ذرا سوچیں


چند دن بمشکل گزرتے ہیں کہ احتجاج، انتشار، بغاوت، تخریب اور تقسیم سے پھر واسطہ پڑجاتا ہے۔ پھر جلاؤ گھیراؤ، ہڑتالیں، دھرنے، مار کٹائی اور رستے بلاک ہو جاتے ہیں۔کچھ خلقِ خدا ایک طرف ہوتی ہے، تو کچھ دوسری جانب ہو جاتی ہے۔سڑکوں پر جلوس نکل آتے ہیں، روڈ رستے تمام کے تمام بند کر دیے جاتے ہیں۔اسپتال جانے والے مریض سڑکوں پر ایڑیاں رگڑتے نظر آتے ہیں۔مستقبل کے معماروں کو مکتب تک نہیں پہنچنے دیا جاتا، کتنے دیہاڑی دار مزدور، روز کمانے روز کھانے والے فاقوں پر مجبور ہو بیٹھتے ہیں، جانے کتنے بر وقت جائے ملازمت پر نہ پہنچ پانے کی پاداش میں نوکری سے فراغت کا صدمہ لے بیٹھتے ہیں۔اس سرگرمی سے عوام کے حقوق سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں مگر عوام ہی اس میں آلہ کار بنتے ہیں۔ کبھی ریاست کو درپیش نادیدہ خطرات سے بچانے کے لیے لشکر بنتے ہیں، کنٹینر نکالے جاتے ہیں اور پھر ریاست کے تحفظ کا نام لے کر ریاست پر ہی یلغار کردی جاتی ہے۔ کسی اور کے بجائے اسی کی اینٹ سے اینٹ بجاکر رکھ دی جاتی ہے۔تو کبھی مذہب کے نام پر علم بغاوت بلند ہوتا اور مذہبی تعلیمات ہی اس کا پہلا نشانہ ہوتی ہیں۔

یہ پریکٹس دہائیوں سے جاری و ساری ہے اور کچھ خبر نہیں کہ مزید کب تک چلتی رہے گی۔سمجھ نہیں آتا آخر اس ملک پر ہی کیوں آسیب کا سایہ ہے؟آخر اس قوم سے کیا خطا سر زد ہوئی جس کا یہ صلہ ہے؟انتشار کا مقصد کبھی سمجھ نہیں آتا،کسی کو پتہ نہیں چلتا آخر احتجاجیوں کا مطالبہ کیا ہے؟کس طرح مطالبات پورے ہوں گے اور کیسے ہیجان ختم ہوگا؟جو باغی ہجوم کی قیادت کرتے ہیں اصل وجہ کبھی انہیں پتہ نہیں ہوتی، بس کولہو کے بیل کی مانند آگے لگے رہتے ہیں۔ بڑی حد تک قوم اس آزمائش کی آپ ذمہ دار ہے۔ وہ خود مختلف سیاسی گدھوں کو بت بنائے بیٹھی ہے۔ مختلف گروہوں میں منقسم ہے۔دیس کے ہر بچے کو علم ہے کہ اس کے تمام نام نہاد لیڈر گدھ ہیں جنہیں بھنبھوڑنے اور اپنی دکانداری چمکانے کے لیے ہر وقت لاشیں چاہیے ہوتی ہیں۔قوم اپنے ہاتھوں اپنے بچوں کی لاشیں انہیں فراہم کرتی ہے۔ پھر جن کی بدولت اپنے بچے قتل کروائے انہی کے ہاتھ پر بیعت کر کے انصاف لینے نکل پڑتے ہیں۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کا نام لے کر ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش کس طرح تیار ہوئی تھی؟ سب کو یاد ہوگا کہ ماڈل ٹاؤن میں ہائیکورٹ کے حکم پر تجاوزات اور غیر قانونی بیریئر ہٹانے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔ جسے ایک غیر ملکی شہری کی سازش نے خون کی ہولی میں بدل کر رکھ دیا۔جس کے بعد اس سانحے کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن بنا جس کی رپورٹ بھی اس عظیم انسانی سانحے کے نام پر مکروہ سیاست کرنے والوں کے مطالبے کے عین مطابق پبلش کی جا چکی۔ اس ملک کا ہر ذی شعور شخص اس رپورٹ کو پڑھ چکا، اور سب کو علم ہوچکا ہے کہ اس رپورٹ میں براہ راست کسی بھی شخص کو ملزم نہیں ٹھہرایا گیا۔ اس کے علاوہ اگر تعصب کی پٹی کو کچھ وقت کے لیے ہٹاکر سوچا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ اس ایشو کو بنیاد بناکر موقع بے موقع احتجاج کرنے والوں نے کسی عدالتی فورم پر اس کیس کے سلسلے میں کیا سرگرمی دکھائی۔میڈیا پر یا سڑکوں پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں، عدالت میں اس کے حق میں کیا دلائل پیش کئے۔

پھر انتخابی قوانین کی آڑ میں توہین رسالتؐ کے قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے الزام میں انتشار ہوا۔اس فعل میں پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتیں ماسوائے جمیعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی شریک رہیں۔لیکن بعد میں بھگتان صرف مسلم لیگ ن کو بھگتنا پڑا اور اس کے خلاف آج کے حکمرانوں نے اپنے مذموم سیاسی عقائد کے لیے مذہب کارڈ کا بہیمانہ استعمال کر کے مطلوب مقاصد کماحقہ حاصل کر لیے۔آج جب وہی بوئی فصل اپنے سامنے آ رہی ہے تو اسے تخریب کاری بتایا جا رہا ہے اور عوام سے اس سے دور رہنے کی اپیلیں ہو رہی ہیں۔کوئی بھول سکتا ہے کہ دو ہزار سترہ میں جب یہی تنظیم حکومت وقت کے خلاف راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے مقام فیض آباد پر دھرنا دیے بیٹھے تھی اس وقت آج کے وزیراعظم اور وزیرداخلہ کا کردار کیا تھا۔ملک میں اس وقت بھی مذکورہ تنظیم کی طرف سے توڑ پھوڑ اور جلائو گھیرائو جاری تھا اس وقت مگر عمران خان اور شیخ رشید حکومت وقت کی دشمنی میں کفن پہن کر دھرنے میں بیٹھے تھے۔عمران خان اور ان کی جماعت کے علم میں یقینا اس وقت بھی یہ بات ہو گی کہ جس ہستی کی ناموس کے تحفظ کے نام پر وہ یہ سب کر رہے ہیں ان کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ راستہ تنگ کرکے نماز بھی نہیں جائز ہو سکتی۔آج جن الزامات پر اس جماعت کو کالعدم قرار دیا گیا یہ تمام کام اس وقت بھی وہ کر رہی تھی اور آج کے وزیراعظم اور وزیر داخلہ اس میں پوری طرح معاون تھے۔مذکورہ تنظیم کو تشدد کی راہ پر ڈالنے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے میں اور بھی کس کس کی آشیرباد شامل تھی یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔مجھ ایسے حقیر اپنی ناتواں تحریروں کے ذریعے اسی لیے عرض کر رہے تھے ریاست کی جان بخشی فرقہ پرستی کی آگ سے بڑی مشکل ہوئی ہے،اسے ایک آتش فشاں سے نکال کر دوسرے میں نہ دھکیلا جائے۔کسی سیاسی عصبیت کا خاتمہ مقصود تھا تو اس کے ہزار رستے ہو سکتے تھے۔اتنی عقل نہیں تھی کسی میں کہ جس طرح آگ سے کھیلا جا رہا ہے،خاکم بدہن یہ آگ سب کچھ جلا کر بھسم کر سکتی ہے۔اس وقت یہ علم نہیں تھا کہ ایک بار یہ سلسلہ چل پڑا تو روکنا ممکن نہ ہو گا،ہر ہاتھ مخالف گریبان پر ہو گا اور کفر و شرک کے الزامات اور قتل کے فتوے عام ہوں گے۔لکھ رکھیں اب بھی حقیقتا روش نہ بدلی گئی تو وہ وقت دور نہیں جب اونچی مسندوں اور بلند فصیلوں میں بیٹھنے والے بھی اس آگ کی تپش سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔

ناموس رسالتؐ پر ہر مسلمان کی جان مال اور آبرو قربان ہے تاہم یہ بھی سوچنا چاہیے کہ فتنہ کہیں پر جنم لیتا ہے آگ اپنے آنگن میں کیوں لگائی جاتی ہے اور ہمیشہ ہم ایک دوسرے کو کیوں مارنے لگ جاتے ہیں؟کبھی ہم نے سوچا ہمارے علاوہ بھی اس زمین پر چھپن اسلامی ممالک ہیں،کیا وہاں کبھی ناموس رسالتؐ کے تحفظ کا نام لیکر راستے اور کاروبار بند ہوئے؟چلیں تصور کر لیتے ہیں ان کے دلوں میں عشق رسولؐ کی چنگاری اس لیول کی نہیں جتنی ہمارے دلوں میں ہے۔تاہم سوال پھر بھی ہے کہ کیا ہمارے اس عمل سے آج تک گستاخی کرنے والے فرد یا ریاست کا کچھ بگڑا؟یقینا نہیں لیکن نقصان ضرور ہمارا ہوا ہے۔احتجاج ضرور کرنا چاہیے اور احتجاج پر امن اور مہذبانہ بھی ہو سکتا ہے۔راستے کا پتھر ہٹانا جس ہستی کی تعلیمات میں شامل ہو،اس کی ناموس پاکؐ کے تحفظ کے نام پر راستوں کو بلاک کرنے ڈنڈوں کے ساتھ پر تشدد مارچ کرنے اور عوامی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا دفاع کیا جا سکتا ہے؟ایک دن کے احتجاج اور ہڑتال سے کتنے دیہاڑی داروں کے گھروں پر، جو بیچارے روز کماتے اور شام کو آٹا و راشن گھر لے کر جاتے ہیں، فاقوں کی نوبت آتی ہے۔دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں وہ ہستی جس کی دعا تھی آخرت میں اسے غریبوں کے ساتھ اٹھایا جائے اس کی امت کے غرباء جب بھوکے سوتے ہوں گے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہو گی؟دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ پاک ہمیں اس ہستیؐ، جس کی محبت کا ہم دم بھرتے ہیں، کی تعلیمات پر بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

Facebook Comments HS