غیر حقیقی کردار۔ تیسری قسط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اگر الفاظ ان کہے چھوڑ دیے جائیں تو حادثات اور واقعات کا بہاؤ ساری زندگی کسی اور طرف رہتا ہے اور راستے میں پڑاؤ کرتے زندگی سے ہارتے ہوئے ہمیں اچانک ایک روز احساس ہوتا ہے کہ خاموشی کا بھی ایک مطلب تھا، وجہ تھی اور منطق تھا۔ مجھے نہیں معلوم ہم کسی کو اپنے بولنے کی وجہ سے پر کشش لگتے ہیں یا پھر اپنی خاموشی کی وجہ سے مگر اس سے بھی کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم کسی کو پر کشش لگیں یا نہ لگیں۔

شمعو، گھر میں بنائی ہر چیز پہ فخر سے یہ ضرور کہہ سکتی تھی کہ سب اس نے بنایا ہے۔ گھر کے تمام برتن، چارپائیاں، بستر، کھیس، خوبصورت چادریں، بڑے صندوق، اعلی سرہانے اور ان پہ چڑھائے جانے والے کڑھے ہوئے لحاف غرض کہ گھر میں استعمال ہونے والی ہر شے۔ میں سوچتی ہوں شمعو کے شوہر کی کوئی ذمہ داری نہ تھی کہ وہ اپنی عورت کو ہر ضرورت کی چیز خود لا کر دیتا اور اگر نہ لا کر دیتا تو کم از کم رقم اس کے ہاتھ پہ رکھتا تاکہ وہ جاکر بازار سے خرید لائے۔ مگر لگتا ہے وہ اپنی دھن میں زندگی بسر کر رہا تھا اور پھر تین تین بیٹیوں کا باپ ہونے کے ناتے تو اسے گھر میں کچھ بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔

شمعو کا شوہر گھر میں تھوڑا بہت جو بھی وقت گزارتا وہ خاموش رہتا۔ باہر کی خواتین یا مرد حضرات گھر میں آ کر جب یہ بتاتے کہ چاچا باہر تو بڑے مخولیے ہیں، سنجیدہ ہو کر پورے مجمعے کو ہنسا دیتے ہیں تو ہم سب ایک دوسرے کو دیکھتے اور دل ہی دل میں کہتے کہ لوگ کس قدر جھوٹ بولتے ہیں۔

بچپن سے ہمارے ذہن میں یہ بٹھایا گیا یا شاید یہ خود سے گھڑا ہوا خیال تھا کہ شمعو کا شوہر جب گھر آنے والا ہو تو دو لوگ بھی قریب قریب نہ بیٹھے ہوں سو اس کے آنے کے اوقات سے ذرا پہلے ہم سب گھر میں منتشر ہو جاتے۔ مجھے آج تک منتشر ہو جانے کی منطق سمجھ نہیں آ سکی ہاں یہ ضرور اندازہ ہے کہ شمعو کے شوہر کا سب کانشیئس بھی تو اتنا ہی کام کرتا ہو گا جتنا ایک عام انسان کا کرتا ہے تو کیا وہ ہمارے منتشر ہونے پہ ہنستا ہو گا یا زچ ہوتا ہو گا یا یہ اس کے لیے بالکل معنے نہیں رکھتا ہو گا۔

شمعو کا شوہر سال بھر کا اناج ایک ہی بار بڑے غلے میں ڈلوا دیتا۔ سال بھر کے لیے آلو، پیاز، گھی اور دودھ کا بندوبست اسی کا فرض تھا۔ صبح نہار منہ اٹھتا، لکڑیوں سے آگ جلاتا، چائے بناتا، آواز نکال نکال کر پیتا اور گڈوا اٹھا کر ڈیرے کی طرف چل نکلتا۔ گرمیوں میں اکثر جب ہم صحن میں چارپائیوں پہ سوئے پڑے ہوتے تو صبح صبح برتنوں کے کھڑکنے کی آواز سے آنکھ کھل جاتی تو اسے چائے بناتا دیکھتے اور پھر سو جاتے۔ اس کے بعد صبح جب ہم ناشتہ کر رہے ہوتے تو دودھ کا بھرا گڈوا لے کر وہ گھر آتا۔

گھر میں دو ہی بڑے کمرے تھے۔ ایک کمرے کا نام ابو کا کا کمرہ اور دوسرے کا نام امی کا کمرہ تھا۔

ان کے آتے ہی شمعو چائے کمرے میں بھجواتی اور پھر اس کے بعد مکھن کے بنے گرما گرم پراٹھے۔ یہ سب رکھنے کی ذمی داری میری ہوتی کیونکہ بہن بھائیوں میں، میں اس وقت سب سے چھوٹی تھی۔ یقیناً میرے سے پہلے میری دو بڑی بہنوں نے بھی یہ فرائض سر انجام دیے ہوں گے۔

شمعو کا شوہر ناشتا کرتا اور پھر ڈیرے پہ نکل جاتا اور اس کے بعد گیارہ بارہ بجے دن کا کھانا کھانے گھر آتا۔ اماں تندور تپواتیں اور میری اور میرے سے بڑی بہن آشی میں باری ہوتی کہ آج کون تپائے گا سو شمعو روٹیاں لگاتی اور ہاٹ پاٹ میں رکھ دیتی اور ہم پیاز مرچوں کی چٹنی بنا کر اس کے سامنے رکھ دیتے۔ اس کے بعد وہ قیلولہ کرتا اور پھر ڈیڑھ بجے اس کے لیے چائے بنتی جسے پی کر اور دوبارہ گڈوا اٹھا کر وہ ڈیرے پہ چلے جاتا اور پھر شام میں واپس آتا اور رات کا کھانا کھا کر پھر باہر بیٹھک پہ دوستوں کے ساتھ گپ شپ کے لیے چلا جاتا اور تب واپس آتا جب ہم سو چکے ہوتے اور اگر ہم جاگ رہے ہوتے تو اس کے آتے ہی ہم سونے کی اداکاری کرتے اصل میں سو جاتے۔

شمعو کے شوہر کی اس روزمرہ کے معمول کا بتانے کا مقصد محض یہ ہے کہ گھر میں دو جماعتیں تھی۔ شمعو اور بچے اور دوسری طرف اس کا شوہر۔ اور دونوں جماعتیں آپس میں کم ہی بات کرتیں تھیں جب تک کہ بات کیے بنا بات نہ بن سکے۔

سو ایک خاموش جماعت کے ساتھ بسر کرنے کے لیے ہماری رہنمائی ازخود ہوتی رہی اور ہم نے اسے بالکل اس کی اصل حالت میں قبول کر لیا تھا۔

شمعو کا ایک ہی جیٹھ تھا جو بالکل ہمارے ساتھ ہی حویلی میں رہتے تھا۔ جیٹھ کے تین بیٹے تھے۔ شمعو کا شوہر اپنے بھائی سے بہت پیار کرتا تھا اکثر ہم اس کی آنکھوں میں اپنے بھائی کے لیے پیار دیکھتے تو ہمارے پاس حسرت اور حیرت کے سوا کچھ نہ ہوتا۔

یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے بچپن میں خدا کی سب سے پہلی شبیہ جو مجھے سمجھائی گئی وہ کچھ اس طرح تھی کہ خدا بڑی داڑھی والے ایک بزرگ ہیں جو آسمان پہ بیٹھے ہیں اور ان کے سامنے گرم تیل سے تپا ایک کڑاہ پڑا ہے اور جب بھی کوئی بچہ کوئی غلط کام کرے گا تو وہ اسے بغیر ایک موقع دیے اس گرم کڑاہ میں پھینک دیں گے اور اس کڑاہ کے قریب بہت سے نومولود بچے پڑے ہیں جنہیں خدا وقتاً فوقتاً ہر گھر کی چھت پہ ضرورت کے مطابق پھینکتا رہتا ہے مگر خدا غصے کا بہت تیز ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments