نکولائی شیڈرین کی ایک کہانی: موژیک



اشتراکی انقلاب آنے سے پہلےروس میں ایک طبقہ ہوتا تھا جو غلام، نوکر، اجڈ ، گنوار، گھامڑ اور کام چور، غرض ہر حقارت آمیز وصف اور خاصیت کا امتزاج سمجھا جاتا تھا۔ اس طبقے کے افراد کو موژیک کہتے تھے۔ 

انیسویں صدی کے اواخر کا ذکر ہے ماسکو میں دو سول سرونٹس تھے ۔ دونوں کے سروں میں دماغ نام کی کوئی شے نہیں تھی۔ ایک دن انہوں نے اپنے آپ کوایک ویران، سنسان جزیرے پرپایا جہاں نہ آدم نہ آدم کی ذات۔ جیسے وہ طلسمی اڑن کھٹولے پر بیٹھ کر وہاں پہنچ گئے ہوں۔

ان دونوں کی تمام عمر محکمہ دستاویزات میں گزری تھی۔ لگتا تھا کہ وہیں پیدا ہوئے، پلے بڑھے اور سوائے لہراتے ہوئے الفاظ میں بڑی خوش خطی سے ہر دستاویز کے آخر میں یہ لکھنے کے کہ ،فدوی نوکر سرکار عالیہ کا ہے، اور کچھ نہ سیکھا۔

لیکن رضائے ایزدی سے، یا وزیر دستاویزات کے حکم سے، محکمہ کالعدم قرار دیا گیا اور ان دونوں بیوروکریٹس کی خدمات مزید درکار نہ رہیں۔ محکمے نے فراخ دلی دکھاتے ہوئے ریٹائرمنٹ کی مراعات میں ان کو سستے کرائے کے مکان، باورچی، اور نوکر بھی پنشن کے ساتھ دئیے۔ 

ایک ہی ترپال تلے جب انہوں نے اپنے آپ کو اس غیر آباد جزیرے میں پایا تو انہیں احساس ہی نہیں ہوا کہ ان کے ساتھ بیتی کیا؟ ایک نے بڑے مدھم سے انداز میں کہا،

"کتنا عجیب خواب تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے میں ایک غیر آباد جزیرے میں ہوں۔”

"اور مجھے بھی۔ "

دوسرے نے اسی انداز سے ہاں میں ہاں ملائی۔

اور پھر اچانک جیسے ان کے پاؤں تلے کسی نے انگارے رکھ دئیے ہوں ۔ بیک وقت دونوں چھلانگ لگا کر اٹھے، ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر چاروں طرف نظر دوڑائی اوریک زبان ہو کر چیخے،

"یہ کیا ہوا؟ یہ ہم کہاں آ گئے ہیں؟”

ان کے سامنے بیکراں سمندر تھا۔ پیچھے خشکی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا جس میں جھاڑیاں اور درختوں کے بہت گھنے جھنڈ تھے۔ اور ان کے پیچھے پھر بیکراں سمندر۔ ان کی خوف سےجھلکتی آنکھیں آنسووں سے بھر گئیں۔ محکمہ بند ہونے کے بعد سے وہ آج پہلی مرتبہ روئے تھے۔ 

روتے روتے انہوں نے ایک دوسرے کو غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ دونوں نے سلیپنگ سوٹ پہن رکھے تھے جن پر رات کا گاؤن تک نہیں تھا۔ لیکن گلے میں ریٹائرمنٹ پر دیا گیا تمغہ ایک لال ربن سے ضرور لٹک رہا تھا۔

"میرے خیال میں کافی پینے کا وقت ہو گیا ہے۔”

ایک نے کہا لیکن آس پاس کی صورت حال دیکھ کر پھر رونا شروع کر دیا۔

 "اب ہم کیا کریں۔ مسئلہ تو بڑا پیچیدہ ہے اس کی مزید تحقیق ہونی چاہیے۔ لیکن اگر تحقیق کے بعد رپورٹ لکھ بھی دی تو اس سے کیا فرق پڑے گا۔ اور رپورٹ لکھیں گے کیسے؟ نہ قلم ہے نہ دوات۔ نہ ہی کاغذ۔”

جونئیر افسر نے ایک تجویز پیش کی۔

"ایسا کریں، آپ مشرق کی طرف جائیں، میں مغرب کی طرف۔ شام کو ہم یہیں پر ملتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ تو صورت حال پہتر ہو گی۔ شائد کچھ کھانے پینے کو مل جائے۔ "

اب انہیں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ مشرق کس جانب ہے اور مغرب کس جانب۔ انہیں یاد آیا کہ ایک مرتبہ ان کے ڈیپارٹمنٹ چیف نے انہیں بتایا تھا کہ اگر کبھی زندگی میں ایسا وقت آئے کہ انہیں مشرق اور مغرب کا تعین کرنا پڑے تو وہ شمال کی سمت منہ کر کے کھڑے ہوجائیں ۔ مشرق ان کے دائیں ہاتھ کی سمت ہو گا۔ اور مغرب بائیں طرف۔

اب دونوں پہلے دائیں ہاتھ مڑے، پھر بائیں ہاتھ لیکن سمت کا کچھ اندازہ نہ ہوا۔

"میرا خیال ہے کہ مشرق اور مغرب کے جھنجٹ میں پڑنے کی بجائے اگر میں بائیں طرف اور آپ دائیں طرف نکل جائیں تو شائد ہمارا مسئلہ حل ہونے کی کوئی صورت نکل آئے۔

ایک بیوروکریٹ دائیں سمت نکلا ۔ فرط حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ درختوں کے جھنڈ میں انواع و اقسام کے پھل لگے ہوئے تھے۔ مشکل یہ تھی کہ وہ خاصی اونچائی پر تھے۔ پہلے اس نے چھلانگیں لگا کر انہیں توڑنے کی کوشش کی لیکن اتنی بلندی تک نہ پہنچ سکا۔ پھر اس نے ایک سیب کے درخت پر چڑھنے کی کوشش کی لیکن سوائے اپنا سلیپنگ سوٹ پھڑوانے کے کوئی اور نتیجہ نہ نکلا۔ 

ایک ندی میں اسے مچھلیاں نظر آئیں ۔ وہ محتاط نپے تلے قدموں سے پانی کی طرف بڑھا۔ ایک مچھلی اس کے قریب آئی۔ اس نے جھپٹا مار کر اس کو پکڑ لیا۔ جیسے ہی اس نے اپنی مٹھی بند کرنے کی کوشش کی مچھلی پھسل کر پھر پانی میں چلی گئی۔ 

شام ہونے کو آئی تھی۔ سرکاری افسر خالی ہاتھ مقررہ جگہ پر واپس پہنچا۔ اس کا ساتھی پہلے ہی سے انتظار کر رہا تھا۔

"تو سرکار آپ کو کچھ ملا؟” 

اس نے ساتھی سے پوچھا۔ 

"کیچڑ میں دس سال پرانا ایک ماسکو گزٹ کا بنڈل ملا۔ لیکن اس میں کام کی بات کوئی بھی نہیں تھی۔ "

رات پڑ چکی تھی۔ دونوں ساتھیوں نے سونے کی تیاری پکڑی۔ لیکن بھوک سے ان کی انتڑیاں بلبلا رہی تھیں۔ نیند اور بھوک کی لڑائی میں فتح بھوک کی ہو رہی تھی۔ 

"کتنی عجیب بات ہے کہ ہمارا ڈنر اور ناشتہ یا تو درختوں پر اگتا ہے، یا دریا میں تیرتا ہے یا ہوا میں اڑتا ہے۔”

” اور میں سمجتا تھا کہ ناشتے کے کریم رول دنیا میں اسی طرح بنے بنائے آتے ہیں جیسے وہ ناشتے کی میز پر لگتے ہیں۔”

” ان حقائق کی روشنی میں یہ نتیجہ اخز کیا جا سکتا ہے ۔”

ایک افسر نے سرکاری زبان میں گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا،

"کہ اگر تیتر کھانا ہے تو پہلے تو ہمیں تیتر پکڑنا پڑے گا۔ پھر اسے ذبح کرنا پڑے گا۔ پھر اس کے پر نوچ کر ، بوٹیاں بنا کر اس کا سالن اور شوربہ تیار کرنا پڑے گا۔ مگر سرکار یہ ہم دونوں کریں گے کیسے؟ دستاویزات کے محکمے نے تو ہمیں ان ہنگامی حالات کا سامنا کرناسکھایا ہی نہیں۔”

انہوں نے پھر سونے کی کوشش کی لیکن آنکھوں کے سامنے تیتر، بٹیر، مرغیوں کی بوٹیوں ، شوربے کی تصویروں اور ٹپکتی ہوئی رال نے انہیں سونے نہ دیا۔ 

"میرا بھوک سے اتنا برا حال ہو رہا ہے کہ مجھے اپناچمڑے کا بوٹ تک بہت لذیذ لگے گا۔”

ایک نے کہا۔

"ویسے دستانہ بھی برا نہیں ہے۔ اگر اسے اچھی طرح ابال لیا جائے۔”

دوسرے نے لقمہ دیا۔ 

باتیں کرتے کرتے صبح ہو گئی۔ نقاہت سے دونوں افسروں کا برا حال تھا۔ 

اچانک جونئیر افسر کو جیسے الہام ہوا۔

"بس ، ہو گیا مسئلہ حل۔”

اس نے ڑے جوش و خروش سے کہا۔ 

"وہ کیسے؟”

سینئیر افسر نے پوچھا۔ 

"ہم یہاں ایک موژیک تلاش کریں۔”

"موژیک ؟ کس قسم کا موژیک ؟”

دوسرے افسر نے حیرت سے پوچھا۔

” کس قسم کا؟ عام قسم کا سرکار ۔ باقی سب موژیکوں کی طرح کا۔ آپ کو تو پتہ ہے یہ لوگ کتنے کام چور ہوتے ہیں۔ کام سے بچنے کے لئے ہر قسم کا حیلہ بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔ ہمارے اپنے محکمے میں کتنے موژیک چپڑاسی، اردلی ملازم تھے جن کو خود آپ نے کام چوری پر سزائیں دیں ۔ یقینا اس جزیرے میں بھی ایک آدھا ایسا موژیک کام سے فرار ہونے کے لئیے چھپا بیٹھا ہو گا۔ اس کو تلاش کرتے ہیں۔ تاکہ وہ ہمیں ناشتہ دے۔ ڈنر بنائے اور ہمار ا باقی کام کاج کرے۔”

"کیا زبردست خیال ہے۔”

اب سینئیر افسر بھی چوکنا ہو گیا تھا۔ 

"چلو فورا چلتے ہیں۔ موژیک تلاش کرنے۔”

اس مرتبہ الگ الگ دائیں اور بائیں جانے کی بجائے دونوں سیدھی سمت میں روانہ ہوئے۔ کئی گھنٹے گزر گئے۔ کسی موژیک کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔وہ مایوس ہو کر پلٹنے ہی والے تھے کہ ان کے نتھنوں میں تازہ روٹی خوشبو آئی۔ دونوں خوشبو کی جانب لپکے اور دیکھا کہ ایک سایہ دار درخت کے نیچے ایک موٹا تازہ موژیک اپنے بازؤوں کو تکیہ بنائے لیٹا ہے اور زور زور سے خراٹے لے رہا ہے۔ پاس ہی ایک ادھ کھائی ڈبل روٹی کا بڑا سا ٹکڑا رکھا ہے۔ صاف ظاہر تھا کہ اس نے محنت سے بچنے کے لئے یہاں پناہ لی ہے۔

انہوں نے حقارت سے موژیک کو دیکھا۔ پھر پہلے جلدی سے اس کی بچی ہوئی روٹی کھالی۔ اس کے بعد سینئیر افسر نے زور سے ڈانٹ کر کہا،

"حرام خور، سست الوجود، کاہل ، کام چور موژیک اٹھ۔ تجھے معلوم نہیں یہاں دو سرکاری افسر بھوکے مر رہے ہیں اور تو سویا پڑا ہے ۔ اٹھ ۔ کام کر۔”

موژیک نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ منکر نکیر کہاں سے نازل ہو گئے ہیں۔ اس کے ذہن میں بس ایک ہی خیال آیا کہ وہاں سے بھاگ لیا جائے۔ ابھی فرار ہونے کے لئیے اس نے پہلا قدم ہی اٹھایا تھا کہ دونوں افسر اس پر لپکے اور اس کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اب موژیک کے پاس سوائے کام کرنے کے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

پہلے تو افسروں کے حکم کی بجا آوری میں اسے سب سے اونچے سیب کے درخت پر چڑھ کر ایک درجن سرخ پکے ہوئے موٹے موٹے سیب توڑنے پڑے۔ ایک سڑا ہوا سیب اس نے افسران سے چھپا کر اپنی پتلون کی جیب میں رکھ لیا۔
پھر اس نے زمین کھود کر آلو نکالے۔ دو لکڑیوں کو رگڑ کر آگ جلائی۔ پھرتی سے ایک تیتر پکڑا۔ اسے ذبح کیا۔ ندی سے ایک بڑی سی مچھلی پکڑی۔ آگ پر آلو، تیتر اور مچھلی اتنی افراط سے بن گئے کہ افسران نے فراخ دلی کے جزبے سے سرشار ہو کرنعمت خدا داد کا کچھ حصہ کھانے کے لئے موژیک کو بھی دےدیا ۔

اب ان کے چہروں سے اطمینان جھلک رہا تھا۔ پیٹ اور نیت دونوں سیر ہو چکے تھے۔ اب ان کے لئے یہ تصور بھی محال تھا کہ صرف چند گھنٹے پہلے وہ بھوک سے ایسے تڑپ رہے تھے کہ ایک دوسرے کو کھانے کے لئے تیار تھے۔ اب وہ سوچ رہے تھے کہ دنیا کی ہر نعمت انہیں میسر ہے۔ 

"حضور، کچھ اور خدمت؟ اب اگر اجازت ہو تو میں بھی تھوڑا سستا لوں؟”

موژیک نے ہاتھ باندھ کر التجا کی۔

"ہاں ، ہم تمھاری محنت اور خدمت سے بہت خوش ہیں۔ تھوڑی دیر آرام کر لو۔ پھر تمہیں باقی کام بتائیں گے۔ لیکن پہلے ایک مضبوط سی رسی بناؤ۔” 

سینئیر افسر نے کہا۔

ندی کے کنارے پٹ سن اگی ہوئی تھی۔ بہت ساری پٹ سن توڑ کر ساری سہ پہر کی محنت کے بعد بالآخر ایک لمبی سی مضبوط رسی تیار ہوگئی۔

"اب اس درخت کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو جاؤ۔”

دونوں افسروں نے مل کر موژیک کو درخت کے تنے سے باندھ دیا تاکہ وہ فرار نہ ہو جائے اور پھر سونے کی تیاری پکڑی۔

اب یہ روز کا معمول بن گیا تھا۔ موژیک افسروں کی انتھک خدمت کرتا۔ طرح طرح کے کھانے کھلاتا۔ دونوں لذیذ کھانےکھا کھا کر خوب موٹے تازے ہو گئے تھے۔ وہ خوش تھے کہ انہیں ہر چیز مفت مل رہی تھی۔ موژیک کو معاوضہ بھی نہیں دینا پڑتا۔ اور ان کی پوری کی پوری پنشن ماسکو کے بینک میں جمع ہو رہی تھی۔ 

وہ اپنی طرف سے عیاشی کی زندگی گزار رہے تھے۔ سارا دن فلسفیانہ گفتگو کرتے، کبھی مینار بابل کی، کبھی طوفان نوح کی۔ گھنے درختوں کے سائے میں بیٹھ کر ماسکو گزٹ کا ہر صفحہ ان گنت مرتبہ پڑھتے۔ کوئی فکر نہ فاقہ۔ اور انسان کو کیا چاہئیے؟

کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اللے تللے کب تک جاری رہتے۔ لیکن اب آہستہ آہستہ دونوں کے دلوں میں بوریت کے عفریت نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا۔

انہیں ماسکو میں اپنی گلی یاد آتی۔ اپنی سرکاری افسروں کی مخملی سنہری ریشم کے فیتے والی وردی کی یاد ستاتی جس کو پہن کر وہ شام کو چہل قدمی کے لئے نکلتے تھے۔ اپنے باورچیوں اور نوکروں کا خیال آتا۔ چھپ کر تنہائی میں دونوں ایک آدھ آنسو بھی بہا چکے تھے۔ 

"یہاں ہمیں خدا کا دیا سب کچھ نصیب ہے، لیکن بکری کا بچہ آخر ماں کے پاس لوٹنا چاہتا ہے۔”

سینئر افسر نے کچھ فلسفیانہ اور کچھ ڈرامائی انداز میں جذبات سے بھر پور آواز میں کہا۔

کچھ دن بعد انہوں نے کھل کر موژیک سے کہنا شروع کر دیا کہ وہ کسی طرح انہیں واپس ان کی گلی میں پہنچا دے جہاں انہیں سرکاری اعانت کی سہولت کی وجہ سے سستے کرائے کے مکان ملے ہوئےتھے۔ 

موژیک اس گلی سے واقف تھا۔ 

"حضور میں تو اسی گلی میں کام کرتا تھا۔ آپ نے ضرور مجھے دیکھا ہوگا۔ سرکاری اونچی بلڈنگوں کی چھت میں گڑے ہوئے کھونٹوں میں رسے باندھ کر ، ہوا میں لٹکے ہوئے چبوترے پر کھڑا ہو کر میں باہر سے دفتروں کی دیواروں پر سفیدی کیا کرتا تھا۔ اور وہیں وہ شراب خانہ بھی تھا جہاں میں واڈکا پیتا۔میں ضرور آپ کو واپس گھر پہنچا دوں گا۔ آپ فکر ہی نہ کریں۔” 

اب موژیک کے پاس جتنا بھی دماغ تھا اس نے کشتی بنانے کی کوشش میں صرف کرنا شروع کر دیا۔ بلآخر اس نے ایک چھوٹی سی کشتی بنا ہی ڈالی۔ اس نے افسروں کو یقین دلایا کہ کشتی کم از کم ایک پھیرے کے لئے تو بلکل کافی ہے۔

جزیرے میں راج ہنسوں اور بطخوں کی خاصی آبادی تھی جن کے پروں سے اس نے بیٹھنے کے لئے دو گدیاں بنائیں۔ سفر کی کامیابی کی دعا مانگی اور منت مان کر کشتی چلانی شروع کردی۔

 کشتی چل تو پڑی لیکن کیسے کیسے طوفان آئے، دونوں کی طبیعت کتنی خراب ہوئی۔ موژیک کو کتنی گالیاں سننی پڑیں اور سمندر کے اس سفر کے دوران دونوں افسروں کا خوف سے کیاحال تھا۔ یہ الگ کہانی ہے۔ لیکن موژیک انہیں تسلی دیتا اور ان کا حوصلہ بڑھاتا۔ ان کی ڈانٹ ڈپٹ کی پرواہ کئے بغیر وہ کشتی چلا تا رہا اور آخر کار انہیں ساحل نظر آیا جہاں وہ اپنے شہر کا نطارہ کر سکتے تھے۔

جب وہ اپنے گھر پہنچے تو باورچیوں اور ملازموں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا ۔ اورپر خلوص خوشی کا اظہار کیا کہ وہ خاصے صحت مند اور ہشاش بشاش لگ رہے تھے۔ ان کی خدمت میں کافی پیش کی اور کھانے کے لئے کریم رول دئیے۔ دونوں اپنی ریشمی وردی پہن کر پنشن کے دفتر گئے تاکہ دیکھیں اس دوران کتنے پیسے جمع ہوگئے تھے۔ لیکن وہ موژیک کو بھولے نہیں ۔ انہوں نے نوکر کے ہاتھ موژیک کو واڈکا کا ایک گلاس اور ایک روبل بھجوایا۔ ساتھ ہی یہ پیغام بھی کہ کیا یاد کرو گے کن سخیوں سے پالا پڑا تھا۔ ہمارے ساتھ رہو گے تو ایسے ہی عیش کرو گے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments