زمین سے کیسی شکایتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں جب آواران سے جاھو کی جانب سفر کر رہا تھا۔ بیدی کے مقام پر ویگن رکی۔ ایک سفید ریش شخص ہم سفر بنا۔ ابھی ویگن نے سفر کا ابتدا ہی کیا تھا کہ بابا نے بڑبڑانا شروع کیا۔ "آواران نون جاگہے؟ (آواران بھی کوئی جگہ ہے) بابا جی آواران کو برا بھلا کہنے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا تھا۔ میں نے پوچھا بابا جی آواران کی اتنی برائی کیوں؟ کہنے لگے کہ آواران کا کچھ نہیں بدلا ویسا کا ویسا ہے۔ میں نے سوال کیا کہ بابا جی آواران کو چھوڑے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے؟ کہنے لگے کہ پندرہ سال کا تھا تو کراچی چلا گیا پھر وہیں آباد ہوا۔ میں نے کہا بابا جی زمین کی تقدیر خود نہیں بدلتی زمین کو بنانے والے انسان ہیں۔ ہم ہی جب زمین کو لاوارث چھوڑ دیں گے تو یہی ہوگا۔
بابا جی اتنا عرصہ کراچی میں رہے تو بچے کتنے پڑھے لکھے ہیں؟ بابا جی نے فخریہ نگاہوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا "الحمداللہ سب نے میٹرک کیا ہے اور سب ڈرائیور لگے ہیں”۔ بابا جی کی اس فخریہ جواب نے سب مسافروں کو خوب ہنسایا۔ بیٹے اور بیٹیاں ڈاکٹر، ٹیچر بنتیں تو فخریہ بات بنتی مگر کیا کیا جائے۔
آج اطلاع ملی کہ ہیڈمسٹریس گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول علی گوٹھ صبر النسا کا تبادلہ کوئٹہ کر دیا گیا ہے۔ اس خبر نے زہن کو شدید دھچکے سے دوچار کیا۔ بابا کی تصویر ایک بار پھر سے آویزان ہوگئی۔ نگاہوں کے سامنے سکول کا ہنستا ہوا چہرہ نمایاں ہوا یقینا اس خبر نے اسے بھی افسردہ کیا ہو گا۔
صبرالنسا گزشتہ دو سال سے بطور ہیڈ ٹیچر سکول میں خدمات سرانجام دے رہی تھیں۔ ان کی آمد سے سکول کا نظام بدلا۔ سکول میں طالبات کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ان کی موجودگی میں اسپیس ملا لائبریری کے لیے۔ لائبریری کا چھوٹا سا پورشن ہم نے بنا لیا۔ جہاں طالبات اس سے استفادہ حاصل کر رہی تھیں۔
 مگر ان کا تبادلہ ایک بار پھر سے سکول کو لاوارث کر گیا۔ تبادلے کے پیچھے ان کی اپنی خواہش کا عمل دخل شامل جسے وہ اپنی مجبوری گردانتے ہیں کہ ان کا اکلوتا بیٹا کوئٹہ میں مقیم تعلیم حاصل کر رہا ہے اور شوہر کوئٹہ میں سرکاری ملازم ہیں۔ ان کا تبادلہ تو ہو گیا مگر سکول کو ان کا نعم البدل فراہم نہیں ہوا
 حالیہ ہیڈ ٹیچر کا تبادلہ زہن پر ہتھوڑا لے کر ٹھیسیں مار رہا ہے کہ فیصلہ سازی کے اس عمل میں زمینی حقائق کو دیکھے بنا ڈائریکٹر سکولز نے ایک کاغذ پر سائن تو کیا مگر کرسی پر بیٹھا مجازی خدا سائن کرتے ہوئے اس بات سے قاصر رہا کہ اس نظام کو سنبھالے گا کون جسے صبرالنسا چلا رہی تھیں۔
مجازی خداؤں سے بھلا کیا گلہ۔ انہیں گدی پر بٹھایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ وہ آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی قلم چلاتے رہیں۔ رہی بات زمین کی وہ تو ہمیشہ سے اپنوں کے بچھڑ جانے سے جی بھر کر رویا ہے۔
وطن کی مٹی سلامت رہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments