ریاست کو تحریکِ لبیک سے جان چھڑوانا ہو گی


لمحے دنوں میں، دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینے میں کس طرح ڈھلتے ہیں، کچھ خبر نہیں ہوتی۔ کولہو کے بیل کی مانند صبح دفتر پہنچو اور شام ڈھلے راہ واپسی کی لو۔ بس یہی اپنی زندگی ٹھہری۔ اپنے مدار سے چاہ کر بھی نکل نہیں سکتے۔ ہر مہینے کے آخری ایک دو دن گھر بیتاتے ہیں کہ اماں اداس ہو جاتی ہے۔ اس کے چار بیٹے ہر وقت اس کے پاس ہوتے ہیں، اس کا دل مگر پانچویں بیٹے کے ساتھ اٹکا ہوتا ہے پڑاؤ جس نے لاہور میں ڈالا ہوا ہے۔

آج دفتر سے واپسی پر محو سفر گھر کو ہونا تھا، مگر نہیں ہو سکتا کہ راستے پر کچھ شرپسند کانٹوں کی طرح نمودار ہیں۔ یہ کانٹے اس قدر زہریلے ہیں کہ سبھی مسافر شکار اس کا ہو رہے ہیں، اور تریاق جن کے زہر کا کچھ بھی نہیں۔ ایسی اندھیر نگری ہے کہ ایک بچے کو اپنا باپ تابوت میں دیکھنا پڑتا ہے۔ لوگ اتنے سنگ دل ہیں کہ کسی کی آنکھ سے لہو نہیں ٹپکتا۔

وہ بچہ، عمر جس کی بمشکل سات آٹھ برس ہو گی، جن نظروں سے اپنے باپ کو دیکھ رہا ہے، جھنجھوڑ دینے، ہلا دینے، تڑپا دینے، اور کپکپا دینے کو کافی ہے۔ یہ تصویر اگر پتھر بھی دیکھ لیتے تو پھوٹ پڑتے مگر عجیب ہیں میرے ملک کے لوگ کہ جن کے دل پتھروں سے بھی سخت ہیں۔ پھر اس کے بعد تمھارے دل پتھر جیسے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہو گئے، بعض پتھروں سے نہریں بہہ نکلتی ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکل آتا ہے (البقرہ) ۔ ایک طرف حکومت لاٹھی مہنگائی کی عوام پر برسا رہی ہے تو دوسری جانب مشکلات و مصائب کے کوڑے لبیک والے عوام کی پیٹھوں پر برسا رہے ہیں۔

مولانا وحیدالدین خاں صاحب کہا کرتے تھے کہ مسلمان واعظین میں کوئی بھی تعمیری سوچ کا حامل نہیں ہے۔ جس کو دیکھو کفار کو فتح کرنے کے لیے صبح شام کروٹیں بدلتا ہے۔ کل ٹویٹر نامی سوشل ایپ پر کہا تھا کہ انگریزوں کے ملک میں وہیل چیئر پر بیٹھنے والے ایجادات کرتے تھے اور ہمارے ملک میں وہیل چیئر پر بیٹھنے والے فسادات کرتے تھے (اب آپ ہاکنگ اور رضوی صاحب کا موازنہ شروع نہ کر دیجیئے گا) ۔ فسادات کی آگ ایسے بھڑکی ہوئی ہے کہ بجھنے کا امکان جس کے نہیں۔ یہ ایسی چنگاری ہے جو سلگتی ہی رہے گی اور دھواں جس کا آنکھوں سے بینائی چھین لے گا۔ کبھی سنتے تھے کہ جسم کا کوئی حصہ اگر زہر آلود ہو جائے تو اس کو فوراً کاٹ دینا چاہیے، وگرنہ زہر سارے جسم کو مفلوج کر دیتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کی مثال آپ کے سامنے ہے۔

ان کے متعلق بھی یہی کہا جاتا تھا کہ یہ اپنے لوگ ہیں۔ وہ تو جب اپنے لوگوں نے اپنے ہی لوگوں کو ذبح کرنا شروع کیا تو پنڈی بوائز کو محسوس ہوا کہ اپنے لوگ اپنے نہیں۔ وہ آپریشن جو پانچ سال پہلے شروع ہو جانا چاہیے تھا وہ نہ ہو سکا۔ نتیجہ پھر یہ ہوا کہ ریاست کا ایک حصہ عملاً یرغمال ہو گیا۔ اس یرغمالی کی ریاست نے بہت بڑی قیمت چکائی۔ لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور اس جیسی دسیوں تنظیمیں تھیں جنہوں نے ریاست کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔ ریاست نے پہلے تو پس و پیش سے کام لیا کہ پیار سے سمجھ جائیں گے، مگر ہمارا خمیر پیار کی زبان سے نا آشنا ہے۔ دیر آید درست آید۔ آپریشن شروع ہوئے اور امن بحال ہونا شروع ہو گیا۔ ریاست کو اب واضح موقف اپنانا ہو گا کہ ان جیسے پریشر گروپس سے ہر صورت جان چھڑوانی ہے۔

یہ جتھا کلچر اس قدر تباہی لایا ہے کہ ازالہ جس کا ممکن نہیں۔ جنہوں نے طبیب بننے کی کوشش کی وہ مطعون ٹھہرائے گئے۔ شوکت صدیقی اور فائز عیسی کی مثال زیادہ پرانی تو نہیں۔ ہم یہ بات کیسے مان لیں کہ چند ہزار لوگ بائیس کروڑ کے ملک کو یرغمال بنا رہے ہیں۔ دیدہ دلیری اس قدر ہے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگائی جا رہی ہے اور پولیس والے ایسے یرغمال بنے ہوئے ہیں جیسے کبھی داعش اپنے قیدیوں کو بٹھاتی تھی۔ کوئی مانے نہ مانے مگر شبیر تو مانے گا کہ اس فساد کی گاڑی کو نامعلوم ہاتھ دھکا لگا رہے ہیں۔ نامعلوم ہاتھوں پر زیادہ گفتگو پریشانی کا باعث بن سکتی ہے اس لیے اس بات کو یہیں لپیٹتے ہیں۔

دائیں بازو والے لکھتے ہیں کہ بائیں بازو والوں کی شدید خواہش ہے کہ لبیک کے خلاف آپریشن اور خون خرابہ اچھا خاصہ ہو۔ اب بندہ پوچھے بائیں بازو والے کون سا لبیک کے خلاف الیکشن لڑتے ہیں جو ان کے خلاف آپریشن کی خواہش کریں گے۔ پہلے آپ ان کی دلیل تو دیکھ لیجیے۔ دلیل یہی ہے کہ گروپس کو کسی صورت ریاست کو چیلنج نہیں کرنا چاہیے۔ اگر چیلنج کریں گے تو پھر ریاست ایکشن تو لے گی۔ آپ یہ تو دہائی دیتے ہیں کہ ریاست پر امن رہے مگر جو احتجاج کر رہے ہیں بارے ان کے آپ کا کیا خیال ہے؟

Facebook Comments HS