سرخ سمندر میں سبز جزیرے
مجھے علم و آگہی کی روشنیوں کے شہر لاہور کی وہ سندر سہ پہر ابھی تک یاد ہے جب دو درویش وجاہت مسعود اور خالد سہیل گرما گرم چائے اور سموسوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور غم جاناں اور غم دوراں کے رازوں کے بارے میں بے تکلفی سے تبادلہ خیال کر رہے تھے کہ درویشنی تنویر جہاں ’جو حقوق انسانی اور حقوق نسوانی کی بکھری ہوئی زلفوں کو نکھارتی اور سنوارتی رہتی ہیں‘ چپکے سے تشریف لائیں اور وجاہت سے کہنے لگیں کہ آپ ’ہم سب‘ کا ایک خصوصی گوشہ خالد سہیل کے لیے مختص کر دیں جہاں قارئین انہیں اپنے نفسیاتی مسائل بھیجا کریں اور وہ ان کے جواب دیا کریں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس خط و کتابت سے استفادہ کر سکیں۔
تنویر جہاں کے دانا مشورے کے بعد میں نے فلسفہ ’مذہب اور ادب کے ساتھ ساتھ نفسیاتی مسائل پر بھی کالم لکھنے شروع کر دیے اور اپنے قارئین کا گرین زون فلسفے سے تعارف کروایا۔
جب نفسیاتی مکالموں کا سلسلہ دراز ہو گیا تو میں نے اپنی رفقا کار ثمر اشتیاق اور زہرا نقوی کے تعاون سے گرین زون ورکشاپس کا انتظام و اہتمام کیا۔ پہلی سیریز میں بارہ لوگوں نے اور دوسری سیریز میں بیس لوگوں نے بڑے ذوق و شوق سے شرکت کی۔
اس دوران ہم نے فیس بک پر گرین زون کمیونٹی کو متعارف کروایا جس کے چند ماہ میں تیرہ سو ممبر بن چکے ہیں جو نفسیاتی مسائل پر کھل کر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔
یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہمیں بہت سے وولنٹیئرز نے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ ثمر اشتیاق نے میری گرین زون فلسفے کی جس کتاب کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا ہے اب اس کا اردو سے ہندی ’سندھی‘ براہوی اور پشتو میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
چند وولنٹیئر دوستوں نے اب یو ٹیوب پر گرین زون چینل بھی بنا دی ہے جس میں اب ہمارے سیمیناروں اور ورکشاپس کی وڈیوز دستیاب ہیں۔
آج ڈاکٹر لبنیٰ مرزا نے مجھے دعوت دی ہے کہ میں اگلے ہفتے ان کی طب کے طلبا و طالبات کو انگریزی زبان میں گرین زون لیکچر دوں۔ وہ لیکچر بھی ہم یو ٹیوب چینل پر پیش کر دیں گے۔
ان تمام کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ ساری دنیا میں زیادہ سے زیادہ لوگ ذہنی صحت کے بارے میں جانیں اور اپنے نفسیاتی ’خاندانی اور سماجی مسائل کا حل۔ اپنی مدد آپ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے۔ تلاش کریں۔
جب سے کرونا وبا نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ہمارے چاروں طرف سماجی ’سیاسی اور معاشی مسائل کا سرخ سمندر پھیل گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ گرین زون فلسفے پر عمل کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگ اس سرخ سمندر میں سبز جزیرے بن سکیں اور کنول کے پھول کی طرح دلدل میں رہتے ہوئے اس سے اوپر اٹھ سکیں۔
موجودہ گرین زون سیریز کا آخری سیمینار سات نومبر کو ہو گا۔ اس کے بعد دو ماہ کی چھٹی ہوگی اور پھر ہم اتوار 16 جنوری 2022 سے ایک اور سیریز کا اہتمام کریں گے۔ اس نئی سیریز میں گرین زون ٹٰیم ہر ماہ دو گھنٹوں کے سیمینار کا اہتمام کرے گی اور ہر سیمینار میں دو لوگوں کے نفسیاتی مسائل کا تجزیہ کیا جائے گا۔
لوگ اپنا مسئلہ پیش کریں گے حاضرین اپنی رائے دیں گے اور آخر میں گرین زون ٹیم کے ممبر۔ ڈاکٹر خالد سہیل۔ ثمر اشتیاق اور زہرا نقوی اپنے مشورے پیش کریں گے۔
یہ ہماری خوش بختی ہے کہ پچھلے سال کے سیمیناروں اور ورکشاپوں میں گرین زون کمیونٹی کے سب شرکا نے بڑے احترام سے ایک دوسرے سے مکالمہ کیا ہمیں کسی قسم کی ناخوشگوار صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ سب مکالمے پرسکون اور باعزت گرین زون مکالمے تھے۔
مجھے اس بات کی بہت خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے گرین زون کے فلسفے کے جو بیج چند سال پہلے بوئے تھے وہ اب تن آور درخت بن کر میٹھے پھل دے رہے ہیں۔ گرین زون فلسفے کے طالب علم دھیرے دھیرے گرین زون استاد بن رہے ہیں اور ذہنی صحت کے علم اور تجربے کو دور دور تک پھیلا رہے ہیں۔
ہمارا خیال ہے کہ کرونا وبا کے سرخ سمندر میں جتنے بھی سبز جزیرے ہوں اتنا ہی اچھا ہے۔ کینیڈا میں کنگسٹن کے قریب جو 1000 ISLANDSہیں وہ ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ اب کینیڈا کے GREEN ZONE ISLANDS بھی ساری دنیا میں مشہور ہو رہے ہیں۔ جب ہم زوم پر گرین زون سیمینار منعقد کرتے ہیں تو ہمارے گرین زون دوست کینیڈا امریکہ ’انگلینڈ‘ پاکستان ’چین اور ملائیشیا سے شرکت کرتے ہیں۔
سبز جزیروں سے ہم دھیرے دھیرے پر تشدد ریڈ زون دنیا کو پرسکون گرین زون دنیا میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ میرا گرین زون خواب تھا جسے ہم سب مل کر شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے کہیں لکھا تھا کہ میری تخلیقات دکھی انسانیت کے نام میرے محبت نامے ہیں۔
اگر آپ گرین زون ٹیم کے ایک گھنٹے کے مفت نفسیاتی مشوروں سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں (جس کے لیے کینیڈا میں لوگ ماہر نفسیات کو دو سو ڈالر کی فیس دیتے ہیں ) تو آپ مجھے میرے ای میل ایڈریس۔ welcome@drsohail۔ com۔ پر مندرجہ ذیل معلومات بھیج دیں۔
معلومات۔
نام۔
پتہ۔
عمر۔
تعلیم۔
پیشہ۔
نفسیاتی مسئلے کی تفاصیل۔
ای میل ایڈریس۔
یہ معلومات حاصل کرنے کے بعد ثمر اشتیاق اور زہرا نقوی آپ کا نام اگلے سال کی ویٹنگ لسٹ میں شامل کر دیں گی اور آپ کی باری آنے پر آپ کو ای میل سے مطلع بھی کر دیں گی۔ ہمارے کلینک میں لوگوں کو اکثر اوقات چھ ماہ سے بارہ ماہ تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ انتظار کے دوران آپ فیس بک پر گرین زون کمیونٹی کے ممبر بن کر استفادہ کر سکتے ہیں۔
آخر میں میں ان تمام وولنٹیئرز اور ’ہم سب‘ کے ایڈیٹرز کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے گرین زون سیمیناروں کے انعقاد اور ذہنی صحت کی تعلیم کو عام کرنے میں ہماری مدد فرمائی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری قوم کو ایک پرسکون زندگی گزارنے اور پرامن معاشرہ قائم کرنے کے لیے ایسی تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔
https://www.facebook.com/groups/3854006397951421
۔ ۔


