پٹرول 146 روپے لیٹر ہو گیا
وزیراعظم عمران خان نے تین نومبر کو قوم سے خطاب میں تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کرنے کا دعوی کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ پٹرول کی قیمت بڑھائی جائے گی اور بتایا تھا کہ بنگلہ دیش میں پٹرول کی قیمت 200 روپے فی لیٹر ہے اور بھارت میں 250 روپے۔ ان کے اعلان کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 8.03 روپے فی لیٹر کا اضافہ کرتے ہوئے اس کی قیمت 137.79 سے بڑھا کر 145.82 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8.14 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اور اس کی نئی قیمت اب 142.62 روپے فی لیٹر ہے۔
مٹی کے تیل کی قیمت میں 6.27 روپے کا اضافہ کرتے ہوئے اس کی قیمت 116.53 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 5.72 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اور اس کی نئی قیمت 114.07 روپے فی لیٹر ہے۔
فنانس ڈویژن نے رات گئے یہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت اوگرا کی سفارشات مان لیتی تو قیمتیں اس سے کہیں زیادہ ہوتیں، حکومت نے زیادہ تر دباؤ خود برداشت کیا ہے اور سیلز ٹیکس اور پٹرولیم لیوی گھٹائی ہے۔
رات گئے دو بج کر 19 منٹ پر شہباز گل نے وضاحت دیتے ہوئے کہا "پٹرول کی قیمت بڑھانا کوئی پسندیدہ فیصلہ نہیں تھا۔ ہر پہلو دیکھا گیا۔ پوری دنیا میں پٹرولیم کی قیمت دو گنا ہو چکی۔ حکومت پہلے ہی پٹرولیم ٹیکس 31 روپے سے کم کر کے 5 روپے تک لا چکی۔ اب بھی اگر قیمت کم رکھنی ہو تو پھر قرضہ لینا پڑے گا جو کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں۔”
پٹرول کی قیمت بڑھانا کوئی پسندیدہ فیصلہ نہیں تھا۔ ہر پہلو دیکھا گیا۔ پوری دنیا میں پٹرولیم کی قیمت دو گنا ہو چکی۔ حکومت پہلے ہی پٹرولیم ٹیکس 31 روپے سے کم کر کے 5 روپے تک لا چکی۔ اب بھی اگر قیمت کم رکھنی ہو تو پھر قرضہ لینا پڑے گا جو کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں۔
— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) November 4, 2021



