کیا عمران خان کی حکومت واقعی مارچ میں جا رہی ہے؟
یہ بات اظہر من الشمس ہے۔ کہ بچپن کے دن بڑے حسین اور دلچسپ ہوتے ہیں۔ سکول سے واپس آنے کے بعد دوستوں کے ساتھ سیر کو نکل جاتے۔ کبھی پارک میں اور کبھی مداری کا تماشا دیکھنے پہنچ جاتے تھے۔ آج سے پچاس سال پہلے کے دنوں کو آج بڑے بوڑھے بڑی حسرت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ اور آہیں بھرتے ہیں۔ کتنے خوبصورت دن ہوا کرتے تھے۔ امن اور سکون کا گہوارہ۔ پارک میں جھولے جھولنا اور درختوں پر چڑھ کر کچی خوبانیاں اور آلوچے توڑ کر جیب بھر لینا زندگی کا مقصد ہوتا تھا۔
شام کو گھر واپس لوٹتے تو گھر والوں سے اچھی خاصی ڈانٹ سننے کو ملتی۔ اس زمانے میں کبھی کبھار ایک سینڈو ہمارے محلے میں مجمع لگا کر مختلف کرتب دکھایا کرتا۔ وہ شروع میں چھوٹے موٹے کمالات دکھاتا۔ اور اپنا اہم کرتب آخر کے لئے بچا کر رکھتا۔ اسی دوران وہ دانتوں کا منجن اور سانڈھے کا تیل وغیرہ بیچ کر پیسے بنا لیتا تھا۔ پورا مجمع اس کا آخری ایونٹ دیکھنے کی خاطر اختتام تک جم کر کھڑا رہتا۔
جس طرح سینڈو لوگوں کو آخر تک کھڑا رہنے پر مجبور کرتا تھا۔ اسی طرح آج ہمارے بعض یوٹیوبرز بھی اپنے ویلاگ کی کسی اہم خبر کو آخر کے لئے سنبھال کر رکھتے ہیں۔ ان کا واحد مقصد دراصل یہ ہوتا ہے۔ کہ دیکھنے اور سننے والا ویلاگ آخر تک دیکھے۔ تاکہ ان کا ویو ٹائم بڑھے۔ اور ایک تگڑی رقم وصول ہو۔
ایک معتبر صحافی اور کالمسٹ نے چند روز قبل اپنے ویلاگ میں ملک میں بننے والے نئے سیاسی سیٹ اپ اور اس کے متوقع سربراہ کے بارے میں ایک خبر بریک کی ہے۔ بقول ان کے مارچ 2022 میں ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے پرویز خٹک نئے وزیراعظم کا منصب سنبھالیں گے۔ اور اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کا ڈول ڈالیں گے۔ جس کا انعقاد جون یا جولائی میں ہو سکتا ہے۔ میں نے ان کا ویلاگ بڑی توجہ سے سنا مگر ان کی یہ بات دل کو نہیں بھائی کہ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے۔ خواہ وزیراعظم کا منصب پارٹی کے کسی دوسرا فرد کے پاس ہی کیوں نہ ہو۔ ساتھ ہی وہ فرماتے ہیں۔ پرویز خٹک وزیراعظم بنتے ہی نئے انتخابات کی طرف جانا چاہیں گے۔ اس طرح تو حکومت کی ٹرم پوری ہونے سے رہی۔ دوسری اور سب سے اہم بات یہ ہے۔ پرویزخٹک جیسا گھاگ سیاستدان وزیراعظم کی کرسی پر اگر بیٹھتا ہے۔ تو کیا اتنی آسانی سے یہ عہدہ چھوڑ دے گا۔
ہرگز نہیں ان کی پوری کوشش ہوگی۔ کسی طرح 2023 تک حکومت برقرار رہے۔ اور وہ معیشت کا پہیہ رواں داں رکھنے کے لئے اپنی صلاحیتیں صرف کریں۔ وزیراعظم جیسا پرکشش منصب بار بار کسی کو نہیں حاصل ہوتا۔ دوسری اور اہم بات یہ ہے۔ اگر اسمبلی برخواست کر کے نئے انتخابات کی طرف جانا ہی مقصود ہو۔ تو یہ کام عمران خان بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے اتنے پاپڑ بیلنے کی کیا ضرورت ہے۔
میرے جیسے بابے اب عمر کی اس سٹیج پر ہیں۔ جو اڑتی چڑیا کے پر بھی گن لیتے ہیں۔ ہمیں اچھی طرح اندازہ ہو چکا ہے۔ کہ کپتان نے ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملے پر دو ہفتوں تک جو بکھیڑا ڈالے رکھا تھا۔ اس کے بعد یہ بات یقینی ہو چکی ہے۔ کہ نومبر 2022 میں ہونے والی ایک اہم تعیناتی سے پہلے موصوف کا بوریا بستر گول کر دیا جائے گا۔ تاکہ نیا آنے والا وزیراعظم طاقت ور حلقوں کی منشا کے مطابق یہ تعیناتی کر سکے۔ کیونکہ اگر عمران خان ہی نومبر 2022 تک اپنے عہدے پر برقرار رہتے ہیں۔ تو اندیشہ ہے کہ وہ کوئی نیا کٹا بھی کھول سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ادارہ کسی بڑی مشکل میں پڑ سکتا ہے۔ لہذا نئے گیم پلان پر کام شروع ہو چکا ہے۔ پی ڈی ایم کا متحرک ہونا بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے نئے ڈی جی کے چارج سنبھالنے کے بعد ہواؤں کا رخ تیزی سے تبدیل ہو جائے۔
عمران خان اگر ایک جہاندیدہ سیاستدان ہوتے تو اس طرح کی حرکت کبھی نہ کرتے۔ خاص کر اس موقع پر جب فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے نے فوج میں تقرر اور تبادلوں کی پریس ریلیز جاری کردی تھی۔ وزیراعظم کی طرف سے جنرل ندیم انجم کی ڈی جی کی حیثیت سے تقرری کو دو بڑوں کی میٹنگ میں قبول کرنے کے بعد معاملے کو لٹکانے کی وجہ سے ایک صفحے کے بیانیے کو تحس نحس کر کے رکھ دیا ہے۔
عمران خان نے اس کھیل میں نہ صرف اپنی ساکھ گنوائی ہے۔ بلکہ جنرل فیض حمید کی پروفیشنل اپروچ کو بھی نقصان پہنچا دیا ہے۔ سول معاملات میں اگر کوئی تعیناتی کرنی ہو تب علم الاعداد سے مدد لی جا سکتی ہے۔ مگر فوج جیسے عظیم اور طاقتور ادارے کے معاملات اس طرح چلانا انتہائی نامناسب اور مضحکہ خیز بات تھی۔ محض کپتان کی ناتجربہ کاری اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے موجودہ حکومت کی کشتی طوفان میں گھر چکی ہے۔ اب اس کشتی کو بچانے والا بھی اپنی ساکھ کو سنبھالا دینے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔
پچھلے دنوں پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے اراکین پارلیمنٹ کو افغانستان اور خاص کر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے معاملے پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم صاحب حسب سابق اس بریفنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ شاید وہ اپوزیشن قائدین سے ہاتھ ملانے یا ان کی تجاویز اور اعتراضات سننے کے روادار نہیں تھے۔ مگر پارلیمانی روایات اور خاص کر اخلاقی طور پر خان صاحب کو بریفنگ میں ضرور شرکت کرنی چاہیے تھی۔
جس کا موقع گنوا کر انہوں نے نہ صرف اپنے منصب کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنے آپ سے مزید دور کر دیا ہے۔ ہوا کے رخ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے۔ کپتان کا جانا اب ٹھہر چکا ہے۔ کیوں کہ ان کی کوئی اور حماقت ملک کے لئے بھاری ثابت ہو سکتی ہے۔ وہ ملک کو کرکٹ ٹیم کی طرح ہینڈل کرنے کے خواہش مند تھے۔ مگر کب تک ان کی بچکانہ حرکتوں کو برداشت کیا جاتا۔
جنرل فیض حمید کی ٹرانسفر پر کپتان بری طرح ایکسپوز ہوچکے ہیں۔ بقول یوٹیوبرز کے وہ اب اپنی بقا کی لڑائی لڑنے میں مصروف ہیں۔ ان کا معیشت کی بہتری کے لئے متحرک ہونا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ وہ اب جان چکے ہیں۔ جس ادارے کے بل پر وہ چین کی نیند سوتے تھے۔ اب وہ دیگر آپشنز پر بڑی سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اسی لئے انہوں نے مہنگائی کو کم کرنے کے لئے اپنی کوششیں شروع کردی ہیں۔ مگر آثار یہی دکھائی دے رہے ہیں۔ اب بڑی دیر ہو چکی ہے۔


