کرکٹ میچ میں ہار اور مسلمانوں کے خلاف غیر جمہوری ردعمل


مدت دراز کے بعد ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے خلاف ہندوستانی ٹیم کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ورلڈ کپ کے میچوں میں ہندوستانی ٹیم پاکستان کے لیے ناقابل تسخیر رہی ہے۔ لیکن اس بار ان کی جہد مسلسل رنگ لائی اور پاکستانی کھلاڑیوں نے ہندوستانی ٹیم کے خلاف فتح حاصل کی۔ ہار اور جیت کسی بھی کھیل کا جزو لاینفک ہے۔ کھیل میں کبھی بھی دونوں ٹیمیں فتح یاب نہیں ہوتیں۔ ایک زمانے تک ورلڈ کپ میں ہندوستان نے پاکستانی ٹیم کو شکست دے کر تاریخ رقم کی ہے۔

لیکن اس بار ایسا کیا ہوا کہ ہندوستانی ٹیم کی شکست کے بعد شدت پسند عناصر بوکھلاہٹ کا شکار نظر آرہے ہیں۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی اجتماعی شکست کا ٹھیکرا ایک کھلاڑی ’محمد شامی‘ کے سر پھوڑا جا رہا ہے۔ جبکہ محمد شامی کے علاوہ ٹیم کے دیگر بالروں کی کارکردگی بھی اس میچ میں ناقابل ذکر رہی ہے۔ مگر شرپسندوں کی تنقید کا نشانہ صرف اور صرف محمد شامی پر ہے۔ کھلاڑیوں پر تنقید کرنا کھیل شائقین کا بنیادی حق ہے لیکن جب تنقید نفرت اور مذہبی عناد میں بدل جائے تو یہ ذہنی دیوالیہ پن کی علامت بن جاتی ہے۔

محمد شامی پر تنقید کرنے والوں کی اکثریت ذہنی دیوالیہ پن کا ہی شکار ہے۔ وہ اس میچ میں محمد شامی کی ناقص کارکردگی کو بہانہ بنا کر ہندوستان کے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر اگل رہے ہیں۔ اسے ’غدار‘ اور ’وطن دشمن‘ کہا جا رہا ہے۔ پاکستان جانے کے طعنے دیے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے ان نفرت آمیز بیانات کی نوعیت نئی نہیں ہے۔ زعفرانی و یرقانی تنظیموں نے ایک زمانے سے مسلمانوں کے خلاف اس طرح کی ماحول سازی کی ہے، جس کا ثمرہ اس شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ یہ طرز عمل ہندوستانی جمہوری نظام کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ مگر جمہوریت ہے کہاں؟ مودی جی نے جمہوری نظام کو ناگپور کے ’کیسریا ہیڈ کواٹر‘ میں قید کر دیا ہے، جس کی رہائی کے آثار نظر نہیں آتے۔

پاکستان کے خلاف اس میچ میں ہندوستانی ٹیم نے اجتماعی طور پر ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ہندوستان کے اسٹار بلے باز روہت شرما صفر پر آؤٹ ہو گئے۔ کے۔ ایل۔ راہل جو روہت شرما کے ساتھ پاری کا آغاز کرنے کے لیے میدان پر اترے تھے، صرف تین رن ہی اسکور کرسکے۔ دیگر کھلاڑیوں نے بھی ناقص بلے بازی کا مظاہر کیا۔ فقط وراٹ کوہلی نے پاکستانی گیند بازی کے سامنے مزاحمت کرتے ہوئے 57 رنوں کی اچھی پاری کھیل کر ٹیم کو 151 کے اسکور تک پہنچنے میں مدد کی۔

اس کے بعد پاکستانی ٹیم بلے بازی کے لیے میدان پر اتری۔ تجزیہ نگاروں کا دعویٰ تھا کہ ہندوستانی ٹیم کی بلے بازی پاکستانی ٹیم کے بالمقابل زیادہ مضبوط ہے۔ لیکن معاملہ بالکل برعکس رہا۔ ہندوستانی باؤلروں نے ناقص باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور پاکستان بنا کسی بلے باز کے آؤٹ ہوئے میچ جیت گیا۔ محمد رضوان اور بابر اعظم نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 79 اور 68 رنز اسکور کیے۔ ہندوستان کی طرف سے باؤلنگ کرتے ہوئے بھونیشور کمار نے تین اوروں میں 25 رنز دیے۔

محمد شامی نے 3.5 اوروں کی گیند بازی میں 43 رنز خرچ کیے۔ جسپریت بمراہ نے تین اوروں میں 22 رنز دیے۔ ورون چکرورتی نے چار اوروں میں 33 رنز اور رویندر جڈیجہ نے چار اوروں میں 28 رنز دیے۔ یعنی تنہا محمد شامی ایسے بالر ہیں جنہوں نے چار اوروں میں سب سے زیادہ رنز دیے۔ لیکن یہ تو ہر میچ میں ہوتا ہے کہ کوئی بالر بہت زیادہ کامیابی حاصل کرتا ہے اور کسی بالر کو ایک وکٹ بھی ہاتھ نہیں آتی۔ محمد شامی نے اس میچ سے پہلے ہندوستان کے لیے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس کا باؤلنگ ریکارڈ شاندار ہے، جس پر کرکٹ کے ماہرین نے اس کی تعریف کی ہے۔ اس کے باوجود ہندوستانی ٹیم کی اجتماعی ناقص کارکردگی کا ٹھیکرا اکیلے محمد شامی کے سر پھوڑنا اس نفرت آمیز سیاست کا ثمرہ ہے جو گزشتہ چھ سات سالوں میں عالم وجود میں آئی ہے۔ محمد شامی ہندوستانی ٹیم میں تنہا مسلمان کھلاڑی ہیں، اس لیے نفرت کے پجاریوں کو ہندوستانی ٹیم کی شرمناک شکست پر غصہ نکالنے کے لیے آسان ہدف محمد شامی نظر آئے۔ جبکہ پورے میچ میں وراٹ کوہلی کی کپتانی زیر سوال رہی۔

یوں بھی وراٹ کوہلی کپتانی کے لیے اہل کھلاڑی نہیں ہیں۔ پاکستان کے خلاف میچ میں ہاردک پانڈیا، بھونیشور کمار اور ورون چکرورتی کو ٹیم میں شامل کرنا درست فیصلہ نہیں تھا۔ خاص طور پر ہاردک پانڈیا جو گزشتہ میچوں میں ناکامیابی کا شکار رہے ہیں، انہیں ایسے اہم میچ کے لیے ٹیم میں شامل کرنا غیر عاقلانہ فیصلہ تھا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ نفرت کے سوداگروں کو اس بار پاکستانی ٹیم کو نیچا دکھانے اور ان کے تمسخر کا موقع ہاتھ نہیں آیا۔ اگر پاکستانی ٹیم شکست سے دوچار ہوجاتی تو ہمارے بعض بیکار بیٹھے ہوئے کھلاڑی، کچھ بکواس بازی کرنے والے ٹی وی اینکرز اور بعض ناکام سیاست مداروں کو ’دیش بھکتی‘ دکھانے کا موقع مل جاتا۔ میچ سے پہلے بڑے بڑے دعویٰ کرنے والے لوگ میچ کے بعد غائب ہو گئے۔ کسی نے وراٹ کوہلی کی ناقص کپتانی کو مورد تنقید قرار نہیں دیا کیونکہ پاکستان کے خلاف میچ میں ہندوستانی ٹیم کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

جبکہ پاکستانی کھلاڑی ہندوستانی ٹیم کے خلاف پوری تیاری اور ہوم ورک کے بعد میدان پر اترے تھے۔ مگر وراٹ کوہلی کی بلے بازی نے اس کی ناقص کپتانی پالیسیوں پر پردہ ڈال رکھا ہے۔ جبکہ ایک عرصے سے اس کی بلے بازی میں بھی وہ کرشمہ نظر نہیں آ رہا ہے جو اس کی شناخت کا ذریعہ تھا۔ مگر ہماری کرکٹ ٹیم جو ہمیشہ سیاست کا اکھاڑہ رہی ہے اس بار بھی کوہلی کی ناقص کارکردگی کی پردہ پوشی میں مصروف ہے۔ جس طرح ایک زمانے تک مہندر سنگھ دھونی کو بطور بلے باز ڈھویا گیا جبکہ مہندر سنگھ دھونی کو کئی سالوں پہلے ریٹائر کر دینا چاہیے تھا۔

یہی صورتحال سچن تندولکر کے ساتھ دیکھی گئی۔ بطور بلے باز ان کی مسلسل ناکامیوں کو نظر انداز کیا گیا اور ایک مدت تک ’کرکٹ کے بھگوان‘ کو ٹیم پر بوجھ کی طرح لادے رکھا گیا۔ اس کے برعکس بعض اچھے کھلاڑیوں کو وقت سے پہلے ٹیم سے باہر کر دیا گیا کیونکہ ان کی سیاست ٹیم منیجمنٹ کے مزاج کے موافق نہیں تھی۔ آج بھی ہندوستانی کرکٹ بورڈ سیاست کا اکھاڑہ ہے جہاں وزیر داخلہ امیت شاہ کا بیٹا جئے شاہ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ کا سیکرٹری ہے۔ جبکہ بی جے پی کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہا ہے کہ ہمارے یہاں کنبہ پروری نہیں ہے۔ جئے شاہ جس کے پاس کرکٹ کے بارے میں کوئی تجربہ نہیں ہے، اسے ہندوستانی کرکٹ بورڈ میں بطور سیکرٹری نامزد کرنا کنبہ پروری کی سیاست کا ہی شاخسانہ ہے۔

قابل غور یہ ہے کہ ہندوستان میں روز بہ روز اقلیتی طبقے کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ محمد شامی تو ایک اچھا کھلاڑی ہے جو اگلے کچھ میچوں میں اپنی کارکردگی کے ذریعہ ایک بار پھر ناقدین کو منہ توڑ جواب دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔ لیکن آسام، تری پورہ اور اترپردیش میں مسلمان نفرت آمیز سیاست کے مقابلے میں کس طرح اپنا دفاع کریں، یہ اہم سوال ہے۔ کیونکہ ہماری پولیس، حفاظتی دستے اور قانونی ایجنسیاں بھی ’کیسریا سیاست‘ کی شکار ہو چکی ہیں۔

آسام میں جس طرح ایک غریب مسلمان شخص کو پولیس نے گولی ماری اور اس کی لاش کے ساتھ پولیس کی موجودگی میں فوٹو جرنلسٹ نے جس طرح انسانیت سوز سلوک کیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کی فضا میں کتنا نفرت کا زہر گھول دیا گیا ہے۔ تری پورہ میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر شرپسند مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں شرپسندوں کے ذریعہ ہندو مندروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، اس کا انتقام تری پورہ کے مسلمانوں سے لیا جا رہا ہے۔

الگ الگ علاقوں میں شرپسندوں کی ٹولیاں اقلیتوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ کبھی گائے کشی کے نام پر تو کبھی لو جہاد اور تبدیلیٔ مذہب کے بہانے انہیں ہدف قرار دیا جاتا ہے ۔ مسلمان سرکاری ملازمت میں داڑھی نہیں رکھ سکتا اور اس کے پہناوے کی بنیاد پر اس کا تمسخر کیا جاتا ہے ۔ الگ الگ چینلوں پر اسلامی تعلیمات اور فلسفے سے جاہل افراد قرآن اور سیرت پیغمبر ﷺ پر انگشت نمائی کرتے ہیں۔ جب کہ ان کی اکثریت قرآنی آیات، اس کی تفسیر اور سیرت پیغمبر سے ناواقف ہوتی ہے۔

مسلمانوں سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ قرآن مجید کے بجائے ’آر ایس ایس‘ کے تحریف کردہ قرآن ’پر ایمان لے آئیں۔ مسجدوں اور مدرسوں کو دہشت گردی کا اڈہ کہا جاتا ہے اور مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی مانگ کی جا رہی ہے۔ مسلمان محلوں میں ہراساں کرنے کے لیے جگہ جگہ پولیس چوکیاں قائم کی جا رہی ہیں اور گلی کوچوں میں فورس تعینات رکھی جاتی ہے۔ بر سر اقتدار جماعت کو یاد رکھنا چاہیے کہ حکومت کی زمام ہمیشہ کسی ایک کے ہاتھوں میں نہیں رہتی۔

وقت بدلتا ہے۔ حالات پلٹا کھاتے ہیں۔ حکومتیں گردش زمانہ کی نذر ہوجاتی ہیں۔ مستقبل میں سیاست کی زمام کس کے ہاتھوں میں ہو یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔ اقلیتی طبقے کو ہراساں کرنا اور ان کے جوانوں کو فرضی معاملات میں گرفتار کرنا بند کیا جائے۔ مسلمان اس ملک کے عزت دار شہری ہیں۔ اور یہ حق ان سے کوئی تنظیم اور حکومت نہیں چھین سکتی۔ ہاں کچھ وقت کے لیے انہیں کمزور اور خوف زدہ ضرور کیا جاسکتا ہے۔ اور بس!

Facebook Comments HS