کپتان اور بھٹو کے ایٹمی پلان کا آخری حصہ
بھارت نے جب 1974 میں پوکھران میں ایٹم بم کا تجربہ کیا تو دنیا چونک اٹھی۔ مگر اس ایٹمی دھماکے کا باقی دنیا سے کہیں زیادہ بڑا جھٹکا پاکستان کو پہنچا جو ابھی تین برس پہلے ہی بھارت سے شکست کھا کر آدھا ملک گنوا بیٹھا تھا۔ خوش قسمتی سے اس وقت ایک زیرک اور اولوالعزم سیاست دان ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کا وزیراعظم تھا۔ بھٹو نے ٹوٹے ہوئے حوصلے والی قوم سے ایک ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے اپنا لائحہ عمل بتایا اور کہا کہ ہم بھی ایٹم بم بنائیں گے خواہ ہمیں گھاس ہی کیوں نہ کھانا پڑے۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد یوں تو ڈاکٹر عبدالسلام نے ڈالی تھی جب انہوں نے پاکستانی سائنسدانوں کو نیوکلیئر فزکس کی تعلیم کے لیے مختلف اداروں میں بھیجا اور نیلور کے ایٹمی انسٹی ٹیوٹ میں ایٹمی ری ایکٹر لگایا۔ لیکن ایٹمی ہتھیاروں کی طرف پیش رفت جنوری 1972 میں ہوئی جب ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالے بمشکل ایک ماہ ہوا تھا۔
پھر پاکستان کی تاریخ کے اس سب سے بڑے منصوبے کا آغاز ہوا جسے امریکیوں نے ”بھیک میں مانگو، خریدو یا چرا لو“ کا نام دیا۔ ایک طرف بڑے بڑے سائنسدانوں کی ٹیم تھی جس میں ڈاکٹر منیر احمد خان، ڈاکٹر قدیر اور ان کے اٹامک انرجی کمیشن اور کہوٹہ لیب کے ساتھی تھے، دوسری طرف حکمران تھے جو مالی اور عملی مساعی میں مصروف تھے اور تیسری طرف وہ گمنام کارکن تھے جن کا نام کبھی سامنے نہیں آئے گا۔ انہوں نے جاسوسی سے لے کر خفیہ خریداری اور سمگلنگ تک کی۔ اس سلسلے میں سونے کی سمگلنگ کے بادشاہ کے طور پر مشہور سیٹھ عابد کا نام بھی لیا جاتا ہے کہ انہوں نے وہ پرزے پاکستان پہنچائے جو ویسے لانا ممکن نہیں تھے۔ بہرحال ان کے اور ان جیسے دوسرے ہیروز کو کبھی سرکاری طور پر نہیں سراہا جائے گا اور ان کے کارنامے بس سینوں میں محفوظ رہیں گے۔
کہتے ہیں کہ پاکستان نے جنرل ضیا کے زمانے میں ایٹم بم کا کولڈ ٹیسٹ یعنی لیبارٹری میں ٹیسٹ کر لیا تھا مگر دنیا کے سامنے ایٹمی دھماکہ مئی 1998 میں نواز شریف کے زمانے میں کیا گیا۔ نواز شریف نے پوری دنیا کے دباؤ اور مبینہ طور پر امریکی صدر کی بہت بڑی مالی پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے یہ دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں پاکستان ایک خفیہ سے علانیہ ایٹمی طاقت بن گیا۔
یوں قدرت نے بھٹو کے خواب کو نواز شریف کے ہاتھوں تعبیر بخشی۔
لیکن یہ سفر رکا نہیں۔ پاکستان نے پریسلر ترمیم سمیت بے شمار پابندیوں کا سامنا کیا اور ایٹمی ہتھیاروں کے بعد میزائلوں وغیرہ پر بھی کام کرتا رہا۔ اس کا ”بھیک مانگو، خریدو یا چراؤ“ والا پروگرام جاری رہا۔ بھٹو کا ایٹمی منصوبہ اب اپنے آخری مراحل میں ہے۔ اور یوں لگتا ہے کہ اس مرحلے کی تکمیل ایک صادق اور امین حکمران عمران خان کے ہاتھوں لکھی ہے۔ ممتاز مفتی اور اشفاق احمد کے بابے جو پیش گوئیاں کرتے رہے ہیں، لگتا ہے کہ وہ کپتان کے زمانے میں ہی پوری ہوں گی۔
بھٹو نے کہا تھا کہ ہم بھی ایٹم بم بنائیں گے خواہ ہمیں گھاس ہی کیوں نہ کھانا پڑے۔ ایٹم بم بن چکا ہے، اب پلان کے اس آخری حصے پر عمل کرنے کی سعادت قدرت نے کپتان کو بخشی ہے۔ معاشی حالات جس طرف جا رہے ہیں اور پٹرول وغیرہ کا جو ریٹ ہو چکا ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ اب کپتان قوم کو گھاس پر شفٹ کرے گا اور ”بھیک مانگو، خریدو یا چرا لو“ والی پالیسی کی حیرت انگیز کامیابی کو دیکھتے ہوئے قوم کو بھی اسے اپنانے پر راغب کرے گا۔ اس پالیسی سے ایٹم بم بن سکتا ہے تو قوم بھی بن سکتی ہے۔


