راوی چین ہی چین کیوں نہیں لکھتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راوی چین ہی چین کیوں نہیں لکھتا؟ اب کے وبا آئی تو خود پھیلنے سے قبل ہی اتنا اضطرار پھیلا چکی تھی کہ مہذب ممالک میں بھی لوگوں نے ذخیرہ اندوزی اور گرانی کو اٹھانے میں اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا۔ کنزیومر پرائس انڈیکس گرانی اور افراط زر کے حساب لگانے کا ایک حد تک صحیح پیمانہ ہے۔ اس کے بڑھنے میں کئی عوامل کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر روزمرہ کی خوراک کی اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ ایک وجہ تو انفرادی ذخیرہ اندوزی ہے کہ عام دکاندار گاہکوں کو اشیائے خورد و نوش کے ساتھ ساتھ خوف بھی بیچتے رہے۔

بسا اوقات وبائی صورت حال میں کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی کمی ہوجاتی ہے۔ چنانچہ مارکیٹ میں زرعی اشیاء کی ترسیل سست روی کا شکار ہوجاتی ہے۔ یاد رہے کہ زرعی پیداوار میں ترقی پذیر ممالک میں زیادہ منافع ”مڈل مین“ یا آڑھتی کی جیب میں جاتا ہے۔ اور یہی طبقہ مارکیٹ میں قلت کو مزید منافع کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔

پاکستان کو ایک طرف رکھتے ہوئے آئیے دوسرے ممالک کا مطالعہ کریں۔ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ ہے جس میں بظاہر اوسط فی کس سالانہ آمدن قریباً 63,500 ڈالر ہے۔ لیکن اگر تفصیل سے دیکھا جائے تو امریکہ میں ساڑھے چارسو ارب پتی رہتے ہیں جن کی دولت کو بھی اوسط نکالنے کے لئے عام آدمی کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ وبا کی وجہ سے جہاں نچلا اور درمیانہ طبقہ بے روزگار ہو رہا ہے وہاں اسی وبا کے دوران امریکی ارب پتیوں نے اپنی دولت میں بیس کھرب ڈالر کا اضافہ کیا ہے۔

(ایک ٹریلین میں ایک ہزار بلین ہوتے ہیں۔ اس لیے اردو میں ٹریلین دس کھرب کے برابر ہے ) صرف اس وبا کے دوران چھ کروڑ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں اور یا دیہاڑی کے چند گھنٹے کام کر کے گزارہ کرتے ہیں۔ روزمرہ کی اشیاء میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور پٹرول کی قیمت فی گیلن سوا ڈالر سے تین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ اپنی عوام کو پٹرول کسی قیمت پر بھی مہنگا ہونے نہیں دیتا اور تیل پیدا کرنے والے ممالک پر حملے اور قبضے سے بھی نہیں کتراتا۔

اب جبکہ امریکہ تیل کی پیداوار میں خود کفیل ہو چکا ہے، یہ بات حیرانی ہی کا باعث ہے کہ وہاں بھی پٹرول کی قیمت تاریخ کی مہنگی ترین سطح پر ہے۔ اس وبا کے دوران امریکی حکومت نے کرایہ نہ ادا کرنے کی صورت میں کرایہ داروں کو گھر سے نکالنا ممنوع قرار دیا ہے ورنہ آدھی آبادی سڑکوں پر سوتی نظر آتی۔ اگرچہ کرونا سے مرنے والوں کی تعداد ایک ملین سے کم ہے لیکن اب بھی ہفتہ وار اموات پانچ ہزار کے آس پاس ہیں۔ ان اموات اور وبا کے ہاتھوں بیمار ہونے کے ساتھ ساتھ گھروں میں بندش کی وجہ سے وہاں اکیلا پن لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے اور وزارت صحت کا تخمینہ ہے کہاں کے علاج پر سولہ کھرب ڈالر لگیں گے۔ یہ یاد رہے کہ امریکی حکومت فیڈرل ریزرو سے پہلے ہی ایک سو ساٹھ کھرب ڈالر قرض لے چکی ہے۔

یورپ کے بتیس ممالک کی مشترکہ جی ڈی پی کو اس وبا سے دس کھرب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور ٹی وی کے انٹر نیشنل نیوز چینلز پر آپ نے اٹلی، فرانس، سپین وغیرہ میں فسادات کی خبریں دیکھی ہوں گی۔

یہ تو میں نے صرف امیر ممالک کا موازنہ کیا ہے۔ اپنے پڑوس میں بھی دودھ کی نہریں نہیں بہہ رہیں۔ بھارت میں اب تک پانچ لاکھ کے لگ بھگ اموات ہو چکی ہیں۔ اس کے پیمانے کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ وہاں لاشیں جلانے کے لئے لکڑی ناپید ہو گئی۔ گرانی کا یہ عالم ہے کہ پٹرول کی قیمتیں ستر روپے سے ایک سو بائیس روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ اور ہاں یاد رکھئیے کہ وہاں بھی پٹرول پر تقریباً 54 فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ لیکن میں بھارت سے اس سلسلے میں بہت متاثر ہوا ہوں کہ وہاں کے ارب پتیوں نے غریبوں کے لئے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے ہیں۔ اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہندو مذہب میں فلاحی کاموں میں حصہ لینا ان کے مذہب کا حصہ ہے۔

پاکستان میں گرانی میں جہاں حکومت کی غلطیوں اور کرپشن کا ہاتھ ہوتا ہے وہاں عام تاجر بھی عوام کو ٹیکہ لگانے سے باز نہیں آتا۔ اگر میں کہوں کہ زیادہ تر مہنگائی آڑھتی، ہول سیلر اور ریٹیلر کی ملی بھگت سے ہے تو شاید مجھے کوئی چیلینج نہ کرسکے۔ تاہم اس مہنگائی کے دور میں بھی چوری کی بجلی سے عید میلاد النبی پر چراغاں کرنا، شادیوں پر اصراف ایسے وقت میں جب اللہ نے بہانہ بھی فراہم کیا ہے، ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔ یہی مہنگائی ہے اور گاڑی کا نیا ماڈل نکلتا ہے تو ایک دن میں بکنگ ختم ہوجاتی ہے۔ جس گھر میں پہلے ایک موٹرسائیکل ہوا کرتی تھی اب وہاں چار قیمتی گاڑیاں کھڑی ہیں۔

اور ہاں پلیز ان گداگروں کو غربت کی نشانی نہ سمجھیں۔ یہ باقاعدہ مافیا ہے اور ان میں سے ہر گداگر ماہوار گریڈ بیس سے زیادہ کماتا ہے۔ اس سے اچھا ہے کہ صاحب حیثیت افراد اپنے گھریلو ملازمین، کم تنخواہوں کے کاروباری ملازمین کی دامے درمے قدمے مدد کریں۔ وبا کی وجہ سے کئی اخراجات کم ہو گئے ہیں۔ نہ بلاوجہ کہیں جانا ہے اور نہ خواتین کے میک اپ کا خرچہ کہ چہرہ تو ماسک میں چھپا ہوتا ہے۔ میں جو اکثر دن میں دو مرتبہ شیو کرتا تھا اب ماسک سے دو تین دنوں کے شیو کو چھپا دیتا ہوں۔ اس بچت کو مستحقین کی طرف موڑ لیجئیے۔

اللہ ہمیں حکمت و دانائی دے، صبر ان مواقع پر اللہ کا ہاتھ تھامنے کے برابر ہے۔ دو وقت کا کھانا عزت سے ملے اور صحت برقرار رہے تو سمجھیں کہ

ؔآج کا دن بھی عیش سے گزرا
سر سے پا تک بدن سلامت ہے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments