وہ 22سال چلا اور منزل کی خبر نہ تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


موجودہ سرکار کے اہم ترین نام اپوزیشن میں آزاد میڈیا کے بڑے حامی ہوا کرتے تھے، خود عمران خان بدترین آمر مشرف کی سنسرانہ پالیسیوں کے ایسے لتے لیتے دکھائی دیتے تھے کہ لوگ انہیں آزادی اظہار کا سب سے بڑا چیمپین گرداننے لگے تھے اور ان کا گمان اس لیے بھی ان کے بارے امید پر مبنی تھا کہ موصوف عرصہ دراز تک برطانیہ جیسے تحریر و تقریر کی آزادی کے علمبردار ملک میں رہ چکے تھے لیکن جب یہ سوچ کچھ ذہنوں نے اسکرینوں پر انڈیلی تھی تو اس وقت بھی سلیم صافی اور خاکسار سے لوگ اسے عمران خان کی عیاری، مکاری اور چالاکی قرار دینے میں سب سے نمایاں تھے مگر ان کی میٹھی زبان نے ایسا گل کھلایا کہ ہر کوئی ان پر مر مٹا تھا اور پھر وہ ہو گیا جس کی کسی کو امید تک نہ تھی اور اب میڈیا کی زبانیں اور ہاتھ کاٹنے کے لیے آرڈینینس لانے کے جتن ہو رہے ہیں، لوگ بے روزگار بھی ہوچکے، ماریں بھی کھا چکے، لہولہان بھی ہوچکے، غداری اور دین دشمنی کے الزامات تو اول روز سے لکھنے والوں پر عائد ہوتے آرہے ہیں مگر اب سزاؤں کی بوری ایسے مکروہ اور سفاکانہ انداز میں الٹائی گئی ہے اور اس میں سے ایسی سڑاند آ رہی ہے کہ دور ہی سے لوگوں نے ناکوں پر رومال رکھ لیے ہیں اور اس کے باوجود بھی بو منٹو کے کچھ افسانوی کرداروں کی صورت ذہنوں میں گھس چکی ہے۔

المیہ ہے کہ ہمارے ریاست مدینہ والی ہینڈسم سرکار کے منہ سے غلط بات نکل جائے تو ”سلپ آف ٹنگ“ اور اگر اپوزیشن ایسی کوئی بات کہہ دے تو ”آسمانی صحیفہ“ قرار دینے میں ایک سیکنڈ کی دیر نہ کی جاتی ہے، بہرحال آپ موجودہ ہینڈسم سرکار کے منہ سے نکلی کچھ باتوں کو خود ہی دیکھ لیں اور فیصلہ کر لیں کہ موصوف نے کتنے بڑے بڑے بلنڈرز کیے ہیں اور اس کے باوجود بھی الزامات کا رخ اپنے سیاسی مخالفین کی طرف رکھتے ہیں۔ ذرا ملاحظہ کیجیے پلیز

اسامہ شہید ہے۔ سلپ آف ٹنگ
جاپان جرمنی ہمسائے۔ سلپ آف ٹنگ
حضرت عیسیؑ کا ذکر تاریخ میں نہیں ہے۔ سلپ آف ٹنگ
ٹیگوری اور خلیل جبرانی اقوال ادھر ادھر۔ سلپ آف ٹنگ
چین میں ٹرین روشنی کی سپیڈ سے بھی تیز۔ سلپ آف ٹنگ
92 سے 96 تک 7 سال کا عرصہ بنتا ہے۔ سلپ آف ٹنگ۔
آکسیجنی بیان۔ سلپ آف ٹنگ
مغلوں کی تاریخ پر ہاتھ صاف۔ سلپ آف ٹنگ
بارہ موسم۔ سلپ آف ٹنگ
پاکستانی فوج طالبان اور داعش کو تربیت دیتی رہی۔ سلپ آف ٹنگ
پاکستان سے ایران در اندازی ہوتی رہی۔ سلپ آف ٹنگ۔
نجم سیٹھی نے 35 پنکچرز لگائے اور عدالت میں کہہ دیا ” 35 پنکچرز والا میرا سیاسی بیان تھا“ ۔ سلپ آف ٹنگ
شہباز شریف پر رشوت کا الزام لگایا۔ (آج تک ثبوت نہ دے سکا) ۔ ”سلپ آف ٹنگ

بھارت شریف فیملی نے ہزاروں ارب منی لانڈرنگ کی۔ (اور اپنے ہی سٹیٹ بنک نے اس کی تردید کردی) ۔ سلپ آف ٹنگ

جنگ اور جیو کے مالک میر شکیل غیر ملکی فنڈنگ کے الزام پر عدالت گئے۔ وہاں میاں خلیفہ ثبوت نہ دے سکے۔ سلپ آف ٹنگ۔

بلاول صاحبہ۔ سلپ آف ٹنگ
مولوی ڈیزل۔ سلپ آف ٹنگ
اللہ میری تربیت نبیوں کی مانند کرتا رہا۔ سلپ آف ٹنگ
میں نے اللہ کو ہدایت دی۔ سلپ آف ٹنگ
خاتم النبین نہ کہہ سکنا۔ سلپ آف ٹنگ
”حقانی قبیلہ ہوتا ہے“ (حالانکہ دارالعلوم حقانیہ کے لکھے پڑھے ”حقانی“ کہلاتے ہیں ) )
اور اس کے علاوہ بھی بیسیوں سلپ آف ٹنگز🤑
موصوف ہوں تو سلپ آف ٹنگ اور اپوزیشن ہو تو ”آسمانی صحیفے“ ؟
اپوزیشن سے سلپ آف ٹنگ نہ ہو سکتی ہے؟

ایک پیمانہ ہونا چاہیے کہ میاں خلیفہ کے منہ سے نکلی ہر بات بھی آسمانی صحیفہ ہے۔ پھر پتا چلے گا کہ وہ کتنے مسلمان رہتے ہیں، غدار تو ایسے قرار پانے کہ؟

پیمانہ ایک رکھا جائے۔ ورنہ جو کل کائنات کے سامنے بار بار رب کا نام لے کر رانا ثنا اللہ کی ویڈیو تک نہ پیش کرسکے اور سال بھر اسے ناجائز جیل میں رکھا۔ اس کا حساب بھی دیں۔ یہاں نہیں تو جس رب کا نام لیتے رہے۔ وہ تو یہ حساب ضرور لے گا۔

اس شخص نے صاف ستھرے لوگوں کے ساتھ حکومت بنانے کی بات کی اور پھر بولا کہ
”میں فرشتے کہاں سے لاؤں“
اس شخص نے 126 روز کنٹینر پر چڑھ کر دنیا کو بتایا کہ
”میرا 22 سالہ تجربہ ہے اور میرے پاس ہر فیلڈ کے 200 ماہرین ہیں۔ میرے پاس زبردست ٹیم ہے“
اور پھر اسی کا منہ کھلا اور یہ کہتا ملا کہ
”مجھے ٹیم اچھی نہیں ملی ہے“

اس نے جنہیں چور اور ڈاکو کہا انہیں اپنے ہاتھوں سے نہ صرف اپنی حکومت میں اعلی ترین عہدے دیے بلکہ ان کی تعریفیں بھی ڈٹ کر کیں، جنہیں دہشت گرد اور ٹارگٹ کلرز کہا انہیں اپنی کابینہ کا حصہ بنا کر ”نفیس“ قرار دینے میں ذرا بھی دیر نہ کی، اس شخص نے چن چن کر نا اہل، کرپٹ اور نالائق لوگوں کو عہدے بخشے، دوستوں کو بیرون ممالک سے بلوا کر مشیر بنایا، اپنے وزیروں اور مشیروں کے اسکینڈلز پر ثبوت سامنے آنے کے باوجود منہ دوسری طرف پھیر لیا اور انصاف کرنے کے وعدے کر کے نہ صرف سانحہ ساہیوال کے معصوموں کو انصاف نہ دلوایا بلکہ اپنے وزیراعظم سواتی کے ہاتھوں غریب باجوڑی فیملی سے نا انصافی اور زیادتی پر بجائے قبائلی مظلوموں کی دادرسی کے اپنے سواتی کے کہنے پر آئی جی اسلام آباد ہی کو تبدیل کر دیا، اس کے دور میں ادویات، چینی، گندم، ایل این جی، پٹرول، رنگ روڈ اور PPSC کے شرمناک میگا اسکینڈلز آئے لیکن کسی ذمے دار کو ہاتھ تک نہ لگایا گیا، اس کے وزرا نے میرٹ کو کھلے عام پامال کیا، اس کی دھجیاں اڑائیں لیکن یہ شخص چپ رہا کہ احتساب کا ڈرامہ اس کا مرغوب کام ہے۔

اس کے آس پاس جعلی ڈگری وال بابر اعوان، عامر لیاقت، مراد سعید، سرور خان کی بھرمار ہے لیکن اسے پرواہ تک نہ ہے بلکہ اس کا جعلی ڈگریوں بارے میڈیا کو دیا جانے والا بیان ایسا حیرت انگیز رہا کہ لوگ دنگ رہ گئے تھے، یہ تب کی بات ہے جب کسی نے اس سے اس کی سابق اہلیہ ریحام خان کی جعلی ڈگری بارے استفسار کیا تو اس آکسفورڈ کے لکھے پڑھے نے عجیب بے حسی سے کہا تھا

”ریحام نے کون سا جاب کرنی ہے“

ایسی سوچ کیا خاک تبدیلی لا سکتی ہے؟ اس شخص کے منہ سے جب بھی کوئی بات نکلی تو قوم و ملک کو لینے کے دینے پڑ گئے اور یہ روزانہ کی بنیادوں پر ہو رہا ہے، یہ عدلیہ بارے لفظ ”شرمناک“ کہہ کر مکر جاتا ہے، یہ دوست ملکوں بارے غیرسنجیدہ بیانات داغتے ہوئے ذرا بھی نہ سوچتا ہے، یہ ہمسایہ ملکوں کو کرپٹ کہہ کر ان کو ناراض کرتا ہے، یہ سعودیہ اور ایران کے تاریخی اختلافات کی اونچ نیچ سمجھے بغیر ”ثالثی“ کا اعلان کر دیتا ہے۔

اس کے وزرا چین کے شروع کردہ سی پیک کے معاہدوں پر آتے ہی ”نظرثانی“ کرنے کا بیان غیرملکی اخبار میں داغ کر سب سے قریبی دوست کو ناراض کر دیتے ہیں۔ یہ ایک روز کسی تنظیم کو بھارتی فنڈنگ والی کہتا ہے اور اگلے روز پولیس کے فرض شناس جوانوں کو بہیمانہ طریقے سے شہید کرنے والی اس تشدد پسند تنظیم سے ”نامعلوم معاہدہ“ کر لیتا ہے۔ اسے نہ ڈالر بڑھنے کا پتا چلتا ہے اور نہ ہی معاہدے کرنے کا ، یہ کبھی مہنگائی کو وزیراعظم کی چوری سے جوڑتا تھا لیکن اب مہنگائی کے روزانہ کی بنیاد پر بم مار کر بھی اسے سکون نہ ملتا ہے بلکہ یہ کہتا پایا جاتا ہے کہ

”سکون تو قبر میں ہے“

یہ کنفیوزڈ شخص کبھی چینی ماڈل، کبھی سعودی ماڈل اور کبھی برطانوی ماڈل سے ”متاثر“ ملتا ہے اور 22 کروڑ لوگ اس کی طرف حیرانی و پریشانی سے دیکھتے رہتے ہیں کہ

آخر یہ شخص ہمیں کدھر لے کر جانا چاہتا ہے؟
22 سال کے بعد بھی اس شخص کو اپنی منزل کا پتا نہ چل سکا ہے؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments