بنیادِ معاشرہ، الہامی مذاہب یا انسانی مساعی

تاریخ کے پنوں کو، متفکر ذہن کی موجودگی میں مشاہدہ پرست آنکھوں کو ساتھی بنائے، اگر کھولا جائے تو یہ پوشیدہ راز عیاں ہوتا ہے کہ الہامی مذاہب ہی وہ مذاہب ہیں جو کسی بھی معاشرے کے عدم سے وجود میں آنے اور تہذیب کی پیدائش کا حقیقی باعث ہوتے ہیں۔ یہاں پر یہ سوال ہمارے سامنے دامن کھول کر جواب طلب ہے کہ موجودہ دنیا کے آثار کو دیکھا جائے تو ہمیں ایسے کئی معاشرے نظر آتے ہیں جن کے باشندے الہامی مذاہب کو پس پشت رکھے انسانی مذاہب پر کامل عقیدہ رکھتے ہیں اور دنیا کے مہذب معاشروں میں سرخیل کا درجہ اختیار کیے ہوئے باقی معاشروں کے حاکم کا کردار بھی ادا کرتے ہیں، تو یہ جو کہا گیا ہے کہ معاشرے کی بنیاد ہی الہامی مذاہب ہیں کہاں تک انصاف کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے؟
یہ نکتہ بالکل صحیح ہے کہ موجودہ دور ترقی میں ہمیں بعض ایسے معاشرے ملتے ہیں جن کے باشندے انسانی مذاہب کے پیروکار ہیں، اور ان معاشروں کا شمار دنیا کے مہذب معاشروں میں ہوتا۔ مگر تحقیق کی ضرورت بہرحال موجود ہے، اور اکثر تحقیق خیال کے متضاد ہی ہوا کرتی ہے۔ یہودیت کو تحقیق کے سانچے میں رکھ کر اگر بات کی جائے تو جب یہودیت الہامی مذہب کے روپ میں اس عالم خاکی میں ظاہر ہوا تو وہاں حکومت تھی فرعون کی۔ لوگ آباد تھے، حکومت کی شان و شوکت عروج پر تھی مگر معاشرہ موجود نہ تھا۔ معاشرہ وہ ہوتا ہے جس میں لوگ آزاد اور آزادی اظہار رائے کا حق رکھتے ہوں، تو کیا فرعون کے دور میں لوگ آزاد تھے؟
اسلام سے پہلے والی تاریخ کے پنوں کو اگر تحقیق کے آئینہ میں رکھا جائے تو قبل از اسلام قبیلے تھے، لوگ تھے، شان و شوکت جلوہ گر تھی، مگر معاشرہ موجود نہ تھا۔ معاشرہ وہ ہوتا ہے جس میں لوگ ایثار و قربانی کے جذبے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ کیا وہاں معاشرہ موجود تھا جہاں صرف پانی پینے کی وجہ سے بھی جنگ شروع ہو جایا کرتی تھی؟
سوال رہا ان معاشروں کا جو انسانی مذاہب کے دائرہ میں آتے ہیں، اگر کتابوں کی بستی میں کھو کر اس بات کا کھوج لگایا جائے کہ یہ معاشرے کیسے وجود میں آئے تو یہ راز افشاں ہوتا ہے کہ ان معاشروں کی بنیاد تھی تو الہامی مذاہب پر مگر جیسے جیسے لوگوں میں اختلافات پیدا ہوتے گئے، رسوم کو عروج حاصل ہوتا گیا، نئے مذاہب وجود میں آتے گئے، ان معاشروں میں بھی وہی ڈھنگ پیدا ہوتا گیا جس کا عام چال چلن تھا۔ اس وجہ سے ان کی موجودہ صورت اس قدر مسخ ہو چکی ہے کہ ہم اس قابل نہیں رہے کہ پہچان کر سکیں کہ ان معاشروں کی بنیاد کیا تھی یا کون سا مذہب۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ کوئی بھی انسانی مذہب اتنی قوت ہی نہیں رکھتا کہ ایک حقیقی معنوں میں معاشرہ وجود میں لا سکے۔

