واضربوھن، ایک لفظ پر کھڑی بیوی پر تشدد کی عمارت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب تک قرآن حکیم کے تراجم و تفاسیر کی ضرورت پیش آئی کوئی ایسی ایک باوثوق اتھارٹی نہیں تھی جو قرآن کے مبہم الفاظ یا مسائل پر کوئی حتمی فیصلہ دیتی، لہذا تراجم اور تفاسیر میں لکھنے والوں کی سوچ اور معاشرت کا عکس شامل ہونا شروع ہو گیا۔ بے شک علماء نے اپنے ادوار میں اپنے علم و فہم کے مطابق بہت محنت کی اور اپنے انتخاب کے دلائل بھی دیے۔ مگر اختلافات بہرحال رہے۔ فقہ میں بھی اختلافات کی وجہ یہی مقامی سماجیات اور حالات کا سوچ پر اثر انداز ہونا تھا۔

مالکی فقہ میں قبائلی سوچ حاوی ہے، حنفی فقہ نسبتاً ترقی یافتہ معاشرت میں وجود پذیر ہوا تو وہاں ایک مختلف سوچ ملتی ہے۔ اسی طرح جگہ اور ماحول بدلنے سے بھی سوچ کا تبدیل ہونا دیکھا گیا ہے۔ جیسے امام شافعی کا عراق سے مصر جانے کے بعد اپنے ہی مجوزہ فقہی مسائل پر نظر ثانی کرنا۔ پھر ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ہی دور اور سیاسی انتشار کا شکار ہونے کے باوجود لوگوں نے متضاد زاویے اپنائے جیسا کہ ابن تیمیہ اور مولانا روم۔

تو علم، ماحول اور دیگر عوامل کی بنا پر رائے میں تبدیلی، یا اختلاف رائے اسلامی تاریخ کا ہمیشہ سے لازمی جز رہا ہے کوئی انہونی چیز نہیں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ منگول حملوں کے بعد مختلف وجوہات کی بنا پر مسلمانوں نے خوفزدہ ہو کر تعلیم، تحقیق اور اجتہاد کے دروازے بند کر کے محض عبادات کے دروازے کھلے رکھنے پر زور دیا، اور وہ آدم جو فضیلت علم کی بنا پر مسجود ملائکہ ٹھہرایا گیا اسے باشعور انسان بنانے کے بجائے تسبیح و تقدیس کے ذریعے فرشتہ بنانے پر زور دیا گیا۔ ہم چونکہ ماضی پرست ہیں تو ہمارے لئے ماضی میں اختلاف رائے کرنے والے تو امام ٹھہرے مگر سوال اٹھانے اور علمی تحقیق کی حوصلہ شکنی کے لئے بعد میں اختلاف کرنے والوں کو کافر، ملحد و زندیق جیسے القابات کا سامنا کرنا پڑا!

قرآن کے عربی الفاظ تو الہٰامی ہیں مگر اس کا کوئی بھی ترجمہ الہٰامی نہیں کہلا سکتا کیونکہ ہر ترجمہ یا تفسیر ایک انسانی ذہن کے فلٹر سے گزرنے کے بعد مترجم کے زمان و مکان کے مختلف عوامل کا عکس لئے ہوئے ہوتی ہے۔ اور قرآن کے قاریوں کے ساتھ ایک نا انصافی یہ بھی ہوئی کہ گو کتاب مرد و عورت دونوں کے لئے برابر اتری، مگر صرف ایک ہی صنف کو اپنے زاویہ نگاہ اور فہم و فراست کے اظہار کا شرف حاصل ہوا۔ اور آج بھی خواتین کے تمام تر مستند دلائل کے باوجود نہ صرف کسی مرد کا کہا ہی حرف آخر مانا جاتا ہے، بلکہ عورت کا روایت سے ہٹ کر اظہار خیال طنز و تذلیل بلکہ خطرے کو بھی دعوت دینے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

بہرحال علم اور تحقیق کے دروازے سوچنے والوں پر بند نہیں کیے جا سکتے۔

لہذا جب سورہ نساء کی آیت 34 کا ترجمہ پڑھا تو ہر عورت کی طرح ایک اضطراب ضرور رہا، مگر پھر خود تحقیق شروع کی تو بہت راز کھلے۔

اس کی ایک وجہ تو یہ نظر آتی ہے کہ روایتی تفاسیر میں خواتین سے متعلق معاملات میں atomistic approach، یعنی جز کو کٌل سے علیحدہ کر کے دیکھنا بہت واضح نظر آتا ہے، بالمقابل Substance approach کے جس میں جز کا مقام کٌل کے ساتھ مطابقت یا اختلاف کے ضمن میں دیکھا جائے۔ قوام کا معنی بیان کرنا ہو، مرد کا درجہ اونچا ہونے کا ، یا احزاب میں پردے کی بات ہو کل میں اس کے معنی جز سے قطعی مختلف ہیں۔ مگر جن کے ہاتھ قلم تھا انھوں نے اختیار کا بھی بھرپور استعمال کیا۔

ملوکیت اور بادشاہت میں استبداد اور جبر معاشروں کا عام چلن ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں مرد بھی خوف کے سائے میں زندہ ہوں، عورت کو تشدد کے ذریعے دبا کر رکھنا معروف عمل کے زمرے میں ڈالنا کوئی معیوب کام نہ سمجھا گیا۔ ایسے معاشروں میں جب لکھنے والے کے پس ذہن عورت کو ایک محکوم اور کمتر مخلوق ثابت کرنا ہو اور مرد کو حاکم، تو لاعلم کے سامنے بات کا رخ اپنی من مانی سمت موڑنا کوئی مشکل کام نہیں۔

ایسا ہی کچھ لفظ ضرب کے معنی کے ساتھ بھی ہوتا محسوس ہوتا ہے، آیت کے مصالحتی مزاج کی نسبت مجرد الفاظ کی لفظی تفہیم پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ یہاں گرامر کی باریکیاں موضوع بحث نہیں۔ یوں بھی قرآن میں بہت جگہ موزوں فہم کو گرامر کے تابع کیا گیا ہے نہ کہ گرامر کے نکات کو فیصلہ کن اور حتمی قرار دیا گیا ہو۔ ہر زبان کی طرح عربی میں کئی الفاظ کثیر الامعنی ہیں مگر مختلف معنوں میں سے کون سا انتخاب موزوں ترین ہو گا، اس ضمن میں بے شک علماء کا کام قابل تحسین ہے۔

مگر مزاج شناسی، زبان شناسی سے ایک مختلف زاویہ ہے۔ قرآن کا بھی اپنا ایک مزاج ہے جو تدبر کرنے والا بخوبی محسوس کر سکتا ہے۔ مگر روایتی تفاسیر میں کہیں کہیں الفاظ کی درست تشریح کی کوشش میں قرآن کا مزاج یا روح نظرانداز ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً طلاق کے معاملات کو ایک خاص مدت پر پھیلانے کی حکمت کو پس پشت ڈال کر اسے چند منٹوں میں نمٹا دینے والا عمل بنا دینا الفاظ سے تو وفاداری ظاہر کرتا ہے مگر کیا قرآن کے مزاج کی نفی نہیں کرتا! اسی طرح سورہ نساء کی آیت 34 میں واضربوھن میں بھی حکمت کے بجائے حاکمیت کے جواز ڈھونڈنا قرآن کے مقصود اور مزاج کے برخلاف محسوس ہوتا ہے!

سوال یہ ہے کہ لفظ ضرب جس کے عربی لغت میں بیس سے بھی زائد معنی ہیں اور خود قرآن میں تقریباً 17 سے زائد معنوں میں استعمال ہوا ہے اس میں سے صرف ایک ہی معنی لینے کی کیا توجیہات ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے یہ آیت اپنے وقت سے بہت آگے کی آیت تھی۔ بالکل ایسے ہی جیسے وراثت میں عورت کا حصہ، تجارتی لین دین میں صرف مرد نہیں عورتوں کو بھی گواہ بنانے کے قابل سمجھنا، عورت کو ناخوشگوار شادی کے بندھن سے بلاضرر نکلنے کا اختیار دینا۔ پدر سری معاشروں میں عورت سے برابری کی سطح پر مہذب تعلقات کی بات کرنا شاید بہت زود ہضم نہیں رہا۔ لہذا تراجم میں الفاظ کے ابہام کو ہی غنیمت جانا گیا!

تین جگہ جہاں ضرب واضح طور پر کسی ’انسان‘ کو مارنے کے معنوں میں آیا ہے وہاں مارنے کا مقام یعنی چہرہ، گردن، کمر، انگلیاں وغیرہ اور مار کی شدت واضح کی گئی ہے۔ ان میں سے دو مقام یعنی سورة محمدﷺ آیت 4، سورة الانفال آیت 12 میں یہ میدان جنگ کی مار ہے اور الانفال ہی کی آیت 50 میں گناہ گاروں کی روح قبض کرتے فرشتوں کی مار کے لئے بھی ضرب کا لفظ ہے۔ یعنی سخت ترین ماحول اور سنگین ترین جرائم پر مار کے لئے لفظ ضرب!

تو قرآن جہاں بھی ’انسان‘ کو ضرب لگانے کا ذکر کرتا ہے اس کے لئے جسم کے کس مقام پریا پھر ضرب کی شدت بیان کرتا ہے، جس کا آیت 34 کے ضرب میں ادنی سا بھی اشارہ نہیں۔ کیونکہ اگر قرآن کے مزاج میں گھر کو میدان جنگ بنا کر ہی مسئلے کا حل ممکن ہوتا تو بیشک ایسی تصفیہ کن، پرتشدد مار ہی حل تھی کیونکہ تادیبی ”ہلکی پھلکی“ مار کے لئے یہ لفظ بہرحال قرآن میں تو استعمال نہیں ہوا لہذا دینی حمیت کا تقاضا یہی ہے کہ اس کو پھر اسی بھرپور معنی میں لیا جائے ہلکی مار کی مہربانی پر قیاس کر کے تو مرد مومن معنی میں تحریف کے مرتکب ہو جائیں گے!

اگر ایسا معقول نہیں لگتا تو کیوں؟ اس لئے کے قرآن کا مقصود ہے کہ میاں بیوی کے مابین مودت کا تعلق رہے، اور کسی قسم کے تشدد کا ماحول اس مقصد کے حصول کے لیے زہر قاتل ہے، اور کتنے ہی دلائل ہوں، ایسے مہلک زہر کو تریاق بنانے کے تجربے خطرناک یا جان لیوا ہی ثابت ہوتے ہیں۔

تو آخر اس ایک لفظ مار پیٹ کو ہی کیوں موزوں مانا گیا، کیا رہنمائی سیرت سے لی گئی، قرآن کی دیگر آیات سے، یا پھر سماجی رویوں سے۔ جواب واضح ہے! قرآن کے ابہام کو سمجھنے کے لئے تفسیر بالقرآن ہی بہترین دلیل ہے۔ روایات کتنی ہی مستند ہوں، سیاق و سباق کا اندازہ لگانا ناممکن ہے، لہذا تنہا ان کے اوپر اصول وضع نہیں کیے جا سکتے۔ تو نہ تو دیگر قرآنی احکام سے نہ ہی سیرت نبیﷺ سے اس معنی کی کوئی توجیہ ملتی ہے۔ اور ایسا نہیں کہ نبی ﷺ پر ایسا وقت نہیں آیا۔

شاید مقصد سیرت میں اس آیت کو عملی طور پر دکھانا مقصود ہو۔ ورنہ نبیﷺ جیسی ذات اور ازواج مطہرات جیسی خواتین کے مابین تو مثالی تعلقات کی ہی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ مگر یہ جان کر مسرت ہوئی کہ نبیﷺ اور ان کی ازواج کے بشری تعلق پر قرآن کوئی پردہ نہیں ڈالتا کہ مقصد امت کی تربیت انسانوں کے ذریعے تھی نہ کہ فرشتوں کے ذریعے۔ تو پھر رسول اللہﷺ نے اپنے عمل سے کیا ثابت کیا، آپ نے وہی کیا جو اللہ حکم تھا یعنی پہلے نصیحت، پھر آپ نے اپنے اور اپنی ازواج کے درمیان فاصلہ قائم کیا، اور پھر فاصلے کو ہی زماں اور مکان میں طوالت دی اور گھر سے باہر کچھ عرصہ قیام کیا۔

اگر ضرب کا مطلب یہاں انھیں (جز وقتی طور پر ) تنہا چھوڑ دو کے بجائے انھیں مارنا ہوتا اور وہ بھی صیغہ امر میں تو کیا صرف اس لئے کہ یہ آپ کی طبع کے لئے کراہت آمیز کام تھا، معاذ اللہ آپ نے حکم الہی سے روگردانی کو بہتر جانا، کیوں آپ نے امت کی تربیت کے موقع کو گنوا دیا۔ ظاہر ہے ایسا نہیں تھا، کیونکہ جو اصل معنی تھا وہ آپ نے حکم الہی پر عمل کر کے صاف واضح کر دیا۔

اختلاف کی صورت میں ہر فقیہ کا یہی موقف ہوتا ہے کہ قرآن کے دیگر احکام اور سیاق و سباق والی آیات کو مدد نظر رکھا جائے، اور ان کی سنت رسول سے مطابقت دیکھی جائے۔ تو یہ اصول آیت 34 کے لئے کیوں نہیں۔ سورۃ بقرہ کی آیت 231 میں قرآن بیویوں کو طلاق کے مطالبے پر کوئی بھی ضرر دینے سے سختی سے روکتا ہے اور ایسا کرنے والوں کو خاسرین کہتا ہے۔ جب قرآن ایک طرف طلاق لینے والی بیوی کو تکلیف دینے والے کی مذمت کرے تو دوسری طرف شادی بچانے کے لئے بیوی کو مارنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے!

یعنی ضرر سے بچنے کے لئے طلاق موزوں اور شادی بچانے کے لئے عورت مار کھانے کا ضرر سہے! تو ترجمے کا یہ اختلاف تو ضرر سے بچنے کے لئے طلاق کا راستہ بہتر بتا رہا ہے! دیگر مذاہب کے برعکس جب اسلام میں ناموافقت کی صورت میں طلاق اور خلع کا دروازہ کھلا ہے تو غیر مہذب مار کے ذریعے کسی کو قابو میں رکھنے کا کیا جواز۔ اس کو غلامی تو کہا جا سکتا ہے شادی نہیں۔

کسی غلط عمل کا علم یا اندیشہ ہونا تو سب سے پہلی سٹیج ہے جس پر غصہ شدید ہوتا ہے اور جہاں زد و کوب کے ردعمل کا جواز بھی سمجھ آتا ہے، مگر قرآن اسی جذباتی ترین سٹیج میں ایک مہذب طریقے سے آغاز کرتا ہے، وہی جو آج کی مہذب دنیا میں کونسلنگ کہلاتی ہے، یعنی ناچاقی میں پہلے بات چیت فعظوھن، پھر گھر کے اندر ہجر، دوری واھجروھن، جو قرآن دوسری سٹیج دیتا ہے اور پھر اسی ہجر میں شدت اور اضافہ، واضربوھن، جو فائنل سٹیج ہے جہاں فاصلے اور وقت میں ہی طوالت ہے جیسا کہ طلاق کے معاملات میں قرآن کا موقف ہے۔ یہ وقتی علیحدگی ہی ثابت کرے گی کے اسے جز وقتی ہی رکھا جائے یا کل وقتی کیا جائے، جو اگلی شقاق کی آیات سے کلی مطابقت رکھتا ہے۔

نشوز کا لفظ مرد اور عورت دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ عورت کے نشوز کے معنی تو تمام سنگین قسم کے جرائم ہوں مگر مرد کا نشوز محض بدسلوکی، تو یہ سب تراجم کی کرامات ہیں۔ نشوز کے معنی ابھرنا، اوپر اٹھنا کے ہیں، اور جن علماء نے نشوز بمعنی ناجائز ضد، عناد، یا حاکمیت جتانے کے معنوں میں لیا ہے تو یہ معنی میاں بیوی کے مابین تعلقات کی نوعیت سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔ کہ جب ایک دوسرے کا لباس قرار پائے تو حاوی ہونے کا زعم کیسا۔

طلاق کی وجوہات کو دیکھا جائے تو ایک فریق کی فحاشی یا بدکرداری کے علاوہ بھی بے بہا عوامل ہوتے ہیں۔ لہذا نشوز کو صرف فحاشی کے معنوں میں لینا اس کا دائرہ کار محدود کرنا ہے۔ اگر نشوز کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی ہے تو یہ کیسے طے کیا گیا کہ کس نشوز پر مار پیٹ جائز ہے۔ علماء کو ٹوتھ برش اور پنسل جیسی مضحکہ خیز تاویلیں دینے کی ضرورت بھی اسی لئے پیش آتی ہے کہ وہ انسانی ترجمے اور تفسیر پر نظرثانی کرنے کو قرآنی الفاظ کی تبدیلی کے مترادف سمجھتے ہیں اور انسانی فہم پر مبنی تراجم کے خلاف جانا گناہ عظیم سمجھتے ہیں۔

اب جب گلوبل معاشرے میں عورت پر ہاتھ اٹھانا جرم بن چکا ہے، تو تادیب کے لئے بھی یہ ایک معروف نہیں بلکہ منکر عمل بن چکا ہے، جس پر کسی انسان کو جسمانی ایذا دینے والی حد نافذ ہونی چاہیے۔ ’وعاشروھن بالمعروف‘ یعنی بیویوں کے ساتھ معروف، یعنی زمانے کے مانے ہوئے احسن چلن کے مطابق رہو۔ لہذا اب اس کی ادنی درجے میں بھی حمایت قرآن کی روح اور مزاج کے خلاف جاتا ہے۔

قرآنی ترجمہ و تفسیر بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔ اس میں استحسان کو پیش نظر رکھنا بھی بہت اہم ہے۔ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کسی خاص معنی کو لینے سے سماج پر اس کے کیا اثرات ہوں گے، اور تاریخ گواہ ہے کہ اس ایک لفظ کی اجازت کیا ظلم ڈھاتی رہی ہے اور ڈھا رہی ہے وہ کسی سے چھپی نہیں۔ لندن کے مسلم گھرانوں میں تشدد کی موجودگی پر ایک چشم کشا تحقیقی مقالہ نظر سے گزرا، جس میں عورتوں میں تشدد پر صبر اور مردوں کو تشدد کرنے کی چھوٹ کا سبب اسی آیت کو اللہ کی اجازت اور منشاء ماننا تھا!

مگر اب جو سب سے خطرناک سماجی رویہ دیکھنے میں آ رہا ہے وہ نئی نسل کی بچیوں کا دین سے بیزاری اور متنفر ہونا ہے۔ باوقار زندگی ان کا دینی حق ہے اور اگر مسلم معاشرے اس میں فیل ہوتے رہے تو اور مہذب معاشروں کے دروازے کھلے ہیں۔ خدارا! وہ عریانیت یا جنسی آزادی نہیں مانگ رہیں صرف عزت و وقار سے جینے کا حق مانگ رہی ہیں۔ مغربی ممالک میں رہنے والی بچیوں کا رویہ تو سمجھ آتا ہے، سعودی عرب میں بھی جب کوئی اٹھارہ، بیس سال تک کی بچیوں کو انگریزی کورس کرانے کا اتفاق ہوا تو معصوم، پردہ دار بچیوں کی حد درجہ مرد بیزاری اور دینی مسائل پر اظہار خیال کرتے وقت لہجے کی کڑواہٹ نے نہ صرف دکھی کیا بلکہ وہ ایک ریڈ فلیگ دکھائی دیا۔

مگر کیا الفاظ کی تبدیلی سے تشدد ختم ہو جائے گا۔ نہیں ایسا بالکل نہیں ہے۔ کم یا زیادہ یہ تمام معاشروں میں بہرحال موجود ہے، مگر مذہب اور معاشرہ کسی ادنی درجے میں بھی اس کی مذمت کرنے کے بجائے اس کی حمایت کرے تو پھر تشدد نہ کرنے کے لئے کوئی بڑے سے بڑا جواز بھی قابل قبول نہیں رہتا۔

آج مسلم خواتین یہی سمجھنا چاہتی ہیں کہ میاں بیوی کے معاملات میں دیگر سب مقام پرتو قرآن رواداری، برداشت اور مودت کا درس دیتا ہے، مومن کو محسن اور کاظم (غصہ پی جانے والا) کہتا ہے تو لفظ ضرب کا ترجمہ باقی رویوں سے کسی طور مفاہمت رکھتا نظر نہیں آتا۔ تو اس ایک لفظ کو اس ساری تصویر میں کہاں اور کیسے فٹ کیا جائے۔ لہذا وہ آواز اٹھا رہی ہیں، سنت رسولﷺ کو زندہ کرنے کے لئے، منکر کو معروف سے بدلنے کے لئے!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments