صحافت کا ایک معتبر نام رخصت ہوا


بہاول پور کے معروف صحافی، سابق صدر پریس کلب جناب اسلام ضمیر سے محبتوں اور احترام کا رشتہ تھا۔ صحافت میں میرے قابل احترام استاد تھے۔ بہاول پور کی صحافت کا ایک معتبر نام تھے۔ اسلام ضمیر صاحب جمعہ کو وفات پا گئے ہیں، انا اللہ وانا اللہ راجعون۔ ان سے جڑی یادوں بالخصوص بہاول پور کے لئے ان کی خدمات کے حوالے بات کرنا چاہ رہا ہوں لیکن اس سے پہلے بہاول پور پر بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ بہاول پور کے بارے میں یہ بات زبان زدعام ہے ہے کہ بہاول پور میں جو بھی آیا، اداس ہو کر آیا کہ دور جا رہا ہوں۔

بات بھی درست ہے کہ بہاول پور پنجاب کا آخری ڈویژن ہے۔ یہ بات بھی درست ہے۔ ادھر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ وہ بڑے شہروں کی طرف جائیں۔ لیکن دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے کہ جب وہی اداس شخص بہاول پور کی دھرتی پر دھرتی پر قدم رکھتا ہے، اس کا پانی پیتا ہے، اور بہاولپور دھرتی کے لوگوں سے ملتا ہے تو اس کی رائے یکسر تبدیل ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ مختصر وقت میں بہاول پو راس کو اپنی محبتوں اور احترام کے رشتوں میں گھیر لیتا ہے۔

بہاول پور کو جنوب میں یہ اعزاز حاصل ہے کہ محبتوں کی دھرتی ہے، لوگ ملنسار ہیں، انسان دوست ہیں، پڑھے لکھے یوں ہیں کہ نواب آف بہاول پور نے اپنی عوام کی زندگی میں خوشحالی اور ترقی دیکھنے کے لئے جہاں اور فلاحی اقدامات کیے۔ وہاں اس بات بھی کا خاص خیال رکھا کہ بہاول ریاست میں اعلی پائے کے تعلیمی ادارے ہونے چاہیں تاکہ ریاست بہاول پور کے لوگ علم کے زور پر دنیا کا مقابلہ کرسکیں۔ نواب صاحب اس مزاج کے مالک نہیں تھے کہ ریاست کی عوام کو علم کے دریا سے دور رکھ کر اپنی حکمرانی کا عرصہ طویل کیا جائے بلکہ وہ اپنی رعایا کے لئے اسی تعلیم کا بندوبست کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے جو کہ وہ اپنے بچوں کے لئے پسند کرتے تھے۔

ادھر قیام پاکستان کے وقت ریاست بہاول پور کے نواب صاحب اور عوام نے دو ٹوک انداز میں ریاست بہاول پور کو پاکستان میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ پھر بات صرف اعلان تک محدود نہیں رکھی۔ ایک خوشحال ریاست بہاول پور کے نواب کی حیثیت میں آگے بڑھے اور اپنی ریاست کے وسائل اور خزانہ پاکستان پر قربان کر دیا، پاکستان ملازمین کے لئے تنخواہوں سے لے کر دیگر اخراجات کے لئے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نواب آف بہاول پور کو محسن پاکستان کی حیثٰیت میں یاد کرتے تھے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ نواب آف بہاول پور نے صرف قیام پاکستان کے لئے نعرے نہیں لگوائے بلکہ عملی اقدامات اٹھائے اور درکار اخراجات میں دریا دلی کا مظاہرہ کیا۔ ادھر ریاست بہاول پور کے لوگ بھی پاکستان کے لئے سب کچھ دان کرتے گئے۔ یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ یوں بہاول پور کی محبتوں کی اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا ہے۔ بہاول پور کے لوگ قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان کے لئے محبتیں رکھتے ہیں۔ اس بات کے باوجود کہ ریاست پاکستان اور حکومتوں کی طرف سے بہاول پور کی محبتوں کا حق ادا نہیں کیا گیا ہے۔

جہاں بہاول پور کے لوگ ون یونٹ کے بعد بہاول پور صوبہ بحال نہ کرنے پر نالاں ہیں، ناراض ہیں اور آج تک ہیں۔ اور دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہاول پور کے محبتوں کے قرض کو منافع چھوڑیں اصل کے ساتھ بھی واپس نہیں کیا گیا ہے۔ بہاول پور کی دھرتی اور عوام کی زندگی دریا ستلج کی بھارت کو بیچنا تو تباہی کر گیا۔ پھر بہاول پور کے لوگ پانی کے لئے ترس ر ہے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ پچھلے دنوں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا کہ دنیا کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ دشمن کو دریاء بیچے گئے ہوں لیکن یہاں بھارت جیسے بدترین دشمن کو دریائے ستلج بیچ دیا گیا اور بہاول پور کے عوام کو دریا ستلج ایک ریت کے دریا کی شکل میں دیدیا گیا۔ افسوس صد افسوس۔ کیا ریاست اور حکومت ایسے ماں کی جیسی ہوتی ہے کہ بہاول پور کے لوگ اب زرعی زمینوں کے لئے چھوڑیں، پینے کے پانی کو ترس ر ہے ہیں؟ اب میں بہاول پور کے ایشوز کے بعد جیسے میں نے کالم کے ابتداء میں کہا تھا کہ بہاول پور دھرتی کے فرزند، معروف صحافی، سابق صدر پریس کلب اسلام ضمیر صاحب سے جڑی یادوں پر بات کرنا چاہ رہا ہوں۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ بہاول پور کے صحافیوں بالخصوص اسلام ضمیر صاحب جیسے مخلص اور خوددار صحافیوں نے بہاول پور کے حقوق کے لئے حق ادا کیا۔ اسلام ضمیر صاحب کا شمار ان قابل احترام سینئر صحافیوں ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا جو کہ عوام کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ بہاول پور کے بیٹے کی حیثیت میں اس کے استحصال کے خلاف آواز اٹھائی لیکن لوگوں کو پرامن جدوجہد کا درس دیا جو کہ ان کے بحیثیت صحافی کردار کو اور نمایاں کر تا ہے۔ جمعہ کو اسلام ضمیر کی موت کی خبر نے چونکا دیا، یقین نہیں آیا کہ واقعی ایسا ہو چکا ہے۔

یوں اس پریشانی کے عالم میں ان کے چھوٹے بھائی خالد ضمیر کو وٹس اپ پر میسج بھیجا کہ خالد بھائی اسلام ضمیر صاحب خیریت سے ہیں؟ میرا خیال تھا کہ ان کو جواب آئے گا کہ خضر بھائی ٹھیک ہیں۔ تھوڑی طبعیت خراب ہوئی تھی۔ آپ کو پتہ تو ہے، احتیاط نہیں کرتے ہیں لیکن اب چیک اپ کرایا ہے۔ اسلام بھائی کی طبعیت سنبھل گئی ہے۔ اور ویسا کہیں گے جیسے وہ پہلے کہتے ہیں کہ خضر بھائی تھوڑی دیر بعد آپ کی بات بھی کرا دوں گا لیکن اس بار ایسا ان کا کوئی جواب نہ آیا تو بے چینی بڑھ گئی۔

اس دوران خالد بھائی کے فیس بک پیچ پر نظر پڑی تو ان کی طرف سے دوست و احباب اور خاندان کے افراد کو دکھ اور غم کے ساتھ یہ اطلاع دی گئی تھی کہ میرے باپ جیسی ہستی، بھائی اسلام ضمیر انتقال کر گئے ہیں۔ میں خالد بھائی سمیت ان کے خاندان کے دکھ اور غم کی کیفیت کو سمجھ سکتا تھا۔ خالد بھائی کے لئے ایک بڑا صدمہ یوں تھا کہ وہ ہمہ وقت اکٹھے ہوتے تھے۔ اسلام ضمیر صاحب نے جب بھی اسلام آباد آنا، ان کی کال آتی کہ خضر کہاں ہو، میں عرض کر تاکہ اسلام صاحب اس کا مطلب ہوا کہ آپ اسلام آباد تشریف لا چکے ہیں۔

ساتھ ہی طے ہوتا کہ فلاں جگہ اکٹھے ہو ر ہے ہیں۔ اس محفل میں خالد بھائی بھی شامل ہوتے۔ پچھلی ملاقات جو کہ اسلام آباد میں ہوئی، وہ بہت یادگار تھی، سنجیدہ ایشوز کے ساتھ قہقہہ ہے بھی چلے۔ ہنستے مسکراتے ہوئے رخصت ہوئے۔ اسلام ضمیر صاحب سے میرا رابط رہتا تھا۔ جب ان کی کال نہ آتی تھی تو میں فون کر کے ان کی خیر خیریت سمیت سیاست کے بدلتے تیور پر ان سے کہانی کو سمجھنے کے لئے رابط کر لیتا تھا۔ وہ صاحب رائے تھے۔ پچھلے دنوں ان کا شام کو فون آیا، کافی دیر اسلام آباد اور پنڈی میں جاری کشمکش پر بات ہوئی، میری اپنی رائے تھی لیکن انہوں نے کہا خضر لکھ لو، کراچی والا آئے گا، یہ سب کہانی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے زندگی گزاری ہے، صحافت، سیاست اور طاقت کے مراکز کو قریب سے دیکھا ہے۔ سیاسی نعرے اور بلند و بانگ دعوے عوام کے لئے ہوتے ہیں۔ اسلام ضمیر جنوب کی صحافت کا بڑا نام تھے۔ اپنی محنت کے بل بوتے پر انہوں نے یہ مقام حاصل کیا تھا۔ اسلام ضمیر صاحب کے لئے ڈھیر دعائیں، اور آپ سے بھی دعاؤں کی درخواست ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments