غلط فہمی


انسان کو ایک بہت بڑی غلط فہمی ہوتی ہے کہ وہ آزاد ہے اور اپنے فیصلے خود کر رہا ہے۔ اکثر لوگ تو اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں اور باقی اس کو امر ربی مان کر قبول کر لیتے ہیں۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے کی تعمیر اور ساخت اس طرح سے ہے کہ آپ کے پاس کوئی آزادی نہیں بلکہ آپ ایسے غلام ہیں جو بغیر زنجیر کے بھی کہیں بھاگ نہیں سکتا۔ آپ کسی فرد کا بھی معاشرے میں بغور جائزہ لیں تو ساری کہانی کھل کر واضح ہو جائے گی۔

آپ کی پیدائش کس خاندان میں کس وطن میں کس قوم میں کس مذہب میں، کس برداری میں کس زبان میں ہونی ہے۔ اس کا علم کم از کم پیدائش سے پہلے تک معلوم نہیں ہوتا۔ پیدائش کے بعد ، یہ راز کھلتا ہے اور آپ بے وجہ ان پر فخر کرنے لگتے ہیں۔ میں فلاح ہوں، میں فلاح ہوں۔ بندہ پوچھے اس کے ہونے میں تمہارا کیا عمل دخل ہے۔ لیکن فخر ہے؟ اس کے بعد آپ کا تعلیمی سلسلہ شروع ہوتا ہے اگر آپ کی تعلیم کا خرچ آپ کے والد کی جیب اٹھا سکے تو۔

لیکن آپ خواہ مخواہ اپنے جدید ترین انگلش میڈیم سکول پر فخر کرتے ہیں اور ہمارا معاشرہ بھی صرف اس شخص کو پڑھا لکھا مانتا ہے جو اچھی انگلش بول سکے اور آپ بھی اس مفروضہ کے قائل ہیں کیونکہ آپ انگلش بول سکتے ہیں۔ کیونکہ ابا جی آپ کا خرچہ برداشت کر رہے ہیں تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں اس طرح تمام بچوں کی تعلیم ابا جی پر ہی منحصر ہے۔ اس میں آپ کو آزادی نہیں بلکہ بالکل نہیں۔ آپ سوچتے ہوں گے لکھاری صاحب پاگل ہو چکے ہیں جو یہ لکھ رہے ہیں۔

بچے اپنے فیصلے خود کیسے کر سکتے ہیں۔ آپ نے بالکل درست سوچا ہے اور میرے دلائل کے حق میں بات کی ہے۔ بچہ بڑا ہوتا ہے۔ تو اس کے پاس میٹرک میں سائنس اور آرٹس لینے کی آزادی ہوتی ہے۔ مگر سارے بچے سائنس لیتے ہیں کیونکہ والدین کا خیال ہے آرٹس پڑھنا وقت کا ضیاع ہے۔ آپ کی یہ آزادی بھی معاشرے کے غلط العام خیال کی نظر ہو جاتا ہے اور آپ رٹو طوطے کی طرح فزکس، کیمسٹری، بیالوجی کو رٹا مارنے میں گزار دیتے ہیں۔ اس طرح آپ کے ساتھ انٹر میں ہوتا ہے۔ انٹر میں کمزور بچہ آرٹس میں جاتا ہے جس کا کچھ نہیں ہونے والا، لائق بچہ سائنس اختیار کرتا ہے۔ ریاضی یا بیالوجی کے ساتھ ابھی تک ہمارے والدین دو شعبوں کے علاوہ کسی دوسرے شعبہ کو قابل ملازمت نہیں سمجھتی، ڈاکٹری یا انجنیئرنگ۔

دنیا میں اور بھی غم ہیں تمہارے سوا

لیکن جب انسان ان دونوں میں بھی ناکام ہوتا ہے دھکے کھاتا ہوا اور معاشرے کی آواز میں گرتا، گھومتا ہوا۔ آخر کار اپنے باپ کی دکان میں جا بیٹھتا ہے اور اس کو لگتا ہے۔ وہ اپنے فیصلے خود کر رہا ہے۔ ابھی تک اس کی غلط فہمی دور نہیں ہوتی شادی کا وقت آ جاتا ہے۔ شادی کے وقت اس کو دو آپشن دیے جاتے ہیں۔ پھوپھو کی بیٹی یا خالہ کی بیٹی، وہ ایک کا انتخاب کرتا ہے اور اپنی غلط فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ شادی اس کی اپنی مرضی سے ہو رہی ہے۔ واللہ ابھی بھی غلط فہمی دور نہیں ہوتی اسی غلط فہمی میں وہ اپنی ساری زندگی گزار کر اپنی وراثت میں یہی غلط فہمی اگلی نسل کو دیتا ہوا دنیا سے کوچ کر جاتا ہے۔

نوٹ

ہر معاشرہ اپنے فرد کو چند آزادیاں دیتا ہے لیکن پھر اپنی اقدار کے ذریعے ان میں بھی چند کو دوسروں پر فوقیت دیتا ہے۔ اس لیے جو آزادی نظر بھی آ رہی ہوتی ہے دراصل نہیں ہوتی

Facebook Comments HS