مراقبے میں تاریکی سے روشنی کا سفر
میں نے جب آج سے کچھ برس پہلے مراقبہ کی پریکٹس کرنا شروع کی، تکنیک سے نابلد تھی، تو ۔ میں یو ٹیوب پر ریلیکسنگ میوزک لگا لیتی۔ آنکھیں بند کر کے بیٹھ جاتی۔ شروع شروع میں، مجھے محسوس ہو تا کہ میں سبز گھنے جنگلوں میں سے گزر رہی ہوں۔ ہاں بالکل ویسے ہیں جن میں پھنس جانے کی صورت میں ڈسکوری چینل پر بیئر گرل سروائیول کے طریقے بتاتا ہے۔ جنگل سے گزرتے گزرتے میں تاریکی میں چل جاتی۔ اور پھر گزرے واقعات کا ایک تسلسل شروع ہو جاتا۔
میں حال سے ماضی میں جا نکلتی۔ پرت کے پرت کھلتے۔ حساس چھوٹی سی بچی، چھوٹی چھوٹی باتوں پر دلگرفتہ ہونے والی، پتہ نہیں کس چیز کی تلاش میں بلکتی نظر آتی تو میں جھٹ سے آنکھیں کھول دیتی۔ مجھے لگنے لگا تھا یہ کوئی جادو نگری تھی، کیا اتنے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں انسان ریلیکس ہو جاتا ہے، خاک ریلیکس ہوتا ہے۔ گھبراہٹ طاری ہو جاتی اور میں کئی کئی مہینوں تک اس سرگرمی کو خیر باد کہہ دیتی۔
وقت گزرتا گیا، اب میں نے تکنیک سیکھ لی تھی، پھر کسی دن چھت پر آنکھیں بند کیے ، خود پر فوکس کرتی تو شروع میں، ہرے بھرے درخت، چشموں سے نکلتے پانی کا شور، ٹھنڈی ہوائیں چہرے پر محسوس ہوتیں، لیکن چلتے چلتے وہی اندھیری غار سامنے آتی تو میں گھبرا کر آنکھیں کھول دیتی، بس! بہت ہو گیا۔
اب میں نے گائیڈڈ میڈیٹیشن کا سہا را لینا شروع کیا، پھر خود کو ہلکا پھلکا کر کے، آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتی۔ چلتی سانسوں کی روانی پر توجہ دیتی۔ ماتھے سے پھوٹتی روشنی کے ہالے پر فوکس کرتی۔ اب کی بار میں خود کو نیلے سمندر کے کنارے کھڑا محسوس کرتی، منہ پر ٹھنڈی ہوا اور لہروں کے اڑتے چھینٹے محسوس ہوتے، لیکن پھر وہی تاریکی!
فیس بک کے لائیو سیشنز کے ذریعے بھی پریکٹس کرنے کی کوشش کی، لیکن اس میں کافی ناکامی ہوئی اس کی وجہ یہ تھی کہ فوکس کرنا مشکل ہوتا۔ نتھیا گلی میں سید علی حمید کے سیشن میں جب مراقبے کے لئے بیٹھی تو اس بار الگ ہی تجربہ ہوا۔ فطرت کے قریب شاید قدرت زیادہ ہی رہی رحمدلی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ آنکھیں بند تھیں، جسم وہیں کہیں اسی کمرے میں چھوڑ، یوں لگ رہا تھا میں پائن کے درختوں میں اڑتی پھر رہی ہوں۔ لیکن اس بار ڈور علی حمید کے ہاتھ میں تھی۔
چند لمحے ان درختوں اور پہاڑوں کا نظارہ کرتے کرتے، سمندر کا وہی کنارہ تھا اور اس کے پار وہی تاریکی۔ اب کی بار میں نے گھبرا کر آنکھیں نہیں کھولیں، بلکہ اس تاریکی میں ڈرتے ڈرتے پاؤں رکھ دیا۔ وہ تاریکی زد و کوب کر رہی تھی، ایک دم لگا جیسے دل پھٹ جائے گا۔ ہر وہ پتھر جو کہیں سے بھی آیا تھا، جسے کبھی ہنس کر سہ لیا تھا، وہ بھرپور شدت کے ساتھ چوٹ لگا رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے روح پر کچوکے لگ رہے ہوں۔ ابھی میں اسی تاریکی میں تھی کہ علی حمید نے واپس بلا لیا۔
آنکھیں کھولیں، اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ جس سے ہمیشہ میں آنکھیں چرا کر نکل آیا کرتی تھی آج میں نے وہ تجربہ کر لیا تھا۔ کچھ لمحوں بعد میں اپنے گائیڈ کے سامنے جا بیٹھی، ان کے سامنے بیٹھتے ہی آنکھوں سے موتیوں کی صورت آنسو نکلتے جا رہے تھے۔ میں کچھ نہیں بولی صرف اتنا پوچھا یہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟ مراقبے سے تو لوگوں کو سکون ملتا ہے مجھے یہ کن تاریکیوں میں لے جاتا ہے؟ میرے گائیڈ نے میرے ہاتھ کو سہلایا اور صرف اتنا کہا، اس کا سامنا کرنا سیکھو، اس تاریکی کو پار کرو گی تو روشنی نظر آئے گی ناں۔ اپنے آپ سے نظریں مت چراؤ۔ معاف کرنا سیکھو، خود کو معاف کرو۔ اس کے بعد میں نے خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کیا۔ حتیٰ کہ اس شام ساتھیوں نے باقاعدہ نوٹ بھی کیا کہ میں چمک رہی تھی۔
اگلے دن گائیڈ نے میڈیٹیشن کا جو موضوع چنا، وہ تھا دوسروں کو معاف کر دینا۔ نتھیا گلی کی رات تھی، خون کو جما دینے والی ٹھنڈ تھی، چاندنی رات تھی، ایک بڑے گراؤنڈ میں ایک مخصوص فاصلے پر ہم سب اپنے اپنے کشن پر بیٹھے تھے، سامنے ایک لالٹین پڑی تھی۔ جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر ، آنکھیں بند کرنے کو کہا گیا۔ کچھ لمحے قدرت کے تشکر میں گزرے، اور پھر کھڑے سب پائن کے درختوں، پہاڑوں، نیچر سے مثبت انرجی کا سوال کیا گیا۔ یوں ہم پینتیس کے قریب نفوس اپنے اپنے سفر پر نکل پڑے۔
اس بار نیلے سمندر کے کنا رے کھڑے کھڑے، نہ جانے کتنے لوگوں کے چہرے سامنے آئے، کسی کو معاف کیا، کسی سے معافی مانگی۔ محروم باپ کا چہرہ نمایاں ہوا، چھونا چاہا تو وہ مسکراتے مسکراتے سمند رکی ہوا کے ساتھ کہیں آگے نکل گئے، ہاتھ پر کسی کا لمس محسوس ہوا تو وہ میری ماں تھی، چہرہ دھندلاتا جا رہا تھا۔ کچھ دوست تھے، کچھ قریبی لوگ تھے، ہر وہ چہرہ تھا جس کی ذرا سی بھی یاد دماغ یا دل کے کسی کونے میں موجود تھی۔ آج کے سیشن میں سمندر کے اس پار مجھے تاریکی کی بجائے روشنی کا ہالہ نظر آ رہا تھا۔
اندر تک چیرتی ہوا، نرم ٹھنڈی ریت کو میں محسوس کر سکتی تھی۔ خود کو معاف کردینے یا کسی کو معاف کر دینا ایک دن کا کام نہیں، یہ ایک مستقل عمل ہے۔ لیکن اس دن میں سمجھی، دوسروں کو جب ہم معاف نہیں کرتے تو اس میں ان کا کچھ نہیں جا تا البتہ ایک بوجھ ہمارے دل پر ضرور سالوں تک پڑا رہتا ہے۔ میڈیٹیشن کی اس پریکٹس میں آج گائیڈ نے بانسری بھی بجائی، بانسری کی اس گونج میں جب میں واپس اپنے وینیو پر پہنچی تو میرے لبوں پر مسکراہٹ تھی، میں نے تاریکی کی اس غار کو عبور کر لیا تھا، جس سے نہ جانے میں کب سے گھبرا رہی تھی اور آج تو روشنی کو بھی قریب سے دیکھ لیا تھا۔ اس مثبت روشنی سے روزانہ کچھ شعاعیں اپنے اندر اتارتی ہوں۔



