بکھرے ہوئے لفظوں کی نامکمل کہانی

سنا ہے کہ قصے اور کہانیوں نے ظالم بادشاہوں کے دور میں رواج پایا اور ترقی کی کہ جب براہ راست بات نہ سمجھ آئے اور نہ کوئی اسے سمجھنے کی کوشش کرے تو اشاروں کنایوں میں باتیں کی جاتی ہیں اور کہانی سے اچھے اشارے کا طریقہ اور کیا ہو گا۔ ساری کہانیاں بھی اک طرز کی نہیں ہوتی کہ جن میں کچھ واضح کردار ہوں اور ان سے وابستہ کچھ باتیں۔ مگر کچھ کہانیاں پکاسو کی تصویروں کی مانند بھی ہیں کہ جو اک وسیع کینوس میں باتیں کرتی ہیں اور ان کا سب سے بڑا کردار معاشرہ اور حالات ہوتے ہیں۔
سننے اور کہنے والوں سے کیا توقع کی جائے جب کہ موضوعات کے انتخاب سے عمل کی ادائیگی تک معیار اک اجنبی شے کے طور پر نظر آتا ہے اور شاید نظر آنا بھی اک گم شدہ سی بات ہو چکی ہے۔
اتنے ٹکڑوں اور حصوں میں بٹ جانے کے بعد شاید اپنی تہذیب اور ثقافت کی بہت سی حسین روایات، حکایات اور معاملات اک دور دیس کی کہانیاں بنتے جا رہے ہیں۔
چلیے بات شروع کرنے کے لیے کوئی اک موضوع درکار ہے تو ہم بات کرتے ہیں اپنے کھانوں کی۔ وہ اپنے کھانے جو دنیا کے کسی بھی دیس میں نہیں ملتے اور جن کی یاد پردیس میں رہنے والے ہر اک دل میں جاگزیں رہتی ہے۔ اب تجارتی راستوں اور ترسیلات کی مستعدی، دستیابی اور دنیا کو گھیرے میں لیے اک ان دیکھے انٹرنیٹ کے جالے کی وجہ سے اک تو کہیں بھی کوئی بھی چیز منگانا کار آسان ہو چکا ہے مگر ٹیکنالوجی کی ترقی نے بہت سی مشینوں اور اوزاروں کی دستیابی سے بہت سی چیزوں کو وہیں کرلینا بہت آسان کر دیا ہے۔
مگر ماحول، انداز اور بہت سے اور درکار لوازمات پھر بھی میسر کیسے ہوں کہ کچھ بوٹے اپنی ہی سرزمین میں پھلتے پھولتے ہیں اور جینیٹک سائنس کی ترقی اور کمال سے اگر اجنبی سرزمینوں میں بارآور بھی ہوں جائیں تو کچھ نہ کچھ رہ ہی جاتا ہے۔
بات چاہے کھانوں کی ہو یا نظام کی، یہ بات تو شاید ہر اک سمجھے گا یا سمجھنے کی کوشش کرے گا کہ باہر سے درآمد شدہ ہر چیز نہ تو اچھی ہوتی ہے اور نہ پائیدار۔ آم کی سرزمین پر چیری کے باغ لگانا ویسے تو اک کار بیکار کہا جاسکتا ہے مگر اگر جینیٹک سائنس، مکینیکل، الیکٹریکل، الیکٹرانکس اور ماحولیات کی سائنس کی پوری تحقیقات سے استفادہ بھی کر لیا جائے اور وسائل کی دستیابی بھی کوئی مشکل مرحلہ نہ ہو تب بھی پیداوار کے مرحلے مشکل، نازک اور ذائقہ کے بہت سے سلسلوں کو پورا نہیں کر پائیں گے۔
اس کلیے کو آپ زندگی، معاشرے، سیاست، معیشت اور نظام کے بہت سے تجربوں اور ان کے نتائج کے ضمن میں عمل پذیر ہوتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ اور کہیں کیا جائیے آج کل مہنگائی، بہت سے شعبوں میں تیزی سے گرتے ہوئے معیار، انتظامی معاملات سنبھالنے میں ناکامی کے بہت سے نتائج ان کے مؤجدین کے سامنے اک روشن سوال بن کر کھڑے ہوئے ہیں۔
کوئی بھی معاشرہ اپنی جڑوں سے علیحدہ ہو کر کیسے ترقی کرسکے گا اور کون سا معاشرہ صرف چند اک کی درآمد شدہ سوچ اور سطحی طرز فکر کی بنا پر اپنا وجود قائم رکھ پائے گا۔ بات کرنا آسان اور عمل پیرا ہونا مشکل تو ہم اپنے ہی ملک کی آج کل کی صورتحال کو دیکھیں تو بہت سے عقدے کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔
بات کھانوں سے شروع ہوئی تو اب کھانے کے لیے بہت سے لوازمات درکار ہیں جس میں اناج، گوشت، مصالحے، سبزیاں، پھل، تیل اور کچھ اور اشیا بھی درکار ہوتی ہیں اور سب سے اہم بات ہے کہ کیا معیاری اشیا ارزاں داموں پر باآسانی دستیاب ہیں کہ نہیں۔
سنا ہے کہ افریقہ کے بہت سے غریب ممالک میں ہو سکتا ہے کہ نہ ملے مگر ملاوٹ شدہ کچھ نہیں ملے گا کہ ملاوٹ وہ بھی غذائی اشیا میں ان کے لیے شاید ایسی بات ہو کہ جس کے بارے میں وہ جانتے بھی نہیں۔ اب اپنے گریبان میں جھانکتا ہوں تو شرمندہ ہی ہوتا رہتا ہوں۔
ریاست اور حکومت اک عرصے سے اپنی ترجیحات کو مختلف معاملات میں مرکوز کیے ہوئے ہیں جب کہ شاید اک عام آدمی کی زندگی سب سے زیادہ ترجیح کا موضوع ہے اور اس سلسلے میں کوئی دو رائے نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی بھی معاشرے میں اک عام آدمی سکون چین کی زندگی بسر کر رہا ہے تو پھر وہی معاشرہ دوسرے شعبوں میں ترقی پر جانے کے لیے اک موزوں معاشرہ ہو سکتا ہے۔
معیار اک ایسا پیمانہ ہے جس پر آپ زندگی کے مختلف معاملات اور شعبہ جات کی کارکردگی کا موازنہ کر سکتے ہیں اور شاید ہمارے آج کے معاشرے کا اک المیہ معیار کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ہم کسی کو بھی کسی عہدے یا ذمہ داری کے لیے چن لیتے ہیں یہ سوچے اور دیکھے بغیر کہ کیا وہ شخص اس سلسلے میں کچھ جانتا ہے یا کچھ کر سکنے کے قابل ہے۔ اور اگر فیصلے کرنے والے خود بھی معیار کی کسی تعریف سے ناآشنا اور ناواقف ہوں تو پھر موجودہ حالات کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
اب یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ سارے الفاظ، انداز، اسلوب بس شکایت پر ہی مبنی ہیں تو جناب شکایت کون سا ممنوع علاقہ ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کچھ درست نہ ہو گا تو پھر شکایت ہی ہوگی اور اگر شکایت بے جا یا بے بنیاد ہے تو پریشان نہ ہوئیے اور اگر شکایت درست ہے تو آپ کی پریشانی شکایت کے لیے نہیں بلکہ شکایت کے اسباب اور اس کے ازالے کے لیے واجب ہے۔
سنا ہے کہ اونچے مقامات پر قلعے میں بیٹھے ہوئے لوگوں تک نیچے والوں کے شور کی آواز اک تو پہنچتی نہیں اور اگر کچھ حصہ پہنچے تو شاید اک سرگوشی کی طرح، تو پھر مداوا کیسے ہو۔
گھوم پھر کر بات پھر معیار کے پیرائے میں آجاتی ہے کہ اب کیا وقت آ گیا ہے کہ دوسرے ملک آج کی ترقی کا اپنے پچھلے وقتوں سے موازنہ کرتے ہیں اور ہم ہیں کہ اپنے ماضی کو جب حال سے مربوط کرتے ہیں تو افسوس ہونے لگتا ہے کہ حال کا حال تو بہت ٹوٹا پھوٹا سا ہے۔ کہ بچپن کی گلیاں جو کم از کم صاف تھیں اب ٹوٹی پھوٹی اور گٹر کے پانی سے بھری نظر آتی ہیں۔ بچپن میں جو میدان اور پارک نظر آ جاتے تھے اب وہ یا تو عمارات میں بدل گئے ہیں یا اک کچرے کے ڈھیر میں بدل گئے ہیں۔
چھوٹی چھوٹی سی یادیں اب اک خوش نما خواب کی طرح ہیں کہ حال میں بہت سے خواب ٹوٹ کر بکھر چکے ہیں اور معیار کا کیا ہے کہ سفر معکوس کی رفتار تو تیز سی ہو چلی ہے۔ لیکن اگر شاید لوگوں کو کچھ آزادی، شعور اور ذمہ داری کے مواقع ملیں تو بدلاؤ کے امکان کبھی ختم نہیں ہوتے۔
سنا ہے کہ قصے اور کہانیوں نے ظالم بادشاہوں کے دور میں رواج پایا اور ترقی کی کہ جب براہ راست بات نہ سمجھ آئے اور نہ کوئی اسے سمجھنے کی کوشش کرے تو اشاروں کنایوں میں باتیں کی جاتی ہیں اور کہانی سے اچھے اشارے کا طریقہ اور کیا ہو گا۔ ساری کہانیاں بھی اک طرز کی نہیں ہوتی کہ جن میں کچھ واضح کردار ہوں اور ان سے وابستہ کچھ باتیں۔ مگر کچھ کہانیاں پکاسو کی تصویروں کی مانند بھی ہیں کہ جو اک وسیع کینوس میں باتیں کرتی ہیں اور ان کا سب سے بڑا کردار معاشرہ اور حالات ہوتے ہیں۔
آج پھر ایسی کہانیاں لکھی جانے لگی ہیں اور ان کو سمجھا جائے یا نہیں، یہ تو پڑھنے والوں کا شعبہ ہے کہ لکھنے والے اپنا کام کر کے اب انتظار کے اسٹیشن پر چائے پی رہے ہیں۔

