روشنیوں کا جشن۔ دیوالی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’دیوالی‘ یا ’دیپاولی‘ ہندو مذہب سے متعلق افراد کے سب سے بڑے جشن اور مذہبی تہوار ہی نہیں، بلکہ صدیوں سے بر صغیر پاک و ہند کے ایک سماجی تہوار کی حیثیت بھی رکھتا آیا ہے، جسے اس خطے میں رہنے والے مختلف عقائد کے لوگ خوشی کے جشن کے طور پر مناتے ہیں، اس میں شامل ہوتے ہیں، یا کم از کم اس کی مبارکباد کا تبادلہ ضرور کرتے ہیں۔ دیوالی کو ہندی زبان میں ’دیوالی‘ اور ’دیپاولی‘ ، جبکہ سندھی میں ’ڈیاری‘ کہا جاتا ہے۔ دیوالی کا دن، ہر سال اکتوبر یا نومبر کے ماہ کے دوران بکرمی یا بیساکھی سال کے ’کارتک‘ (کتی) مہینے کی اماوس (تاریک) رات کو تمام دنیا میں منایا جاتا ہے۔

دیوالی کے جشن کی تاریخ انتہائی قدیم بتائی جاتی ہے۔ اس تہوار کا ذکر ”پدم پران“ ، ”اسکند پران“ اور دیگر قدیم سنسکرت ہندو کتب میں آتا ہے۔ ٹریسی پنچ مین کی کتاب: ”گیسٹس ایٹ دی گاڈس ویڈنگ۔ سلیبرٹنگ کارتک امنگ دی ویمن آف بنارس“ اور جیمز۔ جی۔ لوچے فیلڈ کی کتاب ”السٹریٹڈ انسائیکلوپیڈیا آف ہندوازم“ کے مطابق ”دیوا“ یا ”دیپا“ (یعنی: ’دیے‘ ) کا ذکر ”اسکند پرانا“ میں علامت کے طور پر سورج کے لئے کیا گیا ہے۔ ہمارا سورج جو نظام شمسی کے مختلف سیاروں کو روشنی فراہم کرتا ہے، یہی سورج، ’کارتیک‘ مہینے میں موسمی تغیر پاتا ہے۔

قدیم بھارت کا ایک بادشاہ ”ہرش“ ، ساتویں صدی میں سنسکرت زبان میں لکھے ایک ڈرامے میں دیوالی کے بارے میں کہتا ہے : ”دیوالی وہ ہے، جس میں دیے جلائے جاتے ہیں، اور جن کی شادی کا رشتہ طے ہوتا ہے، ایسے جوڑوں کو تحفے دیے جاتے ہیں۔“ راج شیکھر نے نویں صدی میں اپنی تصنیف ”کا اویا میما مسا“ میں دیوالی کو ”دیپا مالیکا“ لکھا ہے، اس میں اس نے تحریر کیا ہے کہ ”یہ گھروں کو صاف ستھرا کرنے، راتوں میں دیے جلانے اور گلی کوچوں اور بازاروں کو چراغاں کرنے کی روایت کا موسم ہے۔“ فارسی سفیر، ابو ریحان البیرونی نے گیارہویں صدی میں ہندوستان کا سفر کیا اور یہاں کی دیوالی کے بارے میں لکھا: ”ہندو پیروکار، کارتیک مہینے کے نئے چاند کی رات کو دیوالی مناتے ہیں۔“

اس تہوار کے بارے میں ایک کہانی یہ بھی مشہور ہے کہ ہندو فلسفے کے مطابق مانے جانے والے یگوں (جگوں ) میں سے ’تریتا یگ‘ میں ایودھیا نگری کی راجا دسرت کی دئیتوں اور راکشسوں سے لڑی گئی جنگ کے دوران، اس کے ’رتھ‘ (دو پہیوں والی شاہی سواری) کی ایک کیل ٹوٹ گئی، تو اس کی وجہ سے ہونے والے سوراخ میں، اس رتھ کو امکانی طور پر گرنے سے بچانے کے لئے، راجا دسرت کی بیوی ”کیکئی“ نے اپنی انگلی اس میں ڈال کر، اپنے شوہر کی جان بچائی۔

جنگ ختم ہونے کے بعد جب راجا دسرت کو اس بات کا پتا چلا، تو اس نے کیکئی کے ساتھ دو وعدے (وچن) کرنے کا عہد باندھا، مگر کیکئی نے وہ دونوں وعدے بوقت ضرورت پورا کرنے کا کہہ کر امانت کے طور پر راجا کے پاس رکھے۔ کافی عرصہ گزر جانے کے بعد ، راجا دسرت نے، اپنے ضعف و بڑھاپے کی وجہ سے ’ایودھیا نگری‘ کا تخت اپنے بڑے بیٹے اور ہندو فلسفے کے مطابق بھگوان کے ساتویں اوتار مانے جانے والے، شری رامچندر کو سونپنے کا فیصلہ کیا۔

یہ خبر جب اس کی بیوی کیکئی کو ہوئی، تو اس نے راجا سے امانت کے طور پر رکھے دونوں وعدے (وچن) پورا کرنے کا تقاضا کیا: ( 1 ) ایودھیا نگری کا تخت، شری رامچندر کے بجائے اس (کیکئی کے ) بیٹے ”بھرت“ کے حوالے کیا جائے۔ ، ( 2 ) شری رامچندر، راجاؤں والے (شاہی) لباس پہننے کی بجائے بنواسی (فقیروں والا) لباس پہن کر 14 برس کے لئے بنواس (جنگل) میں رہے اور وہیں رشیوں اور منیوں والی سادہ غذا (گھاس پھوس) کھاتا رہے۔

کیکئی کی جانب سے اس قدر کٹھن وعدوں کا سن کر، راجا دسرت بیہوش ہو کر گر پڑا، مگر شری رامچندر نے اپنے باپ کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے بنواس (جنگل) جانے کی تیاری شروع کر دی۔ آخرکار شری رامچندر، اپنے چھوٹے اور پیارے بھائی لکشمن اور اس کی بیوی سیتا کے ساتھ، رتھ پر سوار ہو کر بنواس پہنچا۔ وہاں ایک دن سیتا کے اسرار پر دونوں بھائی ایک ہرن کو پکڑنے کے لئے بہت دور نکل گئے، ان کی پیٹھ پیچھے لنکا کے راکشس (ولین) ’راون‘ ، نے موقع پاتے ہی، جوگی کا روپ دھار کر، خیرات مانگنے کے بہانے دائرے میں بیٹھی سیتا کو اغوا کیا اور سمندر پار لے جا کر، لنکا کے ’اشوک واٹکا‘ کے علاقے میں جا رکھا۔

روایت کے مطابق سیتا کے بنواس سے اغوا کرنے کے دوران ’جٹایا‘ نامی پرندے نے مزاحمت کی، جس کو راون نے زخمی کر دیا تھا۔ اس پرندے کے ذریعے رامچندر کو اپنی بیوی سیتا کے اغوا کی اطلاع ملی اور وہ پرندہ رامچندر کو یہ سب بتانے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مر گیا، جس کا ’کریا کرم‘ (دفن) شری رامچندر نے اپنے ہاتھوں سے کیا۔

ادھر سیتا کو واپس لانے کے لئے شری رامچندر نے، اپنی خدمت پر مامور اور بندروں کی فوج کے سربراہ ”ہنومان“ کی سربراہی میں ایک فوج تیار کی اور اس طرح، شری رامچندر اور راون کے مابین جنگ کا آغاز ہوا۔ جنگ کے دوران شری رامچندر کی جانب سے ایک بھاری نیزہ لگنے کی وجہ سے راون مارا گیا۔ جنگ میں بالآخر راون کی شکست ہوئی اور شری رامچندر کامیاب ہوا۔ پھر شری رامچندر، سیتا کو لے کر واپس بنواس پہنچا۔ شری رامچندر، سیتا اور لکشمن، راکشس (ظالم) راون کے مارے جانے سے ٹھیک 20 دن بعد واپس ایودھیا پہنچے۔ شری رامچندر کے بنواس کاٹ کر، ایودھیا نگری پہنچنے پر عوام کی جانب سے اس کا عظیم الشان استقبال کیا گیا اور ایک زبردست جشن منایا گیا اور گھروں اور گلیوں میں دیے جلائے گئے اور خوشی کے مارے بڑے بڑے پٹاخے پھوڑے گئے۔ اس دن کی یاد میں، ہر سال ہندو دھرم سے متعلق لوگ اس دن پر ’دیوالی‘ مناتے ہیں۔

ایک اور روایت کے مطابق مایا، دھن اور دولت دینے والی مشہور دیوی ’لکشمی‘ کی پیدائش بھی اسی روز ہوئی تھی، اسی لئے دیوالی کے دن سورج غروب ہوتے ہی ’لکشمی پوجا‘ کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس روز شام کے وقت اس دیوی کے وجود اور کرشمات پر یقین رکھنے والے لوگ اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔ ان کا یقین ہے کہ لکشمی دیوی ان کے پاس آئے گی، تو ان کی دولت میں اضافہ ہو گا۔ دیوالی کو شیطان، جھوٹ اور دھوکے سے نجات اور حق اور سچ کی فتح اور باطل کی شکست کا دن بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس دن بھارت، نیپال، سری لنکا، گیانا، ملائیشیا اور سنگاپور سمیت متعدد ممالک میں عام تعطیل کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان (بالخصوص سندھ) میں بھی اس دن پر ہندو مذہب سے متعلق افراد کے لئے، حکومت کی جانب سے عام تعطیل کا اعلان کیا جاتا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ ساتھ امریکا میں بھی دیوالی دھوم دھام سے منائی جاتی ہے۔ امریکا میں 2003 ء میں پہلی مرتبہ وائیٹ ہاؤس میں دیوالی منائی گئی، جبکہ 2009 ء میں امریکی صدر براک اوباما نے وائیٹ ہاؤس میں دیوالی کی تقریب کا خود افتتاح کیا۔ 2007 ء میں امریکی کانگریس نے اس تہوار کو امریکا کے سرکاری تہوار کا درجہ (آفیشل اسٹیٹس) دیا۔

دیوالی کی تقریبات پانچ دن سے ایک ہفتے دس دن تک جاری رہتی ہیں۔ اس تہوار کی تیاریاں ایک ہفتہ پہلے سے ہی شروع ہو جاتی ہیں اور دیوالی سے دو دن پہلے سے ہی باضابطہ تقریبات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، جو پانچ دن تک جاری رہتا ہے۔ پہلے دن گھر، مکان، کاروباری دفاتر، دکان، گلی کوچے، آنگن، کھیت کھلیان، سبھی کو دھو کر پاک و صاف کیا جاتا ہے۔ اور ان مقامات کو سجانے کا کام شروع کیا جاتا ہے۔ دیوی لکشمی کی پوجا (دعا) کی جاتی ہے۔

اس دوران دیوں کو لگاتار جلایا جاتا ہے۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ یہ دن، دھنونتری کا جنم دن بھی ہے، جو ہندو روایات کے مطابق ایک زبردست حکیم بھی تھے، ان کی یاد میں یہ ”دھنتیرس“ منایا جاتا ہے۔ یہ دن خرید و فروخت کے لئے بھی خاصہ مشہور ہے۔ اس دن عبادت کر کے مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں، ان مٹھائیوں کو ”پرساد“ یعنی ”تبرک“ کہا جاتا ہے۔ دیوالی کا دوسرا دن ”ناراکا چترتھی“ یا ”چھوٹی دیوالی“ کہلاتا ہے۔ اس دن رنگولی سے گھر کے آنگن کو سجایا جاتا ہے۔

’کولم دیوالی‘ کی ان سجاوٹوں میں، فرش پر دلکش خاکے پینٹ کرنا، دہلیز اور در و دیوار کے سامنے خوشنما رنگینیوں سے بھرے نقوش بنانا وغیرہ شامل ہے، جو لکشمی اور مہمانوں کے استقبال کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ اس دن چھوٹی چھوٹی پوجائیں (عبادتیں ) بھی کی جاتی ہیں، اور گھروں میں خواتین ہاتھوں میں مہندی لگاتی ہیں اور دیوالی کے لئے مخصوص میٹھے پکوان پکاتی ہیں۔ دیوالی کا تیسرا دن دیوالی کے اہم اور خاص تہوار کا دن ہوتا ہے۔

اس دن نئے کپڑے پہننا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ شام میں دیے جلانا اور رات میں ”لکشمی پوجا“ کے ساتھ ساتھ دیگر دیوی دیوتاؤں کی پوجا کا اہتمام کرنا مخصوص اور مقصود سمجھا جاتا ہے، جن میں، سرسوتی (علم اور فراست کی دیوی) ، گنیش اور کبیرا (دولت کا دھنی) شامل ہیں۔ اس پوجا کے بعد پٹاخے جلانا، خوشی منانا اور خوشیاں بانٹنا عام دستور ہے۔ اس روز مختلف اقسام کے پٹاخے اور بارودی کریکرز اس یقین کے ساتھ پھوڑے جاتے ہیں، کہ ان کے جلانے سے ہر قسم کی بدروحیں بھاگ جائیں گی۔

پٹاخے جلانے کے بعد لوگ گھروں میں دعوتیں تناول کرتے اور مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں۔ دیوالی کا چوتھا روز ”پاڑوا“ کہلاتا ہے۔ یہ دن میاں بیوی کے لئے، ان کی خوشحالی کی دعاؤں کے لئے مخصوص مانا جاتا ہے۔ میاں اپنی بیوی کو تحفے دیتا ہے۔ بیوی اپنے شوہر کی سلامتی کی دعائیں مانگا اور منتیں مانا کرتی ہیں۔ اس دن کرشن کی یاد میں ”گووردھن پوجا“ کی جاتی ہے۔ شادی شدہ لوگوں کے لئے یہ دن ’شبھ‘ (خوش قسمت) مانا جاتا ہے۔ دیوالی کا پانچواں اور آخری دن ”بھائی دج“ یا ”بھیا دوج“ کہلاتا ہے۔ یہ دن بھائی بہنوں کے لئے مخصوص ہے۔ یہ تہوار ’رکشا بندھن‘ کی طرح کا ہی ہوتا ہے۔ اس دن بھائی اپنی بہنوں کے لئے، اور بہنیں اپنے بھائیوں کے لئے دعائیں مانگتی، اور منتیں مانتی ہیں۔ بھائی بہن ایک دوسرے کو تحفے پیش کرتے ہیں۔

دیوالی کو ہندو مذہب کے علاوہ جین مذہب اور بدھ مذہب میں بھی مرکزی مذہبی اہمیت حاصل ہے۔ جین مت والے اس دن کو اپنے آخری چوبیسویں ( 24 ) تیرتھنکر، ’سوامی مہاویر‘ کے یوم پیدائش کے طور پر مناتے ہیں، جو 527 قبل مسیح میں، 15 اکتوبر (شب اماوس) کو پیدا ہوئے۔ جبکہ سکھ، اپنے چھٹے گرو، گرو گوبند سنگھ کے گوالیار قلعے والے واقعے میں مغلوں کی قید سے آزادی پانے پر، اس دن پر امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں دیے جلا کر دیوالی مناتے ہیں۔ بدھ مذہب سے تعلق رکھنے والے بھکشو، اس دن کو اشوکا کے بدھ مت اختیار کرنے کے دن یعنی ’اشوک وجۂ دشمی‘ کے طور پر مناتے ہیں اور اس دن پر مہاتما گوتم بدھ کی پوجا (عبادت) کرتے ہیں۔

جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا کہ دیوالی اماوس کی رات کو منائی جاتی ہے۔ اماوس گہری سیاہ رات ہوتی ہے، اس گہری سیاہ رات میں دیے جلا کر یہ روشنیوں کی عید منائی جاتی ہے۔ گویا یہ عید ظلمت میں حق کے نور پھیلنے کی علامت کے طور پر منائی جاتی ہے۔ جذباتی طور پر دیوالی تمام خاندان خواہ دوست احباب کو ایک جگہ جوڑتی ہے اور یکجہتی کا پیغام بھی دیتی ہے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments