افغانستان کرکٹ ٹیم پر بے بنیاد الزامات



مورخہ 25 اکتوبر بمقام شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم جہاں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں افغانستان بمقابلہ اسکاٹ لینڈ کے میچ کا آغاز ہونے کو ہے۔ میچ سے پہلے دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے جا رہے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کے ترانے کے بعد جب افغانستان پرچم کے ساتھ افغانستان کا قومی ترانہ بجایا جاتا ہے تو اسٹیڈیم میں اور اپنے گھروں میں ٹیلیویژن سیٹ کے سامنے بیٹھے کروڑوں لوگوں کی آنکھیں افغانستان کے کپتان محمد نبی کی اشک بار آنکھیں دیکھتی ہیں۔

محمد نبی قومی ترانے کے دوران آبدیدہ ہوجاتا ہے۔ محمد نبی عالمی ٹی ٹوئنٹی کپ میں اس ملک کی نمائندگی کر رہا ہے، جہاں اس کو اپنے ہی ملک کے ایک خاص حلقے کی جانب سے ٹورنامنٹ میں افغان پرچم استعمال کرنے پر ملک واپسی پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ کیوں کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد اور طالبان حکومت کے وجود میں آنے کے بعد افغان ترانہ اور پرچم تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور سابقہ ترانے اور پرچم پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ مگر وہ ان سب سے بے پروا ہو کر اپنے ملک کی محبت اور اس کی عزت و تکریم کے لیے افغان پرچم تھامے اپنے ملک کی نمائندگی کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں حالیہ سیاسی کشیدگی اور وہاں کے بدترین معاشی حالات کے سبب افغانستان کرکٹ بورڈ کی حالات انتہائی مخدوش ہے۔ جس کے سبب ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے راشد خان اور کپتان محمد نبی نے سفری اخراجات کا انتظام کیا۔ اور ان ہی کی بدولت افغان ٹیم ٹورنامنٹ میں شرکت کر رہی ہے۔

مگر آج ابو ظہبی کے گراؤنڈ پر افغان ٹیم کو بھارت کے ہاتھوں شکست پر ہمارے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر جس طرح ہدف تنقید بنا کر اس پر میچ فکسنگ کے الزامات عائد کیے گئے، وہ انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہیں۔ حد تو یہ ہے وہ سابق کرکٹرز افغان ٹیم کی شکست پر اس پر میچ فکسنگ کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جن کے دامن خود میچ فکسنگ، جوئے اور سٹے سے داغ دار ہیں۔ جسٹس قیوم کی تحقیقاتی رپورٹ اس کا واضح ثبوت ہے۔ اور ان کے ساتھ چند نام نہاد اینکرز جو کرکٹ کی الف ب سے بھی واقفیت نہیں رکھتے وہ بے بنیاد اور ٹاس کے بعد کی ایک ویڈیو کلپ کو بنیاد بنا کر افغان ٹیم پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔ جب کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ٹاس جیتنے کے بعد محمد نبی مائیک تھامے ویرات کوہلی سے کہہ رہا ہے کہ ہم پہلے فیلڈنگ کریں گے۔ جس کو وہ کوہلی سے منسوب کر رہے ہیں کہ کوہلی نبی کو ہدایت دے رہا ہے کہ آپ پہلے فیلڈنگ کریں۔ اور اس ہی بے بنیاد الزام پر افغان کرکٹرز پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔

ہمارے وہ نام نہاد میڈیا اینکرز اور ذہنی بصیرت سے قاصر سوشل میڈیا افلاطون پر ٹاس جیت کر پہلے بھارت کو بیٹنگ دینے پر سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یو اے ای کا ریکارڈ رہا ہے کہ ٹاس جیتنے والی ٹیم ہمیشہ مخالف ٹیم کو ہی پہلے بیٹنگ کی دعوت دیتی آ رہی ہے۔ اور اس میں وہ مسلسل کامیاب ہو رہی ہیں۔ جب کہ بھارت کی دو لگاتار شکست بھی پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ہوئی، جس میں اس کی بیٹنگ ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ افغانستان نے یہ ہی دیکھتے ہوئے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔

فیس بک ٹویٹر اور الیکٹرانک میڈیا پر بیٹھے افلاطون شاید یہ بات بھول چکے ہیں کہ بھارت ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کا میزبان بھی ہے۔ پچھلی دو بدترین شکست کے بعد آج انھوں نے اپنے لیے پرفیکٹ بیٹنگ وکٹ بنائی۔ جہاں باؤلرز کے لیے کوئی مدد نہیں تھی۔ اور اس بیٹنگ وکٹ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے افغان باؤلنگ پر 210 رنز جیسا پہاڑ کھڑا کر دیا۔ جس کو عبور کرنا کسی بھی مخالف ٹیم کے لیے پرفیکٹ بیٹنگ وکٹ پر بھی سہل نہیں ہوتا۔ اور یہ ہی افغان ٹیم کے ساتھ ہوا جو 66 رنز سے یہ شکست کھا گئی۔ اور ان کی اس شکست کو میچ فکسنگ سے منسوب کر دیا گیا۔

افغان ٹیم پر میچ فکسنگ کا الزام لگانے والے افلاطون سے ہمارا یہ سوال ہے، کیا آپ اس بات سے انکار کریں گے کہ پچھلی دو شکستوں کے باوجود بھارتی ٹیم ایک ورلڈ کلاس ٹیم ہے؟ جی نہیں، آپ انکار نہیں کر سکتے۔ کیوں کہ سیاسی مخالفت اپنی جگہ مگر اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت ایک ورلڈ کلاس ٹیم ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ورلڈ کپ کی ہوسٹ ٹیم ہے۔ تو ایسے میں پرفیکٹ بیٹنگ وکٹ پر بھارت کے ہاتھوں افغانستان کی شکست کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

اصل میں مسئلہ افغانستان کی شکست نہیں بھارت کی فتح ہے۔ جو ہمارے ان افلاطونوں سے ہضم نہیں ہو پائی۔ خدارا سیاسی اختلافات کو پس پشت رکھ کر کھیل کو کھیل سمجھیں، اس میں سیاست کو شامل نہیں کریں۔ اور سب سے بڑھ کر امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت آ چکی ہے۔ جو پہلے ہی قومی پرچم اور ترانے کے تنازع پر افغان ٹیم پر شدید برہم ہے۔ آپ کے اس طرح کے بے بنیاد الزامات سے افغان کھلاڑیوں کی مشکلات میں نا صرف اضافہ ہو گا بلکہ ان کی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ خدارا سوچیے۔

Facebook Comments HS