کھل کے سوچیے


اسی کی دہائی میں انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران کمپیوٹر پروگرامنگ کی پہلی کلاس میں ہمارے ریاضی کے استاد (اس زمانے میں کمپیوٹر ریاضی کے مضمون کی طور پر پڑھایا جاتا تھا) نے ایک فقرے میں کمپیوٹر کی ساری تھیوری سمجھا دی۔ فرمایا کمپیوٹر ہر مسئلے کو اسی طرح حل کرتا ہے جیسے ہمارا ذہن، اگر ہمیں اپنے ذہن کے سوچنے کا انداز سمجھ میں آجائے تو کمپیوٹر پروگرامنگ بھی سمجھ میں آجائے گی۔

لیکن اب یہ کیسے سمجھا جائے کہ ہمارا  ذہن کس طرح سوچتا ہے، کس طرح نیا علم حاصل کرتا ہے، یا ایک نا معلوم شے، تصور، خیال  وغیرہ کو معلوم شے، تصور یا خیال میں ڈھالتا ہے.

برسوں بعد کہیں یہ علم بھی حاصل ہوا کہ انسانی ذہن  سارا علم ثنائی نظام  (binary system) کے ذریعے سیکھتا ہے، ہاں یا نہیں، سچ یا جھوٹ، صحیح یا غلط۔ ہر نئی چیز، بات، تصور وہ کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو، اسے سمجھنے کا طریقہ پہلے سے حاصل شدہ علم سے موازنہ کرنا ہے، یا وہ پہلے جیسا ہے یا نہیں ہے۔ سرمئی رنگ کی پہچان اسی طرح ہوتی ہے کہ وہ سیاہ نہیں ہے اور سفید بھی نہیں ہے۔

کمپیوٹر پروگرامنگ سے شروع کرکے انسانی ذہن اور منطق کی ورکنگ تھیوری سے متعلق یہ سارے تصورات پچھلے دنوں ذہن کے نہاں دریچوں سے یوں سر اٹھا کر نمودار ہوگئے  کہ کچھ احباب کے گروپ میں دین کو سمجھنے کے حوالے سے   بات تقلید، غیر تقلید اور علمِ غیب وغیرہ تک پہنچ گئی۔  اس پر جو کچھ ذہن میں آیا وہ پیش خدمت ہے۔

قرآن کو اگر ہم عالمگیر اور آنے والے تمام زمانوں کے لئےvalid کتاب سمجھتے ہیں تو ہمیں تفسیر (اور تراجم بھی) ہر نئے زمانے میں نئے حاصل شدہ علم کے مطابق نئے سرے سے کرتے رہنا ہو گی۔  اس لئے کہ جیسا اوپر ذکر کیا ، ہر نئی بات پہلے سے موجود علم کی روشنی میں ہاں یا  نہ کی شکل   میں سمجھی جاتی ہے اسی طرح  پچھلے ادوار میں ہونے والی تشریح اور تفسیر اس زمانے کے مروج اور معلوم علم کی مدد سے کی گئی۔

اس میں اسلاف کی سمجھ بوجھ اور علم پر کوئی حرف آنے کی بات نہیں محض اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے وہ تفاسیر اپنے زمانے کے دستیاب علم کی مدد سے کی، مثلاَ اس مسئلے پر کہ قران میں مذکور ہے کہ رحم  مادر میں کیا ہے یہ ہم نہیں جانتے (یعنی انسان نہیں جانتے۔  اب کسی زمانے میں اس کی تشریح یہ کی گئی کہ یہاں  "کیا ہے” سے مراد بچے کی جنس ہے۔ سوال یہ ہے کہ

 جس زمانے کے علماء نے یہ تشریح کی اس وقت اس سے یہ کیوں مراد نہ لی گئی  کہ رحم میں بچہ ہے یا نہیں؟ اس لئے کہ اس وقت دستیاب علم سے یہ بات معلوم ہو چکی تھی کہ رحمِ مادر میں بچہ ہوتا ہے۔ البتہ  "بچے کی جنس”  اس لئے مراد لیا گیا کہ  اس دور میں یہی بات نامعلوم کے زمرے میں علماء کو دستیاب تھی۔

زمانے کی ترقی کے سبب یہ نامعلوم اب معلوم کے زمرے میں آگیا ہے لیکن اب ہمارا علم ہمیں بتا رہا ہے کہ ایک جنس سے بڑھ کر بھی کئی نامعلوم امور ہیں جو نومولود کے بارے میں ابھی تک کی سائنس معلوم نہیں کرسکی وہ امور کیا ہیں اس کا زیادہ بہتر اور واضح جواب کوئی ڈاکٹر یا ماہر جینیات دے سکتا ہے، جیسے بچے کی ذہانت کا معیار وغیرہ۔ کل کو سائنس کی ترقی کی بنا پر  وہ نامعلوم امور بھی معلوم ہوجائیں گے لیکن ساتھ ہی ہمیں مزید نامعلوم جہتیں سمجھ آجائیں گی۔

مسئلہ مسلمان علماء کا یہ ہے کہ وہ کافی عرصہ سے عصری علوم سے ناصرف نابلد ہیں بلکہ اس سے مخاصمت بھی ڈالے بیٹھے ہیں، لہذا ان کا استدلال متروک علوم اور لفظی موشگافیوں کی نذر ہو چکا ہے۔

میرا ہر گز یہ مطلب یا مقصد نہیں ہے کہ پرانی تفاسیر اور تراجم  یا احادیث  رد کر دی جائیں۔ میرا مدعا محض یہ ہے کہ ہر دور میں دستیاب وسائل علم و فنون کی روشنی میں یہ علمی کام از سرِ نو کئے جانے کی ضرورت رہتی ہے۔ اور چاہے غیر شعوری طور پر ہی سہی ہم اور ہمارے علماء ایسا کرتے بھی رہے ہیں۔ البتہ کچھ عرصے سے جیسے ایک جمود آگیا ہے۔ کچھ مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں

قرآن کی آیت مبارکہ کا مفہوم ہے

"ان دشمنان دین سے لڑنے کے لئے جتنی طاقت فراہم کر سکو تیار کرو، اور پلے ہوئے گھوڑے تیار کرو۔۔۔۔۔”

اس آئت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے آج کے دور میں کوئی عالم دین یہ نہیں کہتا کہ ہماری افواج کے لئے گھوڑے پالنا شرعی حکم ہے

اس لئے کہ کسی سٹیج پر علماء نے یہ انٹرپریٹیشن کر لی کہ پلے ہوئے گھوڑے تیار رکھنے کی بات میں اصل مطمع نظر حصول طاقت ہے۔

لیکن اسی اصول کے تحت آج کوئی رویت ہلال کی حدیث  میں چاند دیکھے جانے کی شرط کی تشریح میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ اس دور میں چاند کی موجودگی کا معتبر ترین حوالہ اس کا دیکھ لیا جانا تھا، اس لئے رویت کے الفاظ استعمال ہوئے، جبکہ آج اس سے بہتر اور معتبر تر ذرائع چاند کی موجودگی کے فلکیاتی علوم میں موجود ہیں، لہذا انہیں رویت کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیئے۔

اسی طرح حجامہ ایک سنت ہے۔ لیکن کیا آج ہمارے پاس حجامہ کے ویسے ہی ماہرین موجود ہیں جو زمانہ رسالت میں دستیاب تھے؟ اگر نہیں تو کیا حجامہ کی سنت کو اس مخصوص طریقہ علاج (جو جیسا بھی تھا آج ناپید ہے)، تک محدود کرنے کی بجائے جراحی، سرجری حتی کہ علاج کے وسیع تر مفہوم میں سمجھنے کی ضرورت نہیں؟

آپ اختلاف کر سکتے ہیں اور یہی میرا مطمح نظر ہے کہ اس طرح کا   جدت پسند طرزِ استدلال  ہی مسلمانوں کے ہاں مفقود ہوچکا ہے، اور اس کی بڑی وجہ ہمارے مذہبی طبقے کی عصری علوم سے ناواقفیت بلکہ مخاصمت ہے۔

Facebook Comments HS