خاموش! ریاست عالم مفاہمت میں ہے


پاکستان دنیا کی وہ واحد ریاست نما لیبارٹری ہے جہاں تجربات کا آغاز انسانوں پر کیا جاتا ہے۔ ان تجربات کے نتیجے میں سامنے آنے والے فائنل پراڈکٹ ایسی مہلک ہوتی ہے کہ جس کا توڑ بس اس پراڈکٹ کو تلف کرنے کی صورت میں ہی رہ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کیوں کہ گنگا الٹی بہتی ہے تو ہم ایسی پراڈکٹ کو نہ صرف کھلا چھوڑتے ہیں بلکہ اس کو اس وقت تک استعمال کرتے ہیں جب تک وہ ہمارے گریبان تک نہ پہنچ جائے۔ ہر نئے تجربے کا ایندھن عوام اور بدحال معیشت ہی بنتی ہے۔ دہشتگرد تنظیموں اور ہمارے سائنسدانوں میں ایک خصوصیت یہ مشترکہ ہے کہ جہاں وہ استعمال کنندہ کو جنت اور حوروں کے چکر میں بیوقوف بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ تو وہاں ہمارے سائنسدان بھی غداری اور مذہب کا استعمال کرتے ہیں۔

اب موجودہ تجربے اور اس پراڈکٹ کے نتائج ہی دیکھ لیں۔ ایک جماعت بنی، اس نے دھرنا دیا، اس کے قائد کی وفات ہوئی، ایک نسبتاً نوجوان قیادت آئی۔ آپ نے کیا کیا اس کو گرفتار کیا اور یوں نہ رکنے والے احتجاج اور پرتشدد واقعات کا آغاز ہوا۔ سینکڑوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے، درجن بھر شہید ہوئے۔ احتجاج کرنے والے بھی درجن بھی لقمہ اجل بنے۔ پوری دنیا میں بنانا ری پبلک کے نام سے مشہور ہوئے۔ پورا ملک ایک ہفتے سے زائد کے لئے مفلوج رہا۔ حکومت کے مطابق ہی اس دھرنے کا خمیازہ ایک ڈگمگاتی معیشت کو 35 بلین کے نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ بہرحال بیچ بچاؤ کے لئے آزمودہ کھلاڑی میدان میں آئے اور یوں چھ ماہ کے لئے معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔

چھ ماہ کے بعد پھل پھول جانے والے نوعمر جماعت نے اپنے بل بوتے پر دوبارہ سے چڑھائی کا اعادہ کیا۔ یہ گستاخی تجربہ کاروں کو ناگوار گزری اور پھر ریاست کو یہ یاد آیا کہ ریاست تو سب سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ یوں پنڈ کے اس چودھری کی طرح جس کے سامنے اس علاقے کے کمی ڈٹ جائیں تو چودھری پھر اکڑ میں آ کر کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہوجاتا ہے۔ یوں کچلنے کے کھیل میں نقصان ایک دفعہ پھر بیچارے کوتوال نے بھگتا۔ چار پولیس اہلکار شہید ہو گئے درجنوں ایک بار پھر زخمی ہو گئے۔

دھرنے کی صورت میں ملک ایک بار پھر آدھا مفلوج رہا، پلوں پر کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کردی گئیں، سڑکوں پر ٹریفک رواں ہونے کے بجائے، ٹریفک کو روکنے کے لئے سینکڑوں کنٹینرز کھڑے کر دیے گئے۔ جنگ کا طبل بجا دونوں طرف سے بھرپور تیاری سے چڑھائی ہونے ہی والی تھی کہ ایک بار پھر سے آزمودہ کھلاڑی بیچ میں آئے اور معاملہ یوں رفع دفع ہوا کہ غدار اور عسکریت پسند قرار دیے جانے والے اور چودھری صاحب شیرو شکر ہو گئے۔

اب ان دونوں کے بیچ میں پسنے والے افراد یعنی کہ ہم کیڑے مکوڑے وہ خاموش تماش بین ہیں کہ جو سوال اٹھائیں تو مار کھائیں، بیچ بچاؤ کرائیں تو رگڑے جائیں۔ اگر اس سے بھی بچ جائیں تو غدار اور توہین مذہب (خدانخواستہ ) کے مرتکب قرار پائیں گے۔ اب یہ نہیں سمجھ آتی کہ بیچارے کوتوال یعنی کہ پولیس اہلکاروں کا کیا قصور تھا کہ جو حکم بجا لائیں تو جان سے جائیں، نہ بجا لائیں تو ملازمت سے جائیں۔ چلو اتنا ہی کر دیں کہ ان کے اہلخانہ اور بچوں کی تسلی و تشفی کے لئے واضح کر دیں کہ یہ بیچاروں نے جو اپنی جان گنوائی وہ کس چکر میں گنوائی؟ کیا وہ کسی دہشت گرد کا نشانہ بنے؟ کیا وہ کسی ڈاکو یا راہزن کے ہتھے چڑھے؟ یا پھر کسی ایسے ہجوم کی نفرت کا شکار ہوئے کہ جو ریاست کے ناکام تجربے کی صورت میں تشکیل پایا؟

جواب سب کو معلوم ہے مگر مجھ سمیت کوئی بھی یہ جواب دینے، لکھنے یا ببانگ دہل بولنے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔ کیونکہ اس نیم اندھے ملک میں کوئی بھی اپنے اوپر مذکورہ بالا فتوی جات لگوا کر اپنی حیات تنگ نہیں کروانا چاہے گا۔ ویسے بھی چپ اور خاموشی ہی سب سے بہتر امر ہے کیونکہ جب ریاست ہی عالم مفاہمت میں ہے تو ہمیں کیا لگے۔

Facebook Comments HS