیسے معاملات میں لڑکی کی مرضی کو شاذ و نادر ہی اہمیت دی جاتی ہے۔

چوتھا طبقہ: یہ طبقہ پردے کے روایتی احکامات کو خاطرخواہ اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا بلکہ نظر کے پردے اور نظر کی پاکیزگی کا قائل ہوتا ہے۔ اس طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین ناصرف اپنے من پسند لباس زیب تن کرنے کے معاملے میں آزاد ہوتی ہیں بلکہ تعلیم ، ملازمت اور کاروبار جیسے معاملات میں بھی بڑی حد تک اپنی مرضی کی مالک ہوتی ہیں ۔ یہ طبقہ خواتین کو گھومنے پھرنے ، سیر و تفریح کرنے اور مردوں کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم کرنے سے نہیں روکتا نیز شادی بیاہ سے متعلق معاملات میں بھی لڑکی کی مرضی کو اولیت دینے کا قائل ہوتا ہے – اس طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں بہت قلیل تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اس طبقے کو عام زبان میں لبرل طبقہ کہا جاتا ہے جسے بنیاد پرست معاشرے میں سخت ناپسندیدگی کی نظرسے دیکھا جاتا ہے۔

یہاں بحث اس بات سے نہیں کہ مندرجہ بالا طبقات میں کون سا طبقہ اسلامی تعلیمات کی درست پیروی کر رہا ہےاور کون سا طبقہ اسلامی تعلیمات سے پہلو تہی کا مرتکب ہورہا ہے کیونکہ تمام طبقات اپنے اپنے نقطہ نظر کو درست سمجھتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہیں۔

سوال درحقیقت یہ ہے کہ کون سا طبقہ خواتین کو فطر ی طریقے سے جینے اور زندگی سے لطف اندوز ہونے کے مواقع فراہم کر رہا ہے؟ یعنی کون سا طبقہ یہ تسلیم کر رہا ہے کہ عورت جب مختصر لباس پہنتی ہے تو اس کا مقصد ہمیشہ مردوں کو لبھانا نہیں ہوتا بلکہ وہ تازہ ہوا اور سورج کی روشنی کا لمس اپنی جلد پر محسوس کرنے کی آرزو میں ایسا کرتی ہے؟ کس طبقے کے نزدیک عورت کی بارش میں بھیگنے کی خواہش اور سمندر میں نہانے کی خواہش کے پیچھے مردوں کی نظروں کا محور بننے کا مقصد کار فرما نہیں ہوتا بلکہ فطرت کےساتھ اس کی محبت کار فرما ہوتی ہے؟ کس طبقے کے نقطہ نظر کے مطابق صبح کے وقت جب کوئی عورت چہل قدمی یا جاگنگ کے لئے گھر سے نکلتی ہے تو مقصد اپنی صحت کا خیال رکھنا ہوتا ہے ناکہ مردوں کی توجہ حاصل کرنا؟ کون سا طبقہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ اگر کوئی لڑکی اعلی تعلیمی اداروں (جو کہ زیادہ تر مخلوط ہوتے ہیں) میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہے تو مقصد مردوں اور لڑکوں کی صحبت سے لطف اندوز ہونا نہیں بلکہ اپنا مستقبل بہتر بنانا ہوتا ہے؟ اور بالکل اسی طرح ملازمت اور کاروبار کے پیچھے بھی معاشی خود انحصاری کے حصول کا مقصد کار فرما ہوتا ہے ناکہ مردوں کے ساتھ میل ملاپ کا مقصد –

بلاشبہ یہ بنیاد پرست معاشرے کا سب سے مختصر طبقہ یعنی لبرل طبقہ ہی ہے جو عورت کی فطرت سے متعلق درست خطوط پر سوچتا ہے اور تسلیم کرتا ہے کہ مرد بھلے عورت کے لیے جتنا بھی اہم کیوں نا ہو مگر وہ عورت کے تمام تر افعال کے پیچھے کار فرما "واحد مقصد” نہیں ہو سکتا – اب صورت حال یہ ہے کہ جن خواتین کا تعلق بنیاد پرست معاشرے کے اس مختصر ترین طبقے سے ہے انھیں بڑی حد تک وہ حقوق حاصل ہیں جنھیں بین الاقوامی طور پر "بنیادی انسانی حقوق” کا نام دیا جاتا ہے جبکہ دیگر طبقات (اکثریتی طبقات) سے تعلق رکھنے والی خواتین ان حقوق سے جزوی یا کلی طور پر محروم ہیں۔ جو خواتین بذات خود بنیاد پرست سوچ کی حامل ہیں ان کے لئے ممکن ہے کہ ان بنیادی حقوق سے دستبردار ہونا مشکل نا ہو لیکن وہ خواتین جو ایک آزاد سوچ کی حامل ہیں مگر بدقسمتی سے کسی بنیاد پرست خاندان کا حصہ ہیں ایک انتہائی مشکل اور تکلیف دہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ وہ نا تو خود پر عائد بے جا پابندیوں کے خلاف کھل کر احتجاج کر سکتی ہیں، نا ہی قانونی مدد طلب کرسکتی ہیں اور نا ہی بنیاد پرست معاشرے سے تعلق رکھنے والا انتہائی مختصر طبقہ، یعنی لبرل طبقہ، ان کی خاطر خواہ مدد کا متحمل ہوسکتا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ بنیاد پرست معاشرے میں مذہب کے نام پر عائد شدہ پابندیوں کے خلاف احتجاج عموما بدترین تشدد کو جنم دیتا ہے اورچونکہ ایسے معاشروں کا قانون خود بھی بنیاد پرستی ہی کی کوکھ سے پھوٹا ہوتا ہے لہذا وہ مذہب کے نام پر عائد شدہ پابندیوں کی حمایت ہی کرتا ہے ناکہ مخالفت ۔ جہاں تک لبرل طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا معاملہ ہے تو یہ مذہبی شدت پسندی کا نشانہ بننے والوں کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کرنے پر اکثرو بیشتر بذات خود زیر عتاب آجاتے ہیں۔ 

موجودہ دور میں جب دنیا ایک گلوبل ولیج میں تبدیل ہوچکی ہے عالمی برادری کا فرض ہے کہ اپنے شہریوں کے ساتھ ساتھ ان افراد (خاص کر خواتین ) کی داد رسی کے لیے بھی خاطر خواہ اقدامات کرے جو اپنے ممالک میں قیدیوں کی سی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں اور اپنے ہی خونی رشتہ داروں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ثمینہ رفیق کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments